Book Name:Ganon Kay 35 Kufriya Ashaar

ہوٹل میں   کھانے پینے کی ہرگز ترکیب نہیں   کرنی چاہئے ۔

فون کی میوزیکل ٹیونز سے توبہ کیجئے

    افسوس صدکروڑ افسوس ! آج کل مذہبی نظر آنے والے افراد کے موبائل فون میں   بھیمَعاذَاللّٰہعَزَّوَجَلَّاکثر میوزیکل ٹیون ہوتی ہے اور یہ ناجائز ہے ۔ جس کے فون میں   میوزیکل ٹیون ہو اُس کیلئے ضروری ہے کہ ابھی اور اِسی وقت توبہ بھی کرے اور ہاتھوں   ہاتھ اپنی اِس منحوس ٹیون کوہمیشہ کیلئے ختم کردے ۔  ورنہ جب جب یہ میوزیکل ٹیون بجے گی خود بھی سننے کی آفت میں   پڑے گا اور دوسرا مسلمان بھی اگر سننے سے بچنے کی کوشش نہیں   کریگا تو پھنسے گا ۔

   واقِعی حالات ناگُفتہ بہ ہیں   جو لوگ حُسّاس ہوتے ہیں   ان کیلئے موسیقی کے معاملہ میں   سخت امتحان کا دَور ہے  ۔ میں   ایک اسلامی بھائی کو جانتا ہوں   جس کا مکان بازار کے ساتھ ہونے کے سبب وقتاً فوقتاً موسیقی کے ساتھ گانوں   کی آوازیں   آتی رہتی ہیں   ، بے چارہ کبھی اِس کمرہ میں   پناہ لیتا ہے تو کبھی اُس کمرہ میں  ، پھر بھی آواز آتی ہے تو دروازے کِھڑکیاں  بند کرکے بچنے کی سعی کرتا ہے ۔ ایسوں   کا مذاق اڑانے کے بجائے ہر ایک مسلمان کو مُوسیقی کی آواز سے بچنے کی بھر پور کوشش کرکے اپنی آخِرت کیلئے بھلائی کا سامان کرنا چاہئے ۔ موسیقی کی آواز سے بچنے کیلئے ہیڈ فون بھی کار آمد ہے ، ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ضَرورتاً کانوں   میں   روئی یا فوم کے ٹکڑے رکھ دیئے جائیں   ۔ فوم کے ٹکڑے مختلف انداز ( یا مختلف ناموں   مَثَلاً  Foam Ear Plug) وغیرہ میں   مخصوص میڈیکل اسٹور سے بھی مل سکتے ہیں   ۔ بیان کردہ احتیاطوں   پر عمل کرنے کو میں   واجب نہیں   کہتا ۔ نیز موسیقی کی آواز آنے کی وجہ سے ا پنا گھر چھوڑکر بھاگنے یا بسوں   وغیرہ کا سفر ناجائز ہو نے کا حکم بھی نہیں   لگاتا کہ فی زمانہ اِس میں   شدید حرج ہے ۔  بس موسیقی کی آواز کو دل میں   بُرا جانتے ہوئے جس سے جس طرح بن پڑے بچنے کی کوشش کر کے ثواب کمائے ۔

گانوں   کے 35کُفریہ اشعار

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یاد رکھئے !فِلمیں   ڈِرامے دیکھنا اور گانے باجے سننا حرام اور جہنَّم میں   لے جانے والا کام ہے  ۔ افسوس ! اب تو فلمی گیت لکھنے اور گانے والے اتنے بے لگام ہو گئے ہیں  کہ انہوں  نے ربِّ کائنات، خالقِ ارض و سمٰوٰت عَزَّوَجَلَّ پر بھی اعتِراضات شُروع کر دیئے ہیں   ۔ اپنی دکانوں   اور ہوٹلوں   میں   گانے بجانے والوں  ، ا پنی بسوں   اورکاروں   میں   فلمی گیت چلانے والو ں  ، شادیوں   میں   ریکارڈنگ کر کے بستروں   پر سسکتے پڑوسی مریضوں   اور نیک ہمسا یو ں   کی آہیں  لینے والو ں  اوربے سوچے سمجھے گانے گُنگُنانے والو ں  کے لئے لمحۂ فکریہ ہے ۔  ذرا سوچئے تو سہی فلمی گانوں   میں   شیطٰن نے کیا کیا زہرگھول ڈالا ہے ! اور لوگوں   کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنَّمی اور ناری بنانے کیلئے کس قَدَر عیاّری و مکاّری کے ساتھ سازو آواز کے جادو کا جال بچھا ڈالا ہے ۔  میرا دل گھبراتا ہے ، زبان حیا سے لڑکھڑا تی ہے مگر ہمّت کر کے اُمّت ِمسلمہ کی بہتری کیلئے گانوں   میں   بو لے جانے والے 35 کُفریہ اَشعارنُمُونتًا پیش کرتا ہوں    :  ۔

(۱)

سِیپ کا موتی ہے تُو یا آسماں   کی دھول ہے

تُو ہے قدرت کا کرِشمہ یا خُدا کی بھول ہے

            اس شِعر میں   مَعاذَاللّٰہعَزَّوَجَلَّاللّٰہعَزَّوَجَلَّ   کو بھولنے والا مانا گیا ہے جو کہ صریح کفر ہے  ۔ اللّٰہعَزَّوَجَل  بھولنے سے پاک ہے ۔  چُنانچِہ پارہ16 سورۂ طٰہٰکی آیت نمبر52  میں   ارشاد ہوتا ہے :

 

لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘(۵۲)(پ ۱۶ طٰہٰ ۵۲ )

تَرْجَمَۂ کَنْزُالایمان : میرا رب (عَزَّوَجَلَّ )نہ بہکے نہ بُھولے  ۔ ‘‘

(۲)

دل میں   تجھے بٹھا کر کرلوں   گی بند آنکھیں

پوجا کروں   گی تیری دل میں   رہوں   گی تیرے

اِس میں   اپنے مجازی محبوب کی پوجا کرنے کے عزم کا اظہار ہے جو کہ کفر ہے ۔  

(۳)

ہا ئے ! تجھے چاہیں   گے

اپنا خدا بنائیں   گے

اس میں  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے سوا کسی اور کو خدا بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے جو کہ صَریح کفر ہے ۔

(۴)

دل میں   ہو تم آنکھوں   میں   تم بولو تمہیں   کیسے چاہوں  ؟

 



Total Pages: 9

Go To