Book Name:Sharah Shajra Shareef

اِتصال (یعنی سلسلہ کے ملنے)کی سندہے جس طرح حدیث کی اسنادیں ۔‘‘مزید لکھتے ہیں : شجرہ خوانی سے (یعنی شجرہ پڑھنے کے)متعدد فوائد ہیں :

( قوسین میں دیئے گئے الفاظ ادارے کی طرف سے تسہیل ووضاحت کی کوشش ہے ۔)

        اوّل :  رسولُ  اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک اپنے اتصال (یعنی سلسلہ کے ملنے)کی سند کاحفظ۔

       (یعنیشجرہ عالیہ بار بار پڑھنے سے نبی مکرّم ، نُورِ مجسم  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تک اپنے (سلسلۂ طریقت کے)اِتّصال(یعنی ملنے) کی سَنَد یاد ہوجاتی ہے ، جو یقینا سعادت ہے۔کیونکہ جب مرید کو یہ یاد رہے گا کہ میں نے جس مرشِد کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے، اُن کا سلسلہ اِن مشائخِ عِظام سے ہوتا ہوا نبیِ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک پہنچتا ہے، تو اس کے دل میں ’’ اپنے مشائخ‘‘ کی محبت مزید بڑھے گی اور صالحین سے محبت اُخروی نعمتوں کے حُصول کا ذریعہ ہے ۔حدیث پاک میں ہے : اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ یعنی آدمی اسی کے ساتھ ہوگاجس سے وہ محبت کرتا ہے ۔

(صحیح البخاری، کتاب الادب، الحدیث ۶۱۶۸، ج۴، ص۱۴۷))

        دُوُم : صالحین (یعنی نیک بندوں )کاذکرکہ مُوجِب نُزُولِ رحمت ( یعنی رَحمت کے نازل ہونے کا سبب) ہے۔

       (یعنی شجرہ شریف پڑھنے سے صالحین کا ذکر نصیب ہوتا ہے اور ذکرِ صالحین  رَحمت کے نازل ہونے کا سبب ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ’’نیک لوگوں کا ذکر  گناہوں کے لئے کفّارہ ہے۔‘‘(کشف الخفائ، الحدیث۱۳۴۳، ج۱، ص۳۷۱) ایک اور روایت میں ہے کہ نیک لوگوں کے تذکرے کے وقت (اللہ  تعالیٰ) کی رَحمت نازل ہوتی ہے۔(کشف الخفاء ، ج ۲، ص ۶۵)

       عارِف باللہ  سَیِّد عبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السّامیسبع سنابل میں فرماتے ہیں مشائخِ کرام رحمھم اللہ  کا ذکر سچے مریدوں کے ایمان کو تازہ کرتا ہے اور ان کے واقعات، مریدین کے ایمان پر تجلیاں ڈالتے ہیں ۔(سبع سنابل، ص۵۷) شَیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ اخبار الا خیار کے مقدمہ میں فرماتے ہیں کہ اللہ   تَعَالٰیکے برگزیدہ بندوں کا تذکرہ باعثِ رَحمت، قُربِ الہٰی ہے۔(اخبار الاخیار ، ص ۶))

     سِوُم : نام بنام اپنے آقایان نعمت  ( یعنی سلسلے کے مشائخ کرام رحمھم اللہ  )کو ایصال ثواب کہ ان کی بارگاہ سے موجبِ نظرعنایت (یعنی نظر کرم ہونے کا سبب) ہے۔

       (یعنی نام بنام اپنے  سلسلے کے مشائخ کرام رحمھم اللہ  کو ایصالِ ثواب کا موقع ملتا ہے اور یہ ان کی بارگاہ سے نظر کرم ہونے کا سبب ہے۔چنانچہ جب مرید شجرۂ عالیہ پابندی سے پڑھتا ہے۔ اور سلسلے کے بُزُرگوں کی ارواحِ مقدسہ کو ایصالِ ثواب بھی کرتا ہے۔ تو اس سے ان بُزُرگوں کی ارواحِ مقدسہ خوش ہوتی ہیں ۔ اور ایصال ثواب کرنے والے مرید پر خُصوصی نظرِ عنایت کی جاتی ہے۔ جس سے مرید کو دینی ودنیوی بیشمار بَرَکتیں حاصل ہوتی ہیں ۔)

       چہارم : جب یہ ( یعنی شَجَرَہ عالیہ پڑھنے والا) اوقاتِ سلامت (یعنی راحت) میں ان کا ( یعنی اپنے سلسلے کے مشائخ کرام رحمھم اللہ  کا)نام لیوا رہے گا۔ تو وہ اوقاتِ مصیبت (یعنی کسی بھی پریشانی اور مشکل کے وقت) میں اسکے دستگیر ہونگے (یعنی اسکی مدد فرمائیں گے) ۔ رسول  اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : تعرّف الی  اﷲ  فی الرخاء یعرفک فی الشدۃ۔ رواہ ابوالقاسم  بن بشران فی امالیہ عن ابی ھریرۃ وغیرہ عن ابن عباس رضی  اﷲ  تعالٰی  عنھم بسند حسن۔ تُوخوشحالی میںاللہ  تَعَالٰی کوپہچان وہ مصیبت میں تجھ پرنظرکرم فرمائے گا۔ اس کو ابوالقاسم بن بشران نے امالی میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے اوراسی کے غیرنے حضرت ابن عباس رضیاللہ  تَعَالٰی عنہما سے سندحسن کے ساتھ روایت کیا۔(الجامع الصغیر  مع فیض القدیر ، حرف التا ء ، رقم ۳۳۱۷ ، ج۳ ص ۳۳۱)و اﷲ  تعالٰی اعلم

(یعنی جب شجرہ عالیہ پڑھنے والاخوشحالی میں اپنے سلسلے کے مشائخ کرام رحمھم اللہ  کانام لیوا رہے گا۔ تو وہ اوقاتِ مصیبت میں (یعنی کسی بھی پریشانی اور مشکل کے وقت)  اسکے دستگیر ہونگے (یعنی اسکی مدد فرمائیں گے) ۔ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  )(فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲۶، ص ۵۹۰، ۵۹۱)

        مزید یہ کہ شَجَرہ شریف میں دئیے ہوئے’’اَور ادووظائف ‘‘اور مخصوص ہدایات پڑھنے سے مرید کو اپنا وہ عہد بھی یاد رہے گا، جو اس نے مرشِدِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر کیا تھا، نیز اَور ادو وظائف پڑھنے کی بھی ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  برکتیں حاصل ہوں گی ۔   

شجرۂ قادریہ کی بارگاہِ رسالت میں مقبولیت

        بابُ المدینہ(کراچی) کے علاقے ملیر ہالٹ کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے : ۲۹ رمضان المبارک ۱۴۲۸ھ کی بات ہے ، عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی میں اجتماعی اعتکاف کے پر کیف مناظر تھے اورنمازِ فجر کے بعد معتکفین اسلامی بھائی شیخ طریقت امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے دیدار کی برکتیں لُوٹ رہے تھے ۔اعتکاف کے جدول کے مطابق شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ پڑھاجانے لگا تو میں پہلی صف میں آکر بیٹھ گیا ۔سب اسلامی بھائی مل کر بلند آواز سے شجرہ عالیۂ قادریہ رضویہ کے منظوم دعائیہ اشعار پڑھ رہے تھے جب سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکرمبارک آیا تو میں نے اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے۔یکایک مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی، سر کی آنکھیں کیا بند ہوئیں میرے دل کی آنکھیں کھل گئیں ۔ میں نے دیکھا کہ امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہمراہ شجرۂ شریف پڑھنے والے تمام اسلامی بھائی سنہری جالیوں کے روبرو حاضر ہیں ۔ ہمارے مَدَنی آقا ، دوعالم کے داتا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  وہاں اپنے عشاق کو شربتِ دیدار پلا رہے ہیں ۔حاضرین شجرۂ عالیہ کے دُعائیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور ہمارے میٹھے میٹھے آقا