Book Name:Sharah Shajra Shareef

ہونے والے اسلامی بہنوں کے سنتوں بھرے ہفتہ وار اجتماع (جو کہ ہر بدھ شریف کو باب المدینہ (کراچی) کے تقریبا تمام علاقوں میں ہوا کرتا ہے )میں شریک ہوئی ۔میں نے وہاں  شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ کا پوسٹر کارڈ دیکھا تو سوچاکہ اسے اپنے گھر میں آویزاں کرتی ہوں شاید T.Vسے بچنے کی کوئی صورت نکل آئے ۔چُنانچہ میں  شجرۂ عالیہ اپنے گھر لے آئی اور ایک دیوار پر سجا دیا ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ!شجرہ عطاریہ قادریہ رضویہ عطاریہ دیوار پرآویزاں کرنے کی برکت سے میرے بچوں کے ابو نے گھر میں T.Vلانے کا ارادہ خُود ہی ترک کردیا اور یوں ہمارا گھر T.Vکا شکار ہونے سے بچ گیا ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(46)ڈر سے نجات مل گئی

        بابُ المدینہ (کراچی)کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میرے بچے رات کو ایک دم چیخ مار کر اٹھ جاتے اور ڈرکے مارے رونے لگتے ۔مجھے بھی ان کے ساتھ جاگنا پڑتا جس سے میری نیند پوری نہیں ہوپاتی تھی ۔اس صورتِ حال سے میں بہت پریشان تھی ۔کئی جگہ سے علاج کروایا مگر ڈرنے کایہ سلسلہ ختم نہ ہوا ۔ ایک مرتبہ آدھی رات کو اچانک میری مدنی منی نے ایک خوفناک چیخ ماری اور اٹھ کر بیٹھ گئی ۔چیخ اس قدر خوفناک تھی کہ میں بھی خوفزدہ ہوگئی ۔مدنی منی کے چہرہ خوف سے پیلا ہورہا تھا ۔میں شدید پریشان تھی کہ اب کیا کروں ؟ اسی پریشانی کے عالم میں مجھے مکتبۃ المدینہ سے شائع ہونے والے تعویذاتِ عطاریہ کی بہاروں پر مشتمل رسالے’’ خوفناک بلا‘‘ میں لکھی جانے والی ایک بہار کا خیال آیا کہ کس طرح ایک اسلامی بھائی امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘ اپنے پاس رکھنے کی برکت سے خوفناک بلا سے محفوظ رہے۔اس خیال کا آنا تھا کہ میں نے اسی وقت شجرہ عطاریہ نکالااوراپنی مدنی منی کے سرہانے رکھ دیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  شجرہ ٔعطاریہ سرہانے رکھنے کی برکت سے میری مدنی منی کی طبیعت بحال ہونے لگی اور وہ بقیہ رات سکون کی نیند سوئی۔شجرۂ عطاریہ کی یہ برکت دیکھ کر میں نے باقاعدگی سے شجرہ عطاریہ سرہانے رکھنا شروع کردیا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  تادمِ تحریر کبھی میرے بچے نیند میں نہیں ڈرے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(47)سکون کی نیند سویا

        بابُ الاسلام (سندھ) کے شہر کوٹ عطاری(کوٹری)کے مقیم اسلامی بھائی (جو مدرسۃ المدینہ’’خدا کی بستی‘‘ میں مُدرّس ہیں )کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ میں حسب معمول طلبہ کو قراٰن پاک پڑھانے میں مصروف تھا کہ ایک اسلامی بھائی (عمر تقریباً 65سال)میرے پاس آئے جن کے چہرے پر آثارِ غم نمایاں تھے ۔ انہوں نے مجھ سے اپنی پریشانی کچھ اس طرح سے بیان کی کہ ہم حیدرآباد (سندھ)میں خوش وخُرم زندگی بسر کررہے تھے، خاندان والوں کی آپس میں محبت مثالی تھی ۔مگر ہمارے ہنستے بستے خاندان کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ زمین کے تنازع کی وجہ سے آپس  میں جھگڑے شروع ہوگئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے دکھائی دینے لگے ۔ میری جان لینے کی بھی کئی مرتبہ کوشش کی گئی مگر مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ   نے بچا لیا ۔ سوتے میں کوئی ان دیکھی قوت میرا بازومروڑ کر مجھے چارپائی سے نیچے گرادیتی تو کبھی میری چارپائی ہوا میں معلق ہوجاتی ۔ ایک بار تو کسی کے چھوئے بغیر پانی کا مٹکا دوٹکڑے ہوگیا جس سے ہم اور زیادہ خوف زدہ رہنے لگے ۔انہی پریشانیوں میں 15سال کا طویل عرصہ گزر گیا ، علاج کے لئے لاکھوں روپے ڈاکٹروں اور عاملوں کی نذر کئے مگر کوئی حل نہ نکل سکا بلکہ حالات مزید بگڑ گئے ۔میری بیوی روٹھ کر میکے میں جابیٹھی ، میں نعمت ِ اولاد سے بھی محروم تھا ۔ میری توراتوں کی نیند اڑگئی۔پہلے پہل تو حیدر آباد میں ہی تنہائی کی زندگی بسر کرتا رہا پھر پریشان ہوکر ’’خدا کی بستی ‘‘ میں مکان لیا ہے ۔یہاں فیضانِ مدینہ سے تعویذات عطّاریہ لئے ہیں جس سے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  کافی فرق ہے مگر رات میں دئیے کی مانند کوئی چیز جلتی ہوئی نظر آتی ہے ۔آپ دعا کیجئے کہ میری بے خوابی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے ۔ ان کی درد بھری داستان سن کر میں نے تسلی دی اور پوچھا : آپ کس کے مُرید ہیں ؟فرمانے لگے : میں مُرید تو کسی اور پیر صاحب کا ہوں مگر میں  امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے طالب ہوں ۔میں نے اپنی جیب سے امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطاکردہ رسالہ’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘ نکالا اور انہیں پیش کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ آج رات اسے اپنے سرہانے رکھ لیجئے گا ، ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّفائدہ ہوگا ۔انہوں نے شجرہ عطاریہ کا رسالہ لیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے الوداعی سلام کے بعد رُخصت ہوگئے ۔

        دوسرے دن جب میں مدرسے پہنچا تو مجھے وہی اسلامی بھائی دوبارہ دکھائی دئیے ۔اب کی باروہ بہت ہشاش بشاش دکھائی دے رہے تھے ۔انہوں نے بتایا کہ میں پہلے بھی آیا تھا مگر آپ سے ملاقات نہ ہوسکی ، اللہ   تَعَالٰیآپ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ سرہانے رکھنے کی برکت سے میں کم وبیش 15سال بعد سُکون کی نیند سویا ہوں ۔آج مجھے کوئی جلتا ہوا دِیا بھی نظر نہیں آیا۔‘‘ تادمِ تحریر دوسال کا عرصہ ہوچکا ہے مذکورہ اسلامی بھائی کی پریشانیاں بتدریج دور ہوچکی ہیں ، ان کی زوجہ پھر سے ان کے ساتھ رہنے لگیں اور دیگر روحانی مسائل بھی حل ہوگئے۔ یوں تعویذات عطاریہ اور شجرہ عالیہ کی برکت سے ان کی خزاں رسیدہ زندگی میں خوشیوں کی بہار آگئی ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَلٰی ذٰلِک

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

حُسنِ اِعْتِقاد کی بَہَاریں

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے مُلاحظہ فرمایا کہ شجرہ قادریہ رضویہ عطّاریہ پڑھنے اور اپنے پاس تحریری صورت میں رکھنے کی کیسی برکتیں ہیں ۔مگر یاد رکھئے کہ یہ سب حُسنِ اعتقاد کی بَہاریں ہیں ، اگر اعْتِقادْ مُتَزَلْزِل ہو تو اِس طرح کے نَتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ فیض پانے کیلئے اِعتِقاد پکّا ہونا چاہئے ، ڈِھلمِل یقین( یعنی کچّے یقین ) والا نہ ہو، مَثَلاً سوچتا ہو کہ فُلاں بُزُرگ سے یا فُلاں ولیُّ اللہ  کے مزار پر حاضِری دینے سے نہ جانے فائدہ ہو گا یا نہیں ہو گا وغیرہ۔ ایسا شخص فیض نہیں پا سکتا ۔ نیز فیض ملنے میں وقت کی کوئی قید نہیں ہو تی اپنا اپنا مقدرہو تا ہے کسی کو فور اًفیض مل جاتا ہے کسی کا



Total Pages: 64

Go To