Book Name:Sharah Shajra Shareef

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(42)پر اَسرار بچی

        باب المدینہ (کراچی)کے ایک اسلامی بھائی کا حلفیہ بیان کچھ یوں ہے کہ میرے گھر والے ایک شادی میں شرکت کے بعد رات تقریباً 2بجے گھر واپس آرہے تھے ۔ جب وہ ایک ویران جگہ سے گزررہے تھے تو میری بہن نے وہاں موجود کچرے کے ڈھیر سے ایک پُراسرار بچی کو نکل کر اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا ۔ میری بہن خوفزدہ ہوکر پیچھے ہٹی مگر وہ پر اسرار بچی قریب آکر بہن سے ٹکرائی اور غائب ہوگئی۔ گھر آتے ہی بہن کی حالت خراب ہونا شروع ہوگئی اوروہ بدلی ہوئی آواز میں عجیب عجیب باتیں کرنے لگی ۔بقول اس کے اسے سینکڑوں جنات نظر آتے ۔ کئی عاملین سے علاج کروایاگیا مگر طبیعت بگڑتی ہی چلی گئی۔ پریشان ہوکر سسرال والے بہن کو میرے گھر چھوڑ گئے۔ میں نے بھی جگہ جگہ علاج کیلئے عاملین سے رابطہ کیا مگر بہن کی طبیعت صحیح ہونا تو ایک طرف رہا خودمیری اہلیہ بھی اس کی لپیٹ میں آگئی ۔ میں انتہائی پریشان تھا کہ کیا کروں ۔

         ایک دن میری ساس ملنے کیلئے آئی اور اپنی بیٹی کے ساتھ کمرے میں سوگئی ۔ صبح جب میں جاگا تو اہلیہ کی طبیعت خراب تھی اور وہ بار بار ہنس رہی تھی ۔گھر والے جب میری ساس کوبیدار کرنے کے لئے کمرے میں پہنچے تو وہ دم توڑ چکی تھیں ۔اس واقعے کے بعد میں نے مجلس مکتوبات و تعویذات عطاریہ کے بستے سے رابطہ کرکے کافی عرصہ علاج کروایا اور شجرہ عالیہ عطاریہ پڑھنے کا بھی معمول رکھا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّاسکی برکت سے ان آفتوں اور بلا ؤں سے ہمیں نَجَات مل گئی اور اب گھر میں سکون ہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(43)ڈرنا چھوڑ د یا

         ایک اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے کہ تقریباً دس سال پہلے (1997ء) کی بات ہے ، لیاقت آباد(باب المدینہ کراچی)کی فردوس مارکیٹ میں ایک اسلامی بھائی کی فوم کے گدے اور لحاف وغیرہ کی دُکان تھی ۔وہ رات گئے تقریباً 00: 2بجے تک دُکان کھلی رکھتے ۔ انہی دنوں فائرنگ اور قتل وغارت کے واقعات میں ایک دم اضافہ ہوگیا اور ہر طرف خوف وہراس پھیل گیا ۔ لوگ خصوصاً رات کے وقت گھروں سے باہر نکلنے سے کترانے لگے ۔یہ اسلامی بھائی تو اس قدر گھبرائے کہ مارے خوف کے (فیڈرل بی ایریا میں واقع)اپنے چچا کے گھر منتقل ہوگئے اوردُکان پر بیٹھنا چھوڑ دیا۔ ان کے بھائی اور والد صاحب انہیں لینے کے لئے جاتے تو یہ خوف زدہ ہوکر چِلانے لگتے : ’’وہ مجھے مار ڈالیں گے ، وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔‘‘گھر والے پوچھتے : ’’کون مارڈالیں گے ؟‘‘تو وہ کوئی جواب دینے کے بجائے یہی کہتے رہتے ۔یوں وہ نفسیاتی مریض بن چکے تھے جس سے ان کے گھر والے سخت پریشان تھے ۔ انہوں نے علاقے کے ایک اسلامی بھائی کو سارا ماجرا سنایا اور درخواست کی کہ وہ آپ سے بڑی محبت کرتے ہیں لہٰذا آپ ہی اُن کو سمجھائیے، ہوسکتا ہے آپ کی بات مان جائیں ۔ چُنانچہ وہ اسلامی بھائی انہیں سمجھانے پہنچے تو وہ حسبِ معمول خوف سے چیخنے چلانے لگے :  ’’وہ مجھے مار ڈالیں گے ، وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔‘‘۔اسلامی بھائی نے ان کو مشورہ دیا کہ اپنے پیرو مرشد امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘کو اپنے سینے سے لگا کر رکھئے ، ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کچھ نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بات مان لی اور واپس آگئے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   شجرہ عالیہ کو سینے سے لگائے رکھنے کی برکت سے ان کا خوف ایسا دُور ہوا کہ فائرنگ کے واقعات کے باوجود وہ پھر سے رات دو دو بجے تک دکان پر بیٹھنے لگے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(44)مَدَ نی منے نے رونا چھوڑ د یا

        ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ  (بالِغان)میں شرکت کے بعد اپنے گھر کی طرف روانہ ہونے لگا تو مجھے کسی نے آواز دی ۔مُڑ کر دیکھا تو مسجد کے ایک نمازی اسلامی بھائی نظر آئے جو کافی پریشان دکھائی دیتے تھے ۔ انہوں نے مجھ سے اپنی پریشانی کچھ یوں بیان کی کہ ’’میرا مَدَنی منّا تقریباً 25 گھنٹے سے مسلسل روئے جارہا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے ایک خوفناک عورت دکھائی دیتی ہے جو مجھے اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہے ۔سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں ؟‘‘میں نے انہیں تسلی دی اورامیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا عطاکردہ رسالہ ’’شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘ مَدَنی منّے کی جیب میں رکھنے کا مشورہ دیا ۔دوسرے دن جب صبح نمازِ فجر کے بعد مسجد میں فکرِ مدینہ کا حلقہ لگا تومیری نظر اس اسلامی بھائی پر پڑی ۔میں نے ان سے مَدَنی منے کی خیریت دریافت کی ۔ انہوں نے خوشی کے عالم میں بتایا :  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَل جیسے ہی میں نے شجرہ ٔ قادریہ رضویہ عطاریہ کا رسالہ اپنے بیٹے کی جیب میں رکھا حیرت انگیز طور پراس نے رونا بند کردیا ۔اس کی گھبراہٹ اور خوف میں کمی آئی اور وہ تقریباً 30منٹ کے اندر اندرسکون سے سو  گیا ۔ اب اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ  اس کی طبیعت بہت بہتر ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(45)T.V خریدنے سے باز آگئے

            بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک عطّاریہ اسلامی بہن کا بیان ہے :  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہونے کی برکت سے ہمارا گھر T.V کی تباہ کاریوں سے محفوظ تھا ۔گھر بھر میں سنّتوں کی مَدَنی بہاریں تھیں ۔ اچانک میرے بچوں کے ابو کو بیٹھے بٹھائے نہ جانے کیا سُوجھی کہ انہوں نے T.Vخریدنے کا ارادہ کر لیا۔ جب  مجھے پتا چلا تو میں بہت پریشان ہوئی کہ تباہی کا یہ آلہ (یعنیT.V)نہ جانے کیا گل کھلائے ۔ میں نے انہیں اس ارادے سے باز رکھنے کی اپنی سی کوششیں کیں مگر ناکام رہی ۔ میری تشویش میں اور اضافہ ہوگیا ۔ اسی دوران میں دعوتِ اسلامی کے تحت



Total Pages: 64

Go To