Book Name:Sharah Shajra Shareef

       پھر میں نے اپنے پیر ومُرشِد شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے وسیلے سے دعا مانگی کہ’’ یارب عزوجل ! میری مَدَنی مُنّی کو شفا عطا فرما۔‘‘دعا کے بعد جب میں مسجد سے نکلا تو مجھے ایسا لگا کہ ربّ  عَزَّوَجَلَّ    کی رحمتوں نے میری مَدَنی مُنّی کو ڈھانپ لیا ہے اور ایسا ہی ہوا ڈاکٹروں کی توقع کے برعکس کچھ ہی دیر میں میری مَدَنی مُنّی نے آنکھیں کھولدیں اور یوں ہنسنے مُسکرانے لگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا ۔بس ذرا سی نقاہت نظر آرہی تھی ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ    دوسرے ہی دن مَدَنی مُنّی اسپتال سے گھر واپس آگئی ۔ تادمِ تحریر ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرچکا ہے ، اُس کی طبیعت دوبارہ خراب نہیں ہوئی بلکہ اس کی صحت پہلے سے بہتر نظر آتی ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(36)خوفناک بَلا

         ایک اسلامی بھائی کا حلفیہ بیان کچھ یوں ہے کہ ایک رات میں اپنی گاڑی پر قدرے سنسان علاقے سے گزررہا تھا۔ایک چھوٹے سے پل پر سے گزرتے ہوئے اچانک ایسا لگا جیسے کوئی بہت زیادہ وزنی چیز گاڑی پر لاد دی گئی ہو۔ فل اسپیڈ دینے کے باوجود گاڑی بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔ کسی نہ کسی طرح گھرپہنچ کر جیسے ہی گاڑی سے اترا تو مجھے اپنے کندھوں پر کسی ان دیکھی شئے کا وزن محسوس ہوا۔ جیسے تیسے میں نے کمرے میں پہنچ کر دروازہ بند کیا اور بستر پر جاگرا۔ رات کے کم وبیش 30: 1بجے کا وقت تھاکہ میری آنکھ کھلی ۔مجھ پر ایک عجیب خوف طاری تھا۔ بہرحال میں ہمت کرکے واش روم جانے کیلئے اٹھا، تو کسی ان دیکھی طاقت نے میرا ہاتھ موڑ کر کمر پر لگا دیا۔ میری چیخ نکل گئی ۔ اس ان دیکھی شے نے ساری رات مجھے اذیت میں مبتلا رکھا۔ کبھی میری ٹانگ موڑ دی جاتی تو کبھی اٹھا کر پٹخ دیا جاتا۔ میں خوف و تکلیف میں چلاتا اور گھر والوں کو بلاتا رہامگر حیرت کی بات یہ تھی کہ گھر والوں کو میری آواز نہیں پہنچ رہی تھی۔اذان ِفجر ہونے پر وہ نادیدہ قوت چلی گئی۔میرا پورا جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔

       صبح اس خیال سے گھر میں کچھ نہ بتایاکہ خوامخواہ پریشان ہوں گے ۔گلی میں رہنے والے ایک باریش نمازی شخص کے (جو دم وغیرہ کرتے تھے )پاس پہنچا۔ انہوں نے استخارہ کرکے بتایا کہ سخت جان لیوا چیز تمھارے ساتھ ہے۔ لگتا ہے کہ تم کسی کامل پیر کے مرید ہو اس لئے جان بچ گئی ۔ اس کا علاج میرے بس میں نہیں ہے۔دوسری رات پھر اسی طرح 2 : 00 بجے کے قریب کسی نادیدہ قوت نے نیند کی حالت میں بسترسے اٹھاکر نیچے پھینک دیا اورساری رات مجھے اذیت دی جاتی رہی۔ مدد کیلئے پکارتا رہامگر بے سُود۔دن کے وقت میں نے قریبی مزار پر حاضری دی اور آنکھیں بند کرکے عرض کی : ’’حضور! میرے مرشد کا واسطہ !کم از کم اتنا تو ہو کہ جو نادیدہ قوت مجھے تکلیف دیتی ہے نظر آئے۔‘‘ یہ عرض کرکے جیسے ہی آنکھیں کھولیں تو برابر میں بھیانک چہرے والی ایک خوفناک بلا کھڑی دکھائی دی ۔ جس کے دانت سینے تک نکلے ہوئے تھے اورسر چھت کو چھو رہا تھا۔ اس کا چہرہ بے حد سیاہ تھا ۔وہ بڑی بڑی سرخ آنکھیں مجھے گھوررہی تھیں ۔میں گھبرا کر وہاں سے چل دیا تو وہ بلا بھی میرے ساتھ ہولی۔ باہر آکر جب میں نے مزار کے احاطے میں نگاہ دوڑائی تومجھے عجیب الخلقت مخلوق دکھائی دی جن میں بچے بھی تھے اورلمبے قد والے مردبھی جن کے بال گھٹنوں تک اور چہرے انسانوں سے مختلف تھے۔ اب چونکہ وہ نادیدہ قوت ظاہر ہوچکی تھی۔ لہٰذا سامنے آکر میری پٹائی کیا کرتی ۔

         ایک صبح میں نے سبز عمامہ باندھے ہوئے اسلامی بھائی کو یہ تمام معاملہ بتایا تو انہوں نے پوچھا : ’’ تم اپنے پیرومرشد شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ شجرہ شریف میں سے اورادو وظائف پڑھتے ہو؟ ‘‘میں نے عرض کی : ’’ پڑھنا تو دور کی بات، میرے پاس تو شجرہ بھی نہیں ہے۔‘‘انہوں نے مجھے شجرہ عطاریہ دیا  اورتاکید کی کہ اسے اپنے پاس رکھئے اور اس میں دئیے گئے اورادو وظائف پڑھنے کا معمول بھی بنالیجئے اور فیضان مدینہ سے مجلس مکتوبات تعویذات عطاریہ کے مکتب سے تعویذات بھی لیجئے، ان شاء  اﷲ عزوجل اس خوفناک بلا سے نجات مل جائے گی۔

اس رات جب میں سویا تو شجرہ عطاریہ میری جیب میں تھا۔عجیب قسم کی پراَسرار آوازسے میری آنکھ کھلی تودیکھا کہ وہ بھیانک بلا کمرے میں کھڑی ہے۔میں چونکہ اب عادی ہوچکا تھا، لہٰذا خوف میں کمی آگئی تھی۔میں نے محسوس کیا  آج وہ مجھ سے دور دور ہے اور قریب آنے سے کترا رہی ہے۔ وہ بلا دور سے ہی بھیانک آوازمیں کہنے لگی : ’’تمہاری جیب میں کیا ہے؟ اسکو نکال دو میں تجھے کچھ نہیں کہوں گی۔‘‘ اب مجھ پر انکشاف ہوا کہ میری جیب میں شجرہ عطاریہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس بلا کو میرے قریب آنے کی ہمت نہیں ہورہی ۔ ساری رات وہ بلادور دور کمرے میں ٹہلتی رہی اور جیب سے شجرہ عطاریہ نکالنے کا مشورہ دیتی رہی۔رات میں سوتونہ سکا مگر اس کی اذیت سے بہرحال محفوظ رہا۔

       دوسرے دن فیضان مدینہ میں مجلس مکتوبات وتعویذات عطاریہ کے مکتب سے تعویذات لئے اورلاکرایک تعویذ کمرے میں لٹکا دیا۔الحمد ﷲعزوجل تعویذ لٹکانے کی برکت سے اس بھیانک بلا کاکمرے میں داخلہ بھی بند ہوگیا ۔چند دن مختلف روپ میں آکر باہر دالان سے کبھی کھڑکی سے، آواز دیتی رہی : تعویذ ہٹادے… تیرے بہت کام آؤنگی… مجھ سے دوستی کرلے…تجھے اب نہیں ماروں گی۔وغیرہ وغیرہ‘‘ اس کے بعد میں نے باہر بھی تعویذات لٹکادیئے اور خود بھی تعویذ پہن لیا کاٹ کا پانی بھی پیتا رہا۔الحمدﷲعزوجل کچھ ہی عرصے میں شجرۂ عطاریہ اور تعویذاتِ عطاریہ کی برکت سے اس خوفناک بلا سے نجات مل گئی۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(37)ہوش میں آگئیں

            بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کچھ یوں بیان کرتی ہیں کہ میں نے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے  مکتبۃ المدینہ سے شائع ہونے والے تعویذات عطاریہ کی بہاروں پر مشتمل رسالے’’ خوفناک بلا‘‘ میں امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالہ’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘ اپنے پاس رکھنے کی برکتیں پڑھیں تو میں نے بھی شجرۂ عطاریہ پڑھنے اور اپنے پاس رکھنے کا معمول بنا لیا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّمجھے شجرہ عطاریہ پڑھنے اور پاس رکھنے کی بدولت خوب خوب برکتیں ملیں ۔جس کی ایک برکت یوں بھی ظاہر ہوئی کہ ہمارے علاقے کی ایک اسلامی بہن پر جنات کے اثر ات تھے۔ ایک دن اچانک انکی طبیعت بگڑی اور ان پر بے ہوشی کی کیفیت طاری ہو گئی ۔ان کو ہوش میں لانے کے لئے پانی کے چھینٹے مارے گئے مگر



Total Pages: 64

Go To