Book Name:Sharah Shajra Shareef

الْعَالِیَہکے دامن سے وابستگی کی برکت سے میں نماز تو پڑھنے لگا تھا مگر ثواب کمانے کے دیگر ذرائع مثلاًدرسِ فیضانِ سنّت ، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت اور دیگرمَدَنی کاموں سے محروم تھا ۔نفس وشیطان مجھے ثواب جاریہ کے ان عظیم کاموں کی طرف آنے ہی نہیں دیتے تھے ۔مجھے ڈر تھا کہ کہیں میں اس مَدَنی ماحول سے دُور ہو کر پھر سے غفلت کا شکار نہ ہوجاؤں ۔ ایک اسلامی بھائی سے مُلاقات ہوئی تو میں نے اُن سے اپنی پریشانی کا تذکرہ کیا ۔انہوں نے مجھے امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘سے شجرہ عالیہ پڑھنے کا مشورہ دیا۔میں نے ایسا ہی کیا ۔تین یا چار دن ہی گزرے ہوں گے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ    میرا دل نیکیوں کی طرف مائل ہوگیا اور میں نے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام بھی کرنا شروع کردیا ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(33)دل سُتھرا  ہوگیا

        بابُ المدینہ(کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے :  میں نے اپنے علاقے کے ایک اسلامی بھائی (جو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ نہیں تھے ) کو نَماز کی دعوت پیش کی تو انہوں نے اپنی حالتِ زار کچھ اس طرح بیان کی : ’’آہ ! نماز تو دُور کی بات ، میں تو غسلِ جنابت تک میں ایسی سستی کرتا ہوں کہ کئی کئی دن ناپاکی کی حالت میں گزر جاتے ہیں ، میں کیا کروں میرا دل ہی اس معنوی گندگی سے صفائی کی طرف مائل نہیں ہوتا ۔‘‘ میں نے ان کی خیرخواہی کرتے ہوئے عرض کی :  ’’آپ ہمت رکھئے اورامیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالے ’’شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘سے شجرۂ عالیہ بالخصوص یہ شعرکثرت پڑھا کریں :

دل کو اچھا تَن کوسُتھر ا جان کو پُر نور کر

            اچھے  پیارے شَمْسِ دِیں بَدْرُالْعُلیٰ کے واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

انہوں نے اس پر عمل کی نیت کر لی ۔چند دن کے بعد جب ان سے مُلاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ شجرۂ عالیہ کی برکت سے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   میرا دل نیکیوں کی طرف مائل ہوگیا ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(34)گھریلومسائل حل ہوگئے

        بابُ المدینہ(کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے :  میں چند گھریلو مسائل کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت کا شِکار تھا ۔اس پریشانی سے نجات پانے کے لئے میں ایک عامل کے پاس جاپہنچا ۔ اس نے مجھے اپنی چکنی چپڑی باتوں میں اُلجھا کر 10,000(دس ہزار)روپے ہتھیالئے اور مجھے کچھ پڑھنے کے لئے کہا۔ میں نے حسبِ ہدایت عمل شروع کردیا ۔مسائل تو کیا حل ہونے تھے ، میری اپنی طبیعت خراب رہنے لگی ۔سر درد سے دُکھتا اور جسم بخار میں جلتا رہتا ۔ اس دوہری مصیبت سے میرے اوسان خطا ہوگئے ۔کچھ سوجھائی نہ دیتا تھا ۔میں نے اپنا مسئلہ ایک اسلامی بھائی سے بیان کیا تو انہوں نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا : آپ  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ    امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ میں بیعت ہیں ۔آپ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘سے شجرۂ عالیہپڑھنے کا معمول کیوں نہیں بنا لیتے ۔‘‘ اور خصوصاًمجھے یہ شعر بار بار پڑھنے کا مشورہ دیا :

مشکلیں حل کر شہ مُشکل کُشا  کے واسِطے  (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

کر  بَلائیں رَد شہیدِ کربَلا   کے واسِطے     (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

میں نے شجرۂ عالیہ پڑھنا شروع کردیا اور ہر نماز کے بعد مذکورہ شعر پڑھ پڑھ کر اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں پریشانیوں سے چھٹکارے کے لئے دُعا مانگنے لگا ۔دوسرے ہی دن کوئی دوائی استعمال کئے بغیر حیرت انگیز طور پر میراسردرد اور بخار جاتا رہا اورمیری طبیعت بحال ہونے لگی اور بتدریج میرے گھریلومسائل بھی حل ہوگئے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(35)مَدَنی مُنّی صحت یاب ہوگئی

         باب المدینہ(کراچی ) کے ایک مَدَنی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میری اڑھائی سالہ مَدَنی مُنّی کو اچانک فِٹس Fitsکا دورہ پڑا (جس میں مریض کے ہاتھ پاؤں اور قوتِ حس کام کرنا چھوڑ دیتی ہے )۔اسے فوراً اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا گیا۔ میں بے حد پریشان تھا ، مَدَنی مُنّی کی امّی تو مسلسل روئے جارہی تھی کہ شاید اب میری بیٹی جانبر نہ ہوسکے ۔ اسی دوران میں عصر کی نماز پڑھنے قریبی مسجد میں گیا ۔ نماز کے بعد میں نے رو رو کر شجرہ شریف کے یہ دعائیہ اشعار پڑھے ؛

؎ یا الہٰی رَحم فرما مصطفی   کے واسِطے  (عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)

یا رسولَ اللہ    کرم کیجیے خدا کے واسِطے(عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)

؎ مشکلیں حل کر شہ مُشکل کُشا  کے واسِطے  (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

کر بلائیں رَد شہیدِ کربَلا   کے واسِطے     (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

 



Total Pages: 64

Go To