Book Name:Sharah Shajra Shareef

مشکلیں حل کر شہ مُشکل کُشا  کے واسِطے  (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

کر  بَلائیں رَد شہیدِ کربَلا   کے واسِطے     (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

تو  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   اس کی برکت سے سارا سبق بالکل صحیح سنُادیتی ہوں اور میری معلمہ کو بھی مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوتی ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(27) مَدَنی ماحول میں استقامت مل گئی

        بابُ المدینہ(کراچی) کے ایک اسلامی بھائی (جو دعوتِ اسلامی کی مجلس مکتوبات وتعویذات کے ذمہ دار بھی ہیں )کا بیان کچھ یوں ہے : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کا کروڑ ہاکروڑ احسان کہ مجھے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول ملااور شیخِ طریقت امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے شرفِ بیعت نصیب ہوا ۔مگر میرے دل کو یہ دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ استقامت نہ ملنے کی وجہ سے میں دعوتِ اسلامی کے اس سنّتوں بھرے مَدَنی ماحول سے دُور ہوجاؤں ۔ میں اس عظیم نعمت کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں دعائے استقامت کے لئے رسالہ ’’شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ ‘‘میں دئیے گئے شجرہ عالیہ کے اس شعر کو خصوصیت کے ساتھ پڑھنا شروع کیا :

نَصرا َبی  صالح کا صدْقہ صالح و منصور رکھ   (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

دے  حیات ِ دین مُحْیِ جانْفِزا کے واسِطے   (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   اس دعائیہ شعر کی بَرَکت سے شیطانی وسوسوں سے نجات مل گئی اورمجھے ایسی استقامت نصیب ہوئی کہ تادم بیان تقریباً 12سال ہوگئے ، میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ رہتے ہوئے سنّتوں کی خدمت کررہا ہوں اور نگاہِ مُرشِد کے صدقے (تادمِ بیان)دعوتِ اسلامی کی پاکستان انتظامی کابینہ کا رُکن بھی ہوں ۔ آج بھی مجھے کوئی پریشانی آتی ہے تو میں اُس پریشانی کی مناسبت سے شجرہ عالیہ کے کسی ایک شعر کو اپنی دُعا کا حصہ بنا لیتا ہوں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  میری وہ پریشانی دُور ہوجاتی ہے ۔نہ صرف میں خُود ایسا کرتا ہوں بلکہ خیرخواہی کے جذبے کے تحت دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی اس کا مشورہ پیش کرتا ہوں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(28) لاکھوں کا کاروبار واپس مل گیا

        بابُ الاسلام(سندھ) کے ایک اسلامی بھائی نے شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ سے حاصل ہونے والی برکتوں کا بیان کچھ یوں کیا : میرا چلتا ہوا کاروبار تھا اور مالی طور پر کسی قسم کی پریشانی نہ تھی ۔ پھر حالات نے ایسی کروٹ لی کہ میرا سارا کاروبار ڈُوب گیا اور میں گویا عالیشان بنگلے سے نکل کر فٹ پاتھ پر آگیا ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ  میں دامنِ امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے وابَستہ ہو کر عطّاری بن چکا تھا ۔آزمائش کے ان دنوں میں یہ نسبت میرے کام آئی ۔وہ اس طرح کہ میں نے رسالہ ’’شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ ‘‘میں دئیے گئے شجرہ عالیہکے اس شعر کے ذریعے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں دُعا کرنا شروع کی ۔

بَہرِ ابراہیم مجھ پَر نارِغم گلزار کر     (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

بھیک دے داتا  بِھکاری باد شاہ کے واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

 خدا عَزَّوَجَلَّ  کی قسم! چند ہی دنوں میں ایسے اسباب بنے کہ میرا ڈُوبا ہوالاکھوں کا کاروبار مجھے واپس مل گیا اور میری خوشحالی کے دن لَوٹ آئے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (29)ذ ہنی پریشانی سے نجات مل گئی

        بابُ المدینہ(کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے :  میں کورنگی انڈسٹریل ایریا کی ایک فیکٹری میں مُلازم تھا ۔وہاں میری ایک ذمہ داری یہ بھی تھی کہ اگر کپڑا بننے کی مشین کا کوئی پُرزہ خراب ہوجائے تو میں اسے فیکٹری والوں کی اجازت سے لے جاؤں اوراسے دکھا کر بازار سے نیا پُرزہ خرید لاؤں ۔ میں اپنا یہ فریضہ بخوبی انجام دیتا تھامگر مجھے شدید ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ۔ وہ یوں کہ جب میں فیکٹری سے وہ قیمتی پُرزہ لے کر بازار کا رُخ کرتا تو راستے میں کچھ پولیس والے آنے جانے والوں کو چیکنگ کے نام پر روکتے اور ’’چائے پانی‘‘ کا مطالبہ کرتے ۔میں اُن کی اس زیادتی سے بچنے کے لئے دوسرا راستہ اختیار کرتا جو خاصا طویل تھا ۔مجھے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتامگر کیا کرتا مجبور تھا۔ ایک دن میں نے ایک اسلامی بھائی سے اپنا یہ مسئلہ بیان کیا تو وہ فرمانے لگے کہ آپ  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ   امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مُرید ہیں ، عطّاری ہیں ، کیا’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘ کا رسالہ اپنے پاس رکھتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ رسالہ اپنے پاس رکھئے اور شجرۂ عالیہ کا یہ شعر کثرت سے پڑھا کریں :

بہرِ شِبلی  شیرِ حق دنیا کے کُتّوں سے بچا  (رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ)

ایک کا رَکھ   عبد ِواحد بے رِیا کے واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ)

 



Total Pages: 64

Go To