Book Name:Sharah Shajra Shareef

        بابُ المدینہ(کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کے حلفیہ بیان کا خُلاصہ ہے کہ ایک بار دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں اسلامی بہنوں کا مَدَنی مشورہ تھا ۔ہم چند اسلامی بہنیں اس میں شرکت کے لئے بس اسٹاپ پر بس کے انتظار میں کھڑی تھیں ۔ کافی دیر گزر گئی مگر بس نہ آئی ۔اچانک مڑ کر پیچھے دیکھا تو خوف کے مارے میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا کہ بہت سے خوفناک کتے ہمیں گھیرے میں لئے ہوئے تھے ۔ میں نے ہمت کر کے شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے دعائیہ اشعار میں سے اس شعر کو پڑھنا شروع کردیا :

بَہرِ شِبلی  شیرِ حق دنیا کے کُتّوں سے بچا   (رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ)

ایک کا رَکھ   عبد ِواحد بے رِیا کے واسِطے   (رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ)

حیرت انگیز طور پر وہ کتے یکایک منتشِر ہو گئے ۔یوں اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کی برکت سے ہمیں اس مصیبت سے نجات ملی ۔شجرہ عالیہ کی یہ برکت دیکھ کر میں نے روزانہ شجرہ عالیہ پڑھنے کی نیت بھی کر لی ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(24)پوشیدہ بیماری دور ہوگئی

        بابُ المدینہ(کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے : میں ایک پریشان کُن مردانہ بیماری میں مبتلاتھا ۔ڈاکٹری علاج سے بات بنتی ہوئی نظر نہ آتی تھی ۔کچھ عرصہ قبل ہی میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوا تھا اور امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت ہوکر عطّاری بھی بن چکا تھا ۔ پیر ومرشد کے عطا کردہ’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ ‘‘میں دئیے گئے اوراد وظائف پڑھنا میرا معمول تھا ۔میں رسالے کے شروع میں دیا گیا شجرۂ عالیہ بھی پڑھا کرتا تھا ۔ ایک دن جب میں اس شعر پر پہنچا :

دل کو اچھا تَن کوسُتھر ا جان کو پُر نور کر

                   اچھے  پیارے شَمْسِ دِیں بَدْرُالْعُلیٰ کے واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

تو میں نے اپنے مرض سے شفایابی پانے کی نیت سے اس شعر کی تکرار کرنا شروع کر دی ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   ایسا کرتے ہوئے کچھ ہی دِن گزرے ہوں گے کہ کوئی دوائی استعمال کئے بغیر حیرت انگیز طور پر اس مرض سے میری جان چھوٹ گئی۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(25)طویل پریشانی سے نجات مل گئی

        بابُ المدینہ(کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کے حلفیہ بیان کا خُلاصہ ہے کہ میرے ابوجان پر2سال سے ایک ایکسیڈنٹ (حادثے)کے حوالے سے مقدمہ چل رہا تھا ۔

  دوسرے فریق سے صلح کا معاہدہ بھی ہوگیا اور انہوں نے ڈیڑھ یا دو لاکھ رقم بھی وصول کر لی تھی مگر مقدمہ کی سماعت طویل ہوتی چلی جارہی تھی ۔سب گھر والے بہت پریشان تھے ۔ ایک اسلامی بہن کوہماری اس پریشانی کا پتا چلا تو انہوں نے مجھے شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ 3یا 12یا 26دن کا ارادہ کرکے اپنی پریشانی دُور ہونے کی نیت سے روزانہ شجرہ عالیہ پڑھئے اوراس شعر کی بالخصوص تکرار کیجئے :

مشکلیں حل کر شہ مُشکل کُشا  کے واسِطے  (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

کر  بَلائیں رَد شہیدِ کربَلا   کے واسِطے      (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

اور اس کی برکتیں دیکھئے ۔میں نے 12دن تک شجرہ عالیہ پڑھنے کی نیت کی اور اس پر عمل شروع کردیا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ    صرف 3دن پڑھنے کی برکت سے اس مقدمے کا(جس کا دوسال سے کوئی فیصلہ نہیں ہوپارہا تھا )فیصلہ ہوگیا اور میرے ابو باعزت بری ہوگئے۔ یوں شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے دعائیہ اشعار پڑھنے کی برکت سے ہمیں اس طویل پریشانی سے نجات مل گئی ۔اس دن کے بعد گھر والوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کرنے کی مکمل اجازت دے دی ہے ورنہ پہلے کافی رُکاوٹ کا سامنا تھا ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

تجھ سے در، در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت

میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(26)سبق یاد ہوجاتا ہے

        بابُ المدینہ(کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا لبّ لباب ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کا کروڑ ہا کروڑ احسان کے اس نے مجھے شیخِ طریقت امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت ہوکر عطّاریہ ہونے کا شرف بخشا۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   میں مدرسۃ المدینہ میں قراٰن پاک حفظ کررہی ہوں ۔شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے دعائیہ اشعار پڑھنا میرا معمول ہے ۔بالخصوص جب کبھی مجھے سبق یاد کرنے میں دُشواری ہوتی ہے یا مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آج میں سبق ٹھیک سے نہیں سُنا پاؤں گی تو میں گھر سے مدرسہ تک اس شعر کی تکرار کرتی ہوئی آتی ہوں :

 



Total Pages: 64

Go To