Book Name:Sharah Shajra Shareef

وہیں آگئے مدد کو میں نے جب جہاں پُکارا

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(16)گُردے کا درد جا تا رہا

        بابُ الاسلام(سندھ) کے مشہور شہر حیدرآباد کے عطّاری اسلامی بھائی (جو روزگار کے سلسلے میں بحرین میں مقیم ہیں )کے بیان کا خلاصہ ہے : ایک مرتبہ رات تقریباً2:00بجے کا وقت ہوگا ۔بحرین میں میرے پڑوسی اسلامی بھائی گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور بتایا کہ چھوٹے بھائی کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے اور وہ اسپتال میں داخل ہے ۔ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اس کے گردے میں پتھری ہے اور صبح00 :10بجے آپریشن ہوگا ۔ میں نے انہیں تسلی دی اور صبح اسپتال پہنچا تو دیکھا کہ ان کا چھوٹا بھائی تکلیف کی شدت سے تڑپ رہا ہے ۔آپریشن ہونے میں ابھی دیر تھی ۔میں نے اپنے پڑوسی اسلامی بھائی (جو وہیں موجود تھے )کو ترغیب دی کہ قریبی مسجد چلتے ہیں کہ امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں کہ کوئی مشکل آن پڑے تو صلوٰۃُ الحاجات پڑھ کر دعا مانگئے ۔ چنانچہ ہم مسجد پہنچے صلوۃ الحاجات پڑھی اور وہیں بیٹھ گئے ۔میں نے اپنی جیب سے امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا عطاکردہ رسالہ’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘ نکالا اوربلند آواز سے شجرۂ عالیہ کے دعائیہ اشعار پڑھنے لگا ۔وہ بھی میرے ساتھ مل کر پڑھنے لگے ۔ ہم کافی دیر تک رو رو کر شجرہ شریف کے دعائیہ اشعار کی تکرار کرتے رہے ۔جب ہم وارڈ میں واپس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے ان کا چھوٹا بھائی جو کچھ دیر پہلے تکلیف کے مارے تڑپ رہا تھا اب  سکون سے لیٹا ہوا تھا بلکہ اٹھکیلیوں میں مشغول تھا ۔ جب آپریشن کا وقت ہوا اور سرجن صاحب آئے تو بچے کو بھلا چنگا دیکھ کروہ حیرت میں پڑ گئے اور اُس کا دوبارہ اچھی طرح چیک اپ کیا، کچھ ٹیسٹ بھی کروائے ۔رپورٹ دیکھی تو گردے کی پتھری غائب تھی ۔وہ ہم سے کہنے لگے :  آپ اسے گھر لے جائیے یہ بالکل ٹھیک ہے ، اب آپریشن کی کوئی حاجت نہیں ۔‘‘ میرے پڑوسی اسلامی بھائی شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کی یہ برکتیں دیکھ کر اتنے متأثر ہوئے کہ فوراً اپنا نام امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت ہونے کے لئے لکھوا دیا اور دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں بھی شریک ہونے لگے ۔تادمِ بیان اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  ان کے چھوٹے بھائی کے گردے میں کبھی دوبارہ تکلیف نہیں ہوئی۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(17)ویزے مل گئے

        عمان کے عطّاری اسلامی بھائی کے بیان کا لبّ لباب ہے :  میں تقریباً14سال سے عرب ملک عمان میں مقیم اور 6سال سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوں ۔ یہاں میرا اپنا کاروبار ہے ۔ مجھے ایک بار اپنے کارخانے میں لیبر(کام کرنے والوں )کی ضرورت پڑی ۔میں نے ویزوں کے لئے بار بار درخواستیں جمع کروائیں مگر ان تھک کوشش کے باوجود ویزے نہ مل سکے ۔کئی سال یونہی گزر گئے ، میں بہت پریشان تھا کہ لیبر نہ ہونے کی وجہ سے مجھے نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا ۔خیر میں نے ہمّت کر کے ایک مرتبہ پھر درخواست جمع کروائی۔ ایک اسلامی بھائی نے مجھے امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘ سے شجرہٗٔ عالیہ کے دعائیہ اشعار پڑھنے کا مشورہ دیا ۔ میں نے شجرۂ عالیہ کے ان دعائیہ اشعار کو بلاناغہ پڑھنا شروع کردیا۔ شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ پڑھنے کی برکت سے میرا وہ کام جو کئی سالوں سے نہیں ہوپارہا تھاحیرت انگیز طور پر چند دنوں میں ہوگیا اور مجھے مطلوبہ تعداد میں ویزے مل گئے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(18)بھائی کی شادی ہوگئی

        بابُ المدینہ(کراچی ) کی مقیم اسلامی بہن کے بیان کا لبّ لبا ب ہے کہ میرے گھر والے بڑے بھائی کی شادی کے لئے طویل عرصے سے کوششیں کررہے تھے مگر جہاں کہیں رشتے کی بات کرتے کوئی نہ کوئی رُکاوٹ کھڑی ہوجاتی ۔ خاندان میں رشتے موجود تھے مگر بھائی راضی نہ ہوتے ۔اسی دوران چھوٹے بھائی کی شادی بھی بخیروعافیت ہوچکی تھی ۔گھر والے شدید پریشان تھے ۔ایک اسلامی بہن سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ بطورِ وظیفہ پڑھنے کی ترغیب دلائی ۔چنانچہ میں نے شجرہ عالیہ کے دعائیہ اشعار پڑھنا شروع کردئیے۔ ابھی 5دن ہی گزرے تھے کہ میرے بھائی خاندان میں شادی کے لئے رضامند ہوگئے یوں شجرہ عالیہ کی برکت سے گھر والوں کو طویل پریشانی سے نجات ملی اور میرے بھائی کی شادی ہوگئی ۔اب میں خود بھی دوسری اسلامی بہنوں کو اپنے مسائل کے حل کے لئے شجرہ عالیہ پڑھنے کی ترغیب دلاتی ہوں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد  

(19)چڑیلوں سے جان چھوٹ گئی

        صوبہ پنجاب (پاکستان) اٹک کے مقیم اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے کہ 2003ء میں مجھ پر جنات کے اثرات ہوگئے ۔ایک چڑیل آکر مجھے پریشان کیا کرتی تھی۔ میں نے باب المدینہ(کراچی) حاضر ہوکر اپنے پیرو مرشد امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں تحریری رقعہ لکھ کر حالات پیش کردیئے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے رقعہ پر کچھ لکھا اور تسلی دی۔ اس دن سے میری طبیعت بہتر ہونا شروع ہو گئی۔ کم و بیش 2سال بعد2005ء میں تربیتی کورس میں شرکت کیلئے مظفرآباد(کشمیر) پہنچا۔10مئی2005ء بروز منگل انتہائی سیاہ رنگ کی ایک بدصورت عورت جس کے سر کے بال کُھلے ہوئے تھے میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئی اورانتہائی غصے کے عالم میں کہنے لگی : ’’میری دوست چڑیل کو تمہارے کراچی والے پیر نے پکڑ لیا ہے اب میں



Total Pages: 64

Go To