Book Name:Sharah Shajra Shareef

(14)دم توڑتے مریض کو شفا مل گئی

        دعوتِ اسلامی  کے عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ (کراچی) سے عاشقانِ رسول کا ایک مَدَنی قافلہ 30دن کے لئے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ   میں سفر پر بلوچستان روانہ ہوا ۔ سفر کرتے کرتے یہ مَدَنی قافلہ بعدِ نماز مغرب بلوچستان کے شہر دالبندین سے کوئٹہ کے لئے بس میں سوار ہوا۔ بس نے ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ شرکائے قافلہ میں سے ایک اسلامی بھائی کے سینے اور پیٹ میں شدیددرد اٹھا اور ساتھ ہی ساتھ قے بھی ہونے لگی۔شرکائے قافلہ ان کی حالت دیکھ کر بہت پریشان ہوئے ۔بس ویرانے میں سے گزر رہی تھی چُنانچہ فوری طور پر کوئی حکیم یا ڈاکٹر بھی نہیں مل سکتا تھا ۔ایسے میں ایک اسلامی بھائی نے امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘ سے شجرہ عالیہ پڑھنا شروع کردیا ۔حیرت انگیز طور پر اس اسلامی بھائی کی طبیعت سنبھلنا شروع ہوگئی اور وہ قدرے پُرسکون ہوگئے ۔تمام اسلامی بھائی مطمئن ہوکر اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے اور جلد ہی نیند کی آغوش میں جاپہنچے۔ صرف خیرخواہ  اسلامی بھائی جاگتے رہے اورشجرہ عالیہ پڑھ کر مریض اسلامی بھائی پر دم کرتے رہے ۔

        کافی وقت یونہی گزر گیا۔پھر اچانک اسلامی بھائی کی طبیعت دوبارہ بگڑنا شروع ہوگئی ۔انہوں نے چند جھٹکے لئے اوربے حس وحرکت ہوگئے۔اسلامی بھائیوں نے آگے بڑھ کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کی تو یہ دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہوگئے کہ اس اسلامی بھائی کاجسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا ۔

        پوری بس میں شور مچ گیا کہ’’ ایک مسافر کا انتقال ہوگیا ہے۔‘‘  سب مسافر پریشان تھے ۔ان اعصاب شکن حالات میں بھی خیرخواہ اسلامی بھائی نے ہمت نہیں ہاری اور ان کے منہ پر پانی کی چھینٹے مارے اور انہیں ہوش میں لانے کی کوششیں کرنے لگے ۔مختلفقراٰنی سُورتیں پڑھ کر دم کیا ، دیگر دُعائیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ مصیبت کے وقت کی یہ دعا بھی پڑھی : ’’اَعِیْنُوْنِیْ یَا عِبَادَ اﷲ ‘‘اور بھی دُعائیں پڑھیں پھر شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہکے ان اشعار کی تکرار شروع کردی :

یا الہٰی رَحم فرما مصطفی   کے واسِطے    (عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)

یا رسولَ اللہ    کرم کیجئے خدا کے واسِطے (عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)

مشکلیں حل کر شہ مُشکل کُشا  کے واسِطے (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

کر  بَلائیں رَد شہیدِ کربَلا   کے واسِطے     (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

دل کو اچھا تَن کوسُتھر ا جان کو پُر نور کر

           اچھے  پیارے شَمْسِ دِیں بَدْرُالْعُلیٰ کے واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

         ایک اسلامی بھائی کے پاس شیخ طریقت، امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بال مبارک موجود تھے ۔انہوں نے وہ بال پانی میں ڈبوئے اور اس پانی کے چھینٹے مریض اسلامی بھائی کے منہ پر مارنے لگے۔حیرت انگیز طور پراچانک اس اسلامی بھائی کے جسم میں حرکت پید اہوئی اور وہ ہڑبڑاکر اٹھ بیٹھے۔یہ دیکھ کر اسلامی بھائیوں کی جان میں جان آئی ۔مختلف اواراد ووظائف پڑھ کر دم کرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔راستے میں بس رکی تو انہیں کچھ دیر تازہ ہوا میں لٹادیا جس سے ان کی طبیعت مزید بہتر ہوگئی ۔ یوں اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَل شجرہ عالیہ کی برکتیں پاتے ہوئے کم وبیش صبح00 :6بجے وہ مریض اسلامی بھائی بخیر وعافیت دعوت اسلامی کے صوبائی مدنی مرکز فیضان مدینہ جامع مسجد نورانی (کوئٹہ) پہنچ گئے۔وہاں سے انہیں دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی روانہ کردیا گیا جہاں سے وہ بخیریت اپنے گھر پہنچ گئے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(15)اجتماع میں شریک ہوگئے

        بابُ المدینہ(کراچی ) کی مقیم اسلامی بہن کا بیان کچھ اس طرح سے ہے کہ مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے سالانہ بین الاقوامی سنتوں بھرے اجتماع کی آمد آمد تھی ۔ میں نے اپنے بچوں کے ابّو پر اجتماع میں شریک ہونے کے لئے انفرادی کوشش کی تو وہ تیّار ہوگئے اور ٹرین میں سیٹ بھی بُک کروالی۔ جس روز روانگی تھی گھر میں کوئی جھگڑا ہوگیا ۔انہوں نے غصے کے عالم میں اجتماع میں نہ جانے کا اعلان کردیا، یہاں تک کہ مجھے بھی خصوصی نشست میں شرکت کے لئے اسلامی بہنوں کے اجتماع میں جانے سے منع کردیا ۔میں شدید پریشان تھی ۔بہت کوشش کی کہ کسی طرح وہ اجتماع میں جانے کے لئے راضی ہوجائیں مگر ناکام رہی ۔شام کے وقت توجہ مُرشِد سے 3مرتبہ شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ پڑھا اور خوب دعائیں مانگیں ۔ٹرین روانہ ہونے میں کچھ ہی وقت باقی رہ گیا تھا میں نے آخری کوشش کے طور پر ایک بار پھراُن سے درخواست کی : ’’اجتماع میں چلے جائیے۔‘‘ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  شجرہ عالیہ کی برکت سے وہ (جو پہلے اس سلسلے میں  میری کوئی بات سننے کے لئے تیّار نہیں تھے)حیرت انگیز طور پر اجتماع میں شریک ہونے کے لئے تیار ہوگئے اورکہنے لگے : ’’ٹھیک ہے میرا سامان تیار کردو ۔‘‘میری خوشی کی انتہاء نہ رہی ، میں نے جھٹ پٹ ان کا بیگ تیار کیا اور وہ اُسی ٹرین سے مدینۃ الاولیاء ملتان شریف کے لئے روانہ ہوگئے جس میں سیٹ بُک کروائی تھی۔صرف یہی نہیں بلکہ جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آتی ہے تو میں شجرہ عالیہ کے دعائیہ اشعار پڑھنا شروع کردیتی ہوں تو اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  میری وہ پریشانی دور ہوجاتی ہے ۔

یہ عطائے دستگیری کوئی میرے دل سے پوچھے

 



Total Pages: 64

Go To