Book Name:Sharah Shajra Shareef

شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ پڑھنے کی برکت سے مکمل طور پر  دُور ہوگیا ۔

میرا ہر مرض دُور ہو جائے پیارے

                کرو ایسا آکر کے دم غوثِ اعظم ( رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(7)گھریلو جھگڑے ختم ہوگئے

            بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے حلفیہ بیان کا لبّ لباب ہے کہ ہمارے گھرمیں ناچاقیوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے ۔دن بدن آپس میں کشیدگی بڑھتی جارہی تھی ، آئے دن لڑائی جھگڑوں کا سلسلہ رہتاجس کی وجہ سے گھر کا سُکون برباد ہوکر رہ گیا تھا ۔دیگر گھر والوں کی طرح میں بھی اس صورتِ حال سے سخت پریشان تھی ۔گھر میں امن قائم ہونے کی کوئی سبیل دکھائی نہ دیتی تھی ۔اسی دوران پیر ومرشد امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی توجُّہ سے مجھے آپ کے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘سے شجرہ عالیہ پڑھنے کا خیال آیا ۔ بس پھر کیا تھا! میں نے شجرہ عالیہ کو گھریلو ناچاقیاں دور ہونے کی نیت سے پڑھنا شروع کر دیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ    شجرۂ عالیہ پڑھنے کی ایسی برکتیں نصیب ہوئیں کہ ہمیں گھر یلو جھگڑوں سے( جوپہلے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تھے ) نجات مل گئی اور ہمارے گھر میں ایسا امن قائم ہوگیا جیسے یہاں کبھی ناچاقی تھی ہی نہیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(8)مقدمہ بازی سے جان چھوٹ گئی

            بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کا بیان ہے کہ ہم کافی عرصے سے مختلف پریشانیوں میں گھرے ہوئے تھے ۔کسی نے کورٹ میں ہمارے خلاف کیس (یعنی مقدمہ) بھی دائر کیا ہوا تھا ۔طویل مدت گزرنے کے باوجود کیس ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا ۔ فیصلہ ہمارے حق میں نہ ہونے کی صورت میں ہمیں بہت زیادہ مالی نقصان کا اندیشہ تھاجس کی وجہ سے ہماری پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ۔ میں شدید ذہنی کرب( ٹینشن) میں مبتلا تھی ۔امید کی کوئی کرن دکھائی نہ دیتی تھی۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا مجھ پر کرم ہوا اور میں دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوئی ۔وہاں میں نے ایک اسلامی بہن سے اپنی پریشانی کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مجھے امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘ سے  شجرۂ عالیہ کے دُعائیہ اشعار باقاعدگی سے پڑھنے کا مدنی مشورہ دیا ۔میں نے پابندی سے شجرۂ عالیہ پڑھنا شروع کر دیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ پڑھنے کی برکت سے کچھ ہی عرصے میں ہماری پریشانیاں ختم ہونا شروع ہوگئیں اور کورٹ میں چلنے والے  مقدمے سے بھی نجات مل گئی ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ  اب میں نے یہ نیت کی ہے کہ تادمِ مرگ دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے سنتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوتی رہوں گی ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(9)شادی کی تیاریاں مکمل ہوگئیں

        بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک عطّاریہ اسلامی بہن کا حلفیہ بیان کچھ یوں ہے کہ میری بہن کی شادی کی تاریخ مقرر کی جا چکی تھی۔ جوں جوں شادی کا دن قریب آرہا تھا، ہماری پریشانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھاکیونکہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ شادی کی مناسب تیاریاں کرسکیں ۔اسی پریشانی کے عالم میں ایک رات میں نے امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ عطّاریہ ‘‘سے  شجرۂ عالیہ پڑھا اور دعا مانگ کر نیند کی آغوش میں چلی گئی ۔ میری خوش نصیبی کی معراج کہ میں نے خواب میں دیکھاکہ کوئی ہم دونوں بہنوں سے کہہ رہاہے : کھڑی ہو جاؤ ! دیکھو! شیخِ طریقت امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  تشریف لارہے ہیں ۔یہ سن کر میں اور میری بہن فوراًادب سے کھڑے ہو گئے۔اتنے میں امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہتشریف لے آئے ۔اسی دوران کسی نے امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں میرے بڑے بھائی کا نام لے کر عرض کی کہ یہ انکی ہمشیرہ ہیں اور ہماری پریشانی کا تذکرہ بھی کیا۔  امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے ہمیں تسلی دی اور فرمایا : ’ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   آپ کی پریشانی دُور ہوجائے گی۔‘‘ جب میں بیدار ہوئی تو اس بشارت کی وجہ سے بہت پُرسکون تھی ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  خواب میں بند ھائی ہوئی ڈھارس حقیقت میں تبدیل ہوگئی اور شادی کی تیاریوں کے اسباب مہیا ہوتے چلے گئے ۔یوں شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ پڑھنے کی برکت سے مجھے نہ صرف امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی زیارت نصیب ہوئی بلکہ میری بہن کی شادی بھی بخوبی انجام پائی۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(10)مکان مل گیا

        بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک عطّاریہ اسلامی بہن کے حلفیہ بیان کا خُلاصہ ہے کہ 2004ء میں ہمارا گھر گلشن اقبال میں زیر تعمیر تھا ۔جس کی وجہ سے ہم کسی اور علاقے میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے ۔ہمارا اندازہ تھا کہ ستمبر تک گھر کی تعمیر مکمل ہو جائے گی۔چنانچہ ہم نے مالک مکان سے ستمبر تک کیلئے ہی معاہدہ کیاتھا۔ ستمبر آپہنچا مگر کچھ ناگزیر وجوہات کی بناء پر گھر تعمیر نہ ہو سکا۔ ادھر مالک مکان نے گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا ۔باوجود کوشش کے فوری طور پر دوسرا مکان بھی نہیں مل رہا تھا ۔ ہم بہت پریشان تھے ۔ اسی پریشانی کے عالم میں ایک دن میں نے



Total Pages: 64

Go To