Book Name:Sharah Shajra Shareef

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(3) قبر میں راحتیں نصیب ہوئیں

        حیدرآباد (باب الاسلام سندھ) سے موصول ہونے والے مکتوب میں کچھ اس طرح تحریر تھا : اگست 2004ء میں ایک عطّاریہ اسلامی بہن کا انتقال ہوا ۔ ان کے انتقال کے بعد اُنہیں غسل دینے والی دعوتِ اسلامی کی مبلغہ اسلامی بہن نے امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالہ’’ شجرہ قادریہ رضویہ عطّاریہ ‘‘ ان کی رشتہ دار خواتین کو دیتے ہوئے ان کی قبر میں رکھنے کا مشورہ دیا ۔ چنانچہ گھر کے مرد اَفراد کے ذریعے شجرۂ عالیہ ان کی قبر میں رکھوا دیا گیا ۔[1] ؎ کچھ عرصے بعد مرحومہ اپنی ایک رشتہ داراسلامی بہن کو خواب میں شاندار بچھونے پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں ۔وہ بڑی خوش وخُرم دکھائی دے رہی تھیں ۔ مرحومہ مُسکراتے ہوئے کچھ یوں کہنے لگیں : ’’یہ شجرہ شریف لے لو اوران اسلامی بہن کو شکریہ کے ساتھ واپس کردو ، یہ ان کی امانت ہے ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   اس شجرہ( عطّاریہ )کی برکت سے مجھے قبر میں بہت سکون ملا ہے ۔‘‘

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(4)بغیر آپریشن پتھری سے نجات مل گئی

        بحرین میں مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے : میں تقریباً 2سال سے گردے کے درد میں مبتلا تھا ۔ کافی علاج کروایا مگر مستقل آرام نہ آیا۔ بالآخر مجھے بحرین آرمی ہاسپٹل میں داخل کر لیا گیا اور ڈاکٹروں نے مختلف ٹیسٹ لئے اور مجھے بتایا کہ تمہارے گُردے میں پتھری ہے جو آپریشن کے ذریعے ہی نکالی جاسکتی ہے ۔دودِ ن بعد میرا آپریشن تھا۔ 24گھنٹے پہلے انہوں نے مجھے کھانے پینے سے روک دیا ۔مجھے شدت کی بھوک لگ رہی تھی مگر کیا کرتا مجبور تھا ۔جب وقتِ مقررہ پر مجھے آپریشن تھیٹر لے جایا گیا اورایک بار پھر الٹراساؤنڈ اور ایکسرے وغیرہ کئے گئے تو ڈاکٹروں نے یہ دیکھ کر سر پکڑ لیا کہ اس کے گُردے میں تو پتھری کا نام ونشان ہی نہیں ۔وہ مجھ سے پوچھنے لگے تم نے کونسی دوائی کھائی ہے کہ پتھری غائب ہوگئی ۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے کوئی دوا نہیں کھائی ، بات دراصل یہ ہے کہ میں مسلسل اپنے پیرومرشد امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے دعائیہ اشعار صحت یابی کی نیت سے پڑھ رہا تھااور اپنے شیخ طریقت امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں خوب استغاثہ پیش کررہا تھا ، یہ اسی کی برکت ہے۔ یہ دیکھ کر وہ ڈاکٹر اور آپریشن تھیٹر کا عملہ بہت متأثر ہوا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  شجرۂ عالیہ کی برکت سے میرے گُردوں کا درد بغیر آپریشن دور ہوگیا اور میں اپنے قدموں پر چلتا ہوا آپریشن تھیٹر سے باہر نکل آیا ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(5)کھوئی ہوئی رقم واپس مل گئی

        بابُ المدینہ(کراچی ) کی مقیم عطّاریہ اسلامی بہن کے بیان کا لبّ لباب ہے کہ میرے والد صاحب ایک کاروباری آدمی ہیں اور روزانہ گھر سے نکلتے وقت خاصی بڑی رقم اپنے ساتھ رکھتے ہیں ۔ایک دن حسبِ معمول وہ گھر سے نکلے اور جب واپسی پر حساب کیا تو 35000(پینتیس ہزار)روپے کم تھے ۔ذہن پر بہت زور دیا مگر یاد نہ آیا کہ کہاں دیئے تھے ۔جہاں جہاں گئے تھے وہاں سے بھی معلوم کیا کہ شاید وہاں کہیں گر گئے ہوں مگر ہر ایک نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔اب تو والد صاحب شدید پریشان ہوئے ۔ انہی دنوں میں نے اپنے علاقے میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے تربیتی اجتماع میں شرکت کی تو وہاں پرایک مبلغہ اسلامی بہن نے شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کی ایک بہار بیان کرنے کے بعد ترغیب دلائی کہ ہمیں بھی اپنی پریشانیوں کے حل کے لئے شجرہ عالیہ کے دعائیہ اشعار کو بطورِ وظیفہ پڑھنا چاہئیے، ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ہماری پریشانیاں دُور ہوجائیں گی ۔چنانچہ میں نے بھی اپنے والد صاحب کی پریشانی دُور ہونے کی نیت سے شجرہ عالیہ پڑھنا شروع کردیا ۔ ابھی تین دن ہی گزرے تھے کہ یہ خبر ملی کہ والد صاحب کی رقم مارکیٹ میں کسی کو ملی ہے اور وہ یہ رقم جلد والد صاحب کے حوالے کر دے گا۔اور واقعی چند دن بعد وہ رقم میرے والد صاحب کو واپس مل گئی۔ہم نے اللّٰہ تبارک و تَعَالٰیکا شکر ادا کیا کہ شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کی برکت سے ایسی جگہ سے ہماری رقم واپس مل گئی جہاں کوئی چیز گرنے کے بعد ملنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ۔

تیرا کرم ہے ذاتِ باری عطاری ہوں عطاری

نسبت کیا ہے پیاری پیاری عطاری ہوں عطاری

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(6)سرکا درد جاتا رہا

        بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک عطّاریہ اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میرے سر میں مسلسل درد رہتا تھا جس کی وجہ سے میں شدید پریشان تھی۔ طویل عرصے تک علاج کروایا مگر خاص فائدہ نہ ہوا ۔ یہاں تک کہ یوں محسوس ہونے  لگا کہ شاید میرے سرکا درد کبھی دُور نہیں ہوگا ۔اسی دوران میں نے اپنے پیرومُرشِدشیخِ طریقت امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘سے شجرۂ عالیہ کے دعائیہ اشعارپڑھنا شروع کردئیے ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ  وہ سر درد جس کے علاج سے میں تقریباً مایوس ہوچکی تھی ،



   1          شَجرہ یا عہد نامہ قَبْر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میِّت کے منہ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں بلکہ ’’دُرِّمُخْتَار‘‘ میں کفن میں عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے اور فرمایا کہ اس سے مغفِرت کی امّید ہے۔ ‘‘بہارِ شریعت، حصہ ۴، ص ۱۹۷ ))  



Total Pages: 64

Go To