Book Name:Sharah Shajra Shareef

T.V اور. V.C.Rنکال باہر کیا اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچا نے لگے۔

اللّٰہعَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(2)سبز عمامے والے  بزرگ

        بابُ المدینہ  (کراچی) کے علاقہ اورنگی ٹاؤن کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لبّ لباب ہے :  ہماری خوش نصیبی کہ مجھ سمیت تمام گھر والے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مَدَنی ماحول سے وابستہ اور شیخ ِطریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مُرید ہیں ۔صفر المظفر ۱۴۲۹ھ بمطابق فروری 2008ء میں مجھے عاشقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلے میں سفر کی سعادت ملی ۔اسی دوران میں نے 63دن کا تربیتی کورس کرنے کی نیت بھی کی اور نام بھی لکھوا دیا ۔ اسی طرح کی اچھی اچھی نیّتیں کرنے کے بعد جب میں گھر پہنچا تو میرے بچوں کی امّی نے بتایا کہ کل شام دونوں بیٹے گھر کے باہر کھیلتے کھیلتے کہیں نکل گئے ۔کافی تلاش کیا مگر نہ ملے۔ صدمے سے میرابُرا حال تھا۔ دل میں طرح طرح کے وسوسے آرہے تھے ۔ میں رونے لگ گئی ۔اتنے میں دونوں مَدَنی مُنّے گھر میں داخل ہوئے ، انہیں دیکھ کر میری جان میں جان آگئی۔وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے ۔جب ان کی حالت ذرا سنبھلی تو بتایا کہ ہم باہر کھیل رہے تھے کہ ایک کچرا چُننے والا شخص (جس کے ہاتھ میں بوری تھی ) ہمارے قریب آیا اور آنا ًفاناً کوئی چیز سنگھائی جس سے ہم بے سُدھ ہوکر گر پڑے اس نے جلدی سے ہمیں بوری میں ڈال لیا ۔اس کے بعد ہمیں کسی چیز کا ہوش نہ رہا ۔پھر نہ جانے کتنی دیر بعد جب ہمیں ہوش آیا تو دیکھا کہ ہم بوری سے باہر زمین پر پڑے ہیں اور وہ کچرا چُننے والا ہمارے قریب ہی زمین پر پڑا درد کے مارے کراہ رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے اسے بہت مارا ہو۔ پھر ہماری نظر سبز عمامے والے ایک بُزُرگ پر پڑی جن کے چہرے سے نُور برس رہا تھا ۔ وہ ہمیں تسلی دیتے ہوئے فرمانے لگے : ’’ بچو! گھبراؤ مت ، آؤ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں ۔‘‘چنانچہ وہی بزرگ ابھی ہمیں گھر چھوڑ کر گئے ہیں ۔ (میری بیوی نے مزید بتایا کہ)میں نے رب  تَعَالٰیکا لاکھ لاکھ شُکر ادا کیا اور اس بزرگ کے بارے میں سوچنے لگی کہ ہمارے مُحسن ‘وہ سبز عمامے والے بزرگ نہ جانے کون تھے؟ پھر جب میں نے سونے سے پہلے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ VCD’’عوامی وسوسے اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے جوابات‘‘ لگائی تو جیسے ہی شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا جلوۂ مبارک دکھائی دیاتو دونوں مَدَنی منّے بے ساختہ پُکارنے لگے : امّی! یہی تو وہ بزرگ ہیں جنہوں نے ہمیں اغوا ہونے سے بچایا تھا اور گھر تک چھوڑنے بھی آئے تھے ۔‘‘

        اس اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ یہ سُن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں اللّٰہ  تَعَالٰیکا شکر ادا کرنے لگا جس نے ہمیں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ جیسے ولیٔ کامل کے دامن سے وابستہ ہونے کی سعادت عطا فرمائی ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(23) صَدْقہ اِن اَعیاں کا دے چھ عین، عِزّ، عِلم وعَمَل

عَفْو و عرفاں ، عافیت ، احمدرضا کے واسِطے

       اس شعر میں اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن اپنے لئے یہ دعا کر رہے ہیں : یا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ان مذکورہ بالا سردارانِ طریقت و معرفت کا واسطہ مجھے چھ چیزیں ؛عزت، علم، عمل، معافی، اپنی معرفت اور عافیت عطا فرما۔

 یہ شعر’’ حدائق بخشش‘‘ میں اسی طرح ہے، مگر اس کی جگہ تبدیل شدہ شعر پڑھا جاتا ہے :

صَدْقہ اِن اَعیاں کا دے چھ عین،  عِز، عِلم وعَمَل

عَفْو و عرفاں ، عا فیت ، اِس بے نوا کے واسِطے

مشکل الفاظ کے معانی :

اعیان : سرداروں ، بزرگوں

عز : عزت

عفو : معافی

عرفان : معرفت  عافیت : سلامتی

بے نوا : فقیر، مفلس

 دُعائیہ شعر کا مفہوم :   

        یا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ان مذکورہ بالا سردارانِ طریقت و معرفت کا واسطہ مجھ بے نوا کوچھ چیزیں ؛عزت، علم، عمل، معافی، اپنی معرفت اور عافیت عطا فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  



Total Pages: 64

Go To