Book Name:Sharah Shajra Shareef

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی امیرِ اہلسنّت پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(1)پیدائشی نابینا کی آنکھیں روشن ہو گئیں

       صوبہ پنجاب کے شہر گلزارِ طیبہ(سرگودھا) کے مبلغِ دعوتِ اسلامی کے حلفیہ بیان کا خُلاصہ ہے کہ غالباً 1995ء کی بات ہے مجھے یہ خوشخبری ملی کہ (واہ کینٹ) میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سنتوں بھرا بیان ہے ۔چنانچہ میں نے انفرادی کوشش کے ذریعے عاشقانِ رسول کا ایک مَدَنی قافِلہ تیار کیا کہ سفر کے اختتام پر سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت پائیں گے ۔ شرکاء میں میرے بہنوئی بھی شامل تھے جو کرامات اولیاء کے منکرین کی صحبت میں بیٹھنے کے باعث عقائد کے معاملے میں تَذَبْذُب کا شکار تھے۔

                                                اسی دوران ایک پیدائشی نابینا حافظ صاحب تشریف لے آئے جو کسی اور پیر صاحب سے نقشبندی سلسلے میں مُرید تھے اور امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے طالب تھے اور آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بے انتہا محبت کرتے تھے۔وہ بھی مَدَنی قافلے میں سفر کیلئے اصرار کرنے لگے۔ انہیں سمجھا یا گیا کہ آپ نابینا ہیں ، 3 دن سفر میں کس طرح رہ سکیں گے؟ مگر وہ بضد رہے حتیٰ کہ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، وہ کہنے لگے، کہ زندگی میں کم از کم ایک بار اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کے اس ولی یعنی امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے ملنے کی ترکیب بنادیں ۔ان کا شوق و جذبہ دیکھ کر آخر کار انہیں بھی ساتھ لے لیا گیا۔

                                                3 دن مَدَنی قافلے میں سفر کے بعدجب ہمارا مَدَنی قافِلہ اجتماع گاہ میں پہنچا تو لوگوں کی تعداد اس قدر کثیر تھی کہ منچ(اسٹیج)نظر نہیں آرہا تھا۔امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بیان جاری تھا ۔ اچانک دورانِ بیان آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے شرکاء اجتماع سے ارشاد فرمایا! ’’ابھی بارش ہوگی مگر معمولی ہوگی ، لہٰذا کوئی بھی فکر مند نہ ہو۔‘‘ یہ سن کر میری نظر بے ساختہ آسمان کی طرف اٹھی مگر وہاں بارش کے قطعاً کوئی آثار نہ تھے اورمطلع بالکل صاف تھا۔مگر حیرت انگیز طور پربیان کے بعد دورانِ دعا اچانک ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنا شروع ہوئی اور ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی۔ ایک ولیِ کامل کی زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کی تائید میں ہونے والی بارش نے عقیدت کے پھولوں کو مزید مَہکا دیا۔

                                                اجتماع کے اختتام پر جب ہم گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو راستے میں خوش قسمتی سے امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی گاڑی آتی دکھائی دی۔بس پھر کیا تھا، اسلامی بھائی گاڑی سے اتر کرامیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کار کے گرد جمع ہوگئے ۔ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے کار کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے سلام ارشاد فرمایااورہماری خیریت دریافت فرمائی۔ اجتماع چونکہ بہت کامیاب ہوا تھا ، لہٰذاآپ بہت خوش تھے۔ میں نے اور دیگر اسلامی بھائیوں نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی دست بوسی کی سعادت حاصل کی۔ میرے بہنوئی بھی قریب کھڑے تمام منظر دیکھ رہے تھے مگر انہوں نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی کسی عقیدت کا اظہار کیا۔اتنے میں پیدائشی نابینا  اسلامی بھائی بھی کسی طرح اپنی گاڑی سے اتر کر گرتے پڑتے آپہنچے اور امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کار کے اگلے حصے پرہاتھ مارمار کرآپ  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تو جہ چاہنے لگے۔ کسی نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو اشارے سے عرْض کی کہ یہ مادرزاد نابینا ہیں ان پر دم کردیں اور دعا بھی فرمادیں ۔امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جُھک کر شیشے میں سے اس مادر زاد نابینا کے چہرے پر اپنی نگاہ ولایت ڈالی اور سامنے رکھے بیگ میں سے ٹارچ نکال کر اسکی روشنی اُس مادر زاد نابینا کے چہرے پر ڈالتے ہوئے جیسے ہی دَم کرنے کے انداز میں پھونک ماری تواُس مادر زاد نابینا نے ایکدم جُھر جُھری سی لی اور اسکی آنکھیں روشن ہوگئیں ۔

       وہ  اسلامی بھائی اچانک آنکھیں روشن ہوجانے پر عجیب کیفیت و دیوانگی کے عالم میں چِلّانے لگے کہ مجھے نظر آرہا ہے ، میری آنکھیں روشن ہوگئیں ، مجھے نظر آرہا ہے۔یہ کہتے ہوئے وہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی جانب بڑھے اور روتے ہوئے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قدموں میں گر پڑے۔ یہ ایسا ناقابلِ یقین منظر تھا کہ وہاں موجود 35 کے قریب چَشْم دید گواہ دَم بَخود رہ گئے ۔ رات کا آخری پہر تھا ۔ لوگوں پرکچھ دیر تو سکتہ طاری رہاپھر جب حواس بحال ہوئے تو ان کی آنکھیں بھی زمانے کے ولی کی کُھلی کرامت دیکھ کرجذباتِ تاثر سے بھیگ گئیں ۔ پیدائشی نابینا جن کی اب آنکھیں روشن ہوچکی تھیں اُن کی حالت قا بلِ دید تھی ، وہ آنکھوں کو روشن پا کر پھولے نہیں سما رہے تھے اور امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ پر فِدا ہوئے جارہے تھے۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اسے سینے سے لگا کر پیٹھ تھپکتے ہوئے فرمایا :  بیٹا اللہ  عَزَّوَجَلَّ  شفاء دینے والا ہے ۔

                                                میرے بہنوئی بھی(جو کرامات اولیاء کے منکرین کی صحبت میں رہے تھے ) یہ ایمان افروز کرامت دیکھ کر اپنے جذبات قابو میں نہ رکھ سکے اورروتے ہوئے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قدموں میں گرپڑے اور بدعقیدگی اور سابقہ گناہوں سے توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ سنّت کے مطابق داڑھی شریف سجانے کی نیت بھی کرلی اور امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مرید ہوکر سلسلہ عالیہ قادِریہ رَضَویہ عطّاریہ میں داخل بھی ہوگئے۔

                                                گویاکہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے ایک طرف اللہ  و رسول عَزَّوَجَلَّ  و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عطا سے ظاہری آنکھوں کو روشن فرمایا تو دوسری طرف ایک شخص کو راہِ حق کی روشنی عطا فرمادی۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ  میرے بہنوئی کی زندگی میں ایسا مَدَنی انقِلاب برپا ہوا کہ گھر آکرنہ صرف خود باجماعت نماز پڑھنے لگے بلکہ دوسروں کوبھی تلقین کرنے لگے۔ گھر سے



Total Pages: 64

Go To