Book Name:Sharah Shajra Shareef

        ایک مکتوب میں لکھتے ہیں : ’’علماء کو ہماری نہیں ، ہمیں علماء دامت فیوضھم کی ضرورت ہے ، یہمَدَنی پھول ہر دعوتِ اسلامی والے کی نس نس میں رچ بس جائے۔‘‘ ایک مرتبہ فرمایا :  ’’علماء کے قدموں سے ہٹے تو بھٹک جاؤ گے۔‘‘

مجھ کو اے عطّار سُنّی عالموں سے پیار ہے

ان شآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  دوجہاں میں اپنا بیڑا پارہے

        اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ   علمائے اہلِسنّت دامت فیوضہم بھی آپ کی مَدَنی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی فرماتے رہتے ہیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

آپ کے پُرتاثیر بیا نات

        نیکی کی دعوت دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بیان بھی ہے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہبھی ان علماء میں سے ہیں جن کے بیانات سننے والوں پرجادو کی طرح اثر انداز ہوتے ہیں ۔ مُنجیات (یعنی نجات دلانے والی چیزوں )مَثَلاً صبْر ، شُکْر ، تَوَکُّل، قناعَت اورخوف ورِجا وغیرہ کی تعریفات وتفصیلات اورمہلِکات(یعنی ہلاکت میں ڈالنے والی چیزوں )مَثَلاً جھوٹ، غیبت، بغض، کینہ اورغفلت وغیرہ کے اسباب وعلاج آسان وسہل طریقے سے بیان کرنا آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا خاصہ ہے ۔آپ کے سنّتوں بھرے اِصلاحی بیانات کوسننے والوں کی محویّت کا عالم قابل ِ دید ہوتا ہے ۔ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے بین الاقوامی اور صوبائی سطح کے اجتماعات میں بیک وقت لاکھوں مسلمان آپ کے بیان سے مستفیض ہوتے ہیں ، بذریعہ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ ‘بیان سننے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ آپ کے بیانات بذریعہکیسٹ گھروں ، دکانوں ، مساجد، جامعات وغیرہ میں بھی نہایت شوق سے سنے جاتے ہیں ۔ بیانات کی ان کیسیٹوں ، سی ڈیز اور وی سی ڈیز کو مکتبۃ المدینہ شائع کرتا ہے ۔ آپ کا اندازِبیان بے حد سادہ اور عام فہم اورطریقہ تفہیم ایسا ہمدردانہ ہوتا ہے کہ سننے والے کے دل میں تاثیر کا تیر بن کر پیوست ہوجاتا ہے ۔ لاکھوں مسلمان آپ کے بیانات کی برکت سے تائب ہوکر راہِ راست پر آچکے ہیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

آپ کی تالیفات

        اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ صاحب ِ قلم عالمِ دین ہیں ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکوصفِّ مصنفین میں امتیازی حیثیت حاصل ہے ۔ جس موضوع پر قلم اٹھایا اس کا حق ادا کردیا یہی وجہ ہے کہ عوام وخواص دونوں آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی تحریروں کے شیدائی ہیں اور آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی کتب ورسائل کو نہ صرف خود پڑھتے ہیں بلکہ دیگر مسلمانوں کو مطالعے کی ترغیب دلانے کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں خرید کر مفت تقسیم بھی کرتے ہیں ۔ آپ کی عظیم تالیف ’’فیضانِ سنت ‘‘(جلد اول) پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے، اس کے علاوہ بھی درجنوں موضوعات پر آپ کی کتب ورسائل موجود ہیں ۔ اَللّٰھُمَّ زِدْ فَزِدْ

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

امیرِ اہلسنّت کی شاعری

        امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہشاعری بھی فرماتے ہیں مگر  اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی طرح  امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا سرمایہ شاعری بھی صرف نعت و منقبت اور مناجات وغیرہ پر مشتمل ہے۔جو اسلامی بھائی  امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی شب و روز کی مصروفیات سے واقف ہیں وہ حیرت زدہ ہیں کہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو شعر کہنے کا موقع کیسے مل جاتا ہے ؟ پھر آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہدیگر ارباب سخن کی طرح ہر وقت شاعری کیلئے مصروف بھی نہیں رہتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ جب پیارے پیارے آقا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی یاد تڑپاتی اور سوزِ عشق آپ کو بے تاب کرتا ہے توآپ نعتیہ اشعارومناجات لکھتے ہیں ۔ شیخ طریقت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے حمد ونعت کے علاوہ صحابہ کرام رضوان اللہ   تَعَالٰیعلیھم اجمعین اور بزرگان دین رحمھم اللہ  کی شان میں متعدد منقبتیں اور مدحیہ قصائد بھی قلم بند فرمائے ہیں ، تادم تحریرآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے226 کلام شمار میں آئے ہیں ۔ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی شاعری میں ایک انفرادی خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ کی شاعری میں نیکی کی دعوت کی تڑپ اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ نمایاں طور پر پایا جاتا ہے ۔ چنانچہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہلکھتے ہیں :

شہاایساجذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں

تری سنتیں سکھانا مدنی مدینے والے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

ملے سنتوں کاجذبہ مرے بھائی چھوڑیں مولیٰ

سبھی داڑھیاں منڈانامدنی مدینے والے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

مِری جس قدرہیں بہنیں سبھی کاش برقع پہنیں

ہوکرم شہِ زمانہ مدنی مدینے والے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   

    اللّٰہ  تَعَالٰیہمیں امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سنّتوں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 



Total Pages: 64

Go To