Book Name:Sharah Shajra Shareef

مولاناعبدالسلام قادری علیہ رحمۃ اللہ  الھادی سے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو خلافت حاصل ہے ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو دنیائے اسلام کے اور بھی کئی اکابر علماء و مشائخ دامت فیوضھم سے خلافت حاصل ہے، مثلاًشارِح بخاری، فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ  الولی ، مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی وقار الدین قادری علیہ رحمۃ اللہ  الھادی اورجانشین سیدی قطبِ مدینہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اشرفی علیہ رحمۃ اللہ  الولی نے بھی اپنی خلافت اور حاصل شدہ اَسانید و اِجازات سے نوازا ہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مَدَنی مشورہ

        جوکسی کا مُرید نہ ہو اُسکی خدمت میں مَدَنی مشورہ ہے کہ اس زمانے کے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے عظیم بزرگ شیخ طریقت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے وجودِ مسعود کو غنیمت جانتے ہوئے بلا تاخیر ان کا مُرید ہوجائے۔ یقیناً مُرید ہونے میں نقصان کا کوئی پہلو ہی نہیں ، دونوں جہاں میں اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  فائدہ ہی فائدہ ہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مشائخِ کِرام کا یہ دستور رہا ہے کہ اپنے مُریدین و طالبین کو ایک شجرہ شریف بھی عطا فرماتے ہیں جس میں دیگر اورادووظائف کے ساتھ دعائیہ اشعار پر مشتمل شجرہ عالیہ بھی ہوتا ہے ۔ ان اشعار میں سلسلۂ عالیہ کے تمام مشائخ کے نام اس ترتیب سے لکھے ہوتے ہیں کہ سلسلہ نبیِ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک پہنچتا ہے۔

           اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  امیرِ اَہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے بھی ایک بہت ہی پیارارسالہ ’’شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘مرتب فرمایا ہے۔جس کے شروع میں شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ منظوم اشعار کی صورت میں موجود ہے(یہ رسالہ مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ھدیۃً حاصل کیا جاسکتا ہے)۔اسی رسالے میں گناہوں سے بچنے کیلئے، کام اٹک جائے تواس وقت، اور روزی میں بَرَکت کیلئے کیا کیا پڑھنا چاہئے، نیزجا دوٹونے سے حفاظت کیلئے کیا کرنا چاہئے، اسی طرح کم وبیش 52 ’’اَوراد ووظائف ‘‘لکھے ہیں ۔اس کو صرف وہ ہی پڑھ سکتے ہیں ، جو امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے قادری رضوی عطاری سلسلے میں مُرید یا طالب ہوتے ہیں ۔ان کے علاوہ کسی اور کو پڑھنے کی اجازت نہیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

شجرۂ  عالیہ کے اشعار کس نے لکھے؟

        شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کل 23 اشعار پر مشتمل ہے ۔ اس کے ابتدائی18اشعار اورمقطع (یعنی آخری شعر ) امام ِاَہلسنّت، اعلیٰ حضرت علامہ مولانا الشاہ امام احمد رضا خانعلیہ رحمۃ الرحمن کاکلام ہے۔ملک العلماء مولانا محمد ظفرالدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ  الباری حیات اعلیٰ حضرت جلد 3صفحہ 54پر لکھتے ہیں : ’’ہم لوگ متوسلین بارگاہِ رضویہ ، اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی حیات میں تو اسی طرح پڑھا کرتے تھے جیسے اعلیٰ حضرت نے نظم فرمایا اور اس کتاب (یعنی حیاتِ اعلیٰ حضرت )میں درج ہے اور مقطع (یعنی آخری شعر )کایہ مطلب لیتے تھے کہ خداوندا(یعنی اے خداعزوجل)ببرکتِ پیرومُرشِد برحق حضرت مولانا احمد رضاخان صاحب ہم لوگوں کو چھ عین ؛عز، علم ، عمل ، عفو ، عرفاں ، عافیت عطا فرما ۔جب ۲۵ صفر روزِ جمعہ مبارکہ ۱۳۴۰ھ میں اعلیٰ حضرت (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِا وصال ہوا اور حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خان صاحب خلف اکبر(یعنی بڑے بیٹے)اعلیٰ حضرت  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)کے جانشین ہوئے تو ایک شعر(یعنی انیسواں ) انہوں نے اعلیٰ حضرت  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)کے نامِ نامی کا اضافہ فرمایا :

کر عطا احمد رضا ئے احمد مُرسل مجھے

میرے مولیٰ حضرت احمدرضا کے واسطے

اور مقطع میں بجائے’’ احمدرضا ‘‘، ’’اِس بے نوا‘‘ بنادیااور اس کو اس طرح پڑھنے لگے :

صَدْقہ اِن اَعیاں کا دے چھ عین، عِزّ، عِلم وعَمَل

عَفْوو عرفاں ، عافیت، اِس بے نوا کے واسِطے  (حیاتِ اعلیٰ حضرت ج سوم ، ص ۵۴تا۵۶)

(مدینہ : یہاں لفظ’’واسطے‘‘ ، ’’کے لئے ‘‘ کے معنی میں ہے)

        جبکہ یہ اشعار(یعنی۲۰واں اور۲۲واں )عاشقِ اعلیٰ حضرت، شیخِ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہیں :

   پُر ضیاء کرمیرا چہرہ حَشْر میں اے کبریا  ( عَزَّوَجَلَّ)

         شَہْ ضیاء ُالدین پیرِ با صَفا کے واسِطے   (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

اور

عشقِ اَحمد میں عطا کر چشمِ تَر سوزِ جِگَر

   یاخُدا اِلیاس کو اَحمد رضا کے واسِطے   

 



Total Pages: 64

Go To