Book Name:Sharah Shajra Shareef

ٹی ٹی، اسٹیشن ماسٹروغیرہ سب لوگ جمع ہوگئے، ڈرائیور نے بتایا کہ انجن میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ اچانک ایک پنڈِت جی چیخ اُٹھا کہ وہ دیکھو کوئی دَرویش نمازپڑھ رہا ہے ، شاید رَیل اسی وجہ سے نہیں چلتی؟ پھر کیا تھا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے گرد لوگوں کا ہُجُوم ہوگیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاطمینان سے نَماز سے فارِغ ہو کرجیسے ہی رُفَقا کے ساتھ ریل میں سُوار ہوئے تو ریل چل پڑی ۔ سچ ہے جو  اﷲ  کا ہوجاتا ہے کائنات اسی کی ہوجاتی ہے۔

تُو نے باطل کو مٹایا اے امام احمد رضا

دین کا ڈنکا بجایا اے امام احمد رضا

دَورِ باطل اور ضَلالت ہند میں تھا جس گھڑی

تُو مجدِّد بن کے آیا اے امام احمد رضا

از : امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

 اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(20)پُر ضیاء کر میرا چہرہ حَشْر میں اے کبریا( عَزَّوَجَلَّ)

شَہْ ضیاء ُالدین پیرِ با صَفا کے واسِطے (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

مشکل الفاظ کے معانی :

پرضیا : روشن

باصفا : صاف ستھرا

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

         یا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ    تجھے پیرِ باصفا قطبِ مدینہ حضرت ِضیاء الدین مَدَنی علیہ رحمۃ اللہ  الغنیکا واسطہ ہمارے چہروں کو بروزِ قِیامت روشن فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے اُنتالیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرت ِ سیِّدُنا ِضیاء الدین مَدَنی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی  کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان  کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :

(39)حضرتِ سیِّدُنا ضیا ء الدین مَدَنی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی

        حضرتِسیِّدُنا قطبِ مدینہ کی ولادتِ باسعادت ۱۲۹۴ھ ، ۱۸۷۷ء میں پاکستان کے شہرضیاء کوٹ (سیالکوٹ)میں بمقام کلاس والا ہوئی۔ ’’یاغفورُ‘‘ سے سِنِ وِلادت نکلتا ہے ۔آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُحضرتِ سیِّدُنا صِدّیقِ اکبر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی اولاد میں سے ہیں ۔ ابتدائی تعلیم ضیاء کوٹ میں حاصِل کی پھر مرکزالاولیاء (لاہور) اور دہلی میں کچھ عرصہ تَحْصِیلِ علم کیا بِالآخِر پیلی بِھیت(یوپی انڈیا) میں حضرتِ علامہ مولیٰنا وَصی احمد مُحَدِّث سُورتی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں تقریباً چار سال رہ کر عُلُوم دِینیہ حاصِل کئے اور دَورۂ حدیث کے بعد سَنَدِ فَراغَت حاصِل کی۔ زَہے قسمت امامِ اَہلسنت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے دستِ مبارَک سے سیِّدی قطبِ مدینہرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی دستار بندی فرمائی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے امامِ اَہلسنّت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے بیعت بھی کی اور صِرْف ۱۸ سال کی عُمر میں اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے سَنَدِ خلافت بھی پائی۔

؎  کلی ہیں گلستانِ غوث الوریٰ کی          یہ باغ رضا کے گُلِ خوشنما ہیں

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کراچی تا بَغداد

          ۱۳۱۸ھ (۱۹۰۰ء) میں تقریباً ۲۴ سال کی عُمر میں آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاپنے پیر و مرشِدامامِ اَہلسنت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے رخصت ہوکر باب المدینہ( کراچی) تشریف لائے۔ کچھ عرصہ کراچی میں گزار کر حُضُورِ غوثِ اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے خُصُوصی فُیُوض و بَرَکات حاصِل کرنے کیلئے بَغدادِ مُعلّٰی وارِد ہوئے ۔ وہاں تقریباً چار برس اِسْتِغْراق کی کیفیت رہی اور مَجذْوب رہے۔ بَغداد شریف میں ۹ برس اور کچھ ماہ قِیام رہا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

روزانہ محفِلِ میلاد

ٍ          حضرتِ قطبِ مدینہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جُنون کی حد تک عشق تھا بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ آپ رحمۃ اللہ  تعالی ٰعلیہ  فَنافی الرَّسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی



Total Pages: 64

Go To