Book Name:Sharah Shajra Shareef

        غُرَباء کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے تھے، ہمیشہ غریبوں کی اِمداد کرتے رہتے۔ بلکہ آخِری وَقت بھی عزیز و اقارِب کو  وصیّت کی کہ غُرَباء کاخاص خیال رکھنا ۔ ان کو خاطِر داری سے اچھے اچھے اور لذیذ کھانے اپنے گھر سے کِھلایا کرنا اور کسی غریب کو مطلق نہ جھڑکنا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاکثر تصنیف و تالیف میں لگے رہتے۔ نماز ساری عمر باجماعت ادا کی ، آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی خوراک بہت کم تھی، اور روزانہ ڈیڑھ دو گھنٹہ سے زیادہ نہ سوتے ۔(حیات اعلٰی حضرت ، ج ۱، ص ۹۶، مکتبۃ المدینہ کراچی)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تالیفات

        آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے مختلف عُنوانات پر کم وبیش ایک ہزار کتابیں لکھی ہیں ۔یوں توآپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے ۱۲۸۶ھ سے ۱۳۴۰ھ تک لاکھوں فتوے لکھے، لیکن افسوس! کہ سب کو نَقل نہ کیا جاسکا، جو نَقل کرلیے گئے تھے ان کا نام’’  العطایا النبّویہ فی الفتاوی الرضویہ‘‘ رکھا گیا ۔ فتاویٰ رضویہ (جدید) کی 30جلدیں ہیں جن کے کُل صفحات : 21656، کل سُوالات وجوابات : 6847اور کل رسائل :  206ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ (جدید) ، ج ۳۰، ص ۱۰، رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور)

 ہر فتوے میں دلائل کا سمندر موجزن ہے۔ قرآن و حدیث ، فِقْہْ ، مَنْطِق اور کلام وغیرہ میں آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی وُسْعَتِ نظری کا اندازہ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے فتاوٰی کے مُطالَعے سے ہی ہوسکتا ہے۔

قراٰنِ پاک کا اردوترجمہ

        آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے قرآنِ مجید کا ترجَمہ کیاجو اُردو کے موجودہ تراجم میں سب پر فائِق ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے ترجَمہ کا نام’ ’ کنزُالایمان‘‘ ہے ۔جس پر آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے خلیفہ صدر الافاضل مولانا سَیِّد نعیم الدین مُراد آبادی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے حاشیہ لکھا ہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

وصال شریف

        اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنی وفات سے چارماہ بائیس دن پہلے خود اپنے وِصال کی خبر دے کر ایک آیتِ قرآنی سے سالِ وفات کا اِستخراج فرمایا تھا۔وہ آیتِ مبارکہ یہ ہے : ۔ 

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ (پ ۲۹، الدھر : ۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان : اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کُوزوں کا دَور ہوگا۔(سوانح امام احمد رضا ، ص ۳۸۴، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر )

        ۲۵صفَر الْمُظَفَّر ۱۳۴۰ھ   مطابق ۱۹۲۱ء کو جُمُعَۃُ الْمبارَککے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق ۲ بج کر ۳۸ منٹ پر، عین اذان کے وقت اِدھر مُؤَذِّن نے حَیَّ عَلَی الفَلاح کہا اور اُدھر اِمامِ اَہلسُنَّت ، مُجَدِّدِ دین ومِلّت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِطریقت،  حضرتِ علّامہ مولٰینا الحاج الحافِظ القاری الشاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃ الرحمن  نے داعئی اَجل کو لبیک کہا۔اِنّا لِلّٰہِ وَانَّآ اِلَیہِ رَاجِعُون۔

        آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزارِپُراَنوار بریلی شریف (ہند)میں آج بھی زیارت گاہِ خاص و عام بنا ہوا ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تَعالٰی عَلٰی محمَّد

دربارِ رسالت  میں انتظار

        ۲۵ صفَر المُظَفَّر کو بیت المقدَّس میں ایک شامی بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے خواب میں اپنے آپ کو دربارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں پایا ۔تمام صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰیدربار میں حاضِر تھے ، لیکن مجلس میں سُکوت طاری تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی آنے والے کا اِنتظار ہے ۔شامی بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں عرض کی ، حُضور!( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کس کا انتظار ہے ؟ سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا، ہمیں احمد رضا کااِنتظار ہے۔شا می

 بزرگ نے عرض کی، حُضُور ! احمد رضا کون ہیں ؟ ارشاد ہوا، ہندوستان میں بریلی کے باشِندے ہیں ۔بیداری کے بعد وہ شامی بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِمولانا احمد رضارَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی تلاش میں ہندوستان کی طرف چل پڑے اور جب وہ بریلی شریف آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس عاشقِ رسول کا اسی روز (یعنی ۲۵ صفرالمُظفَّر ۱۳۴۰ھ) کو وصال ہوچکا ہے جس روز انہوں نے خواب میں سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو یہ کہتے سنا تھا کہ۔’’ہمیں احمد رضا کا انتظار ہے‘‘۔  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تَعالٰی عَلٰی محمَّد

ٹرین رُکی رہی

        اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِایک بار پِیلی بِھیت سے بریلی شریف بذرِیعہ رَیل جارہے تھے۔ راستے میں نواب گنج کے اسٹیشن پر ایک دو مِنَٹ کے لیے ریل رُکی، مغرِب کا وَقت ہوچکا تھا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاپنے ساتھیوں کے ساتھ نَماز کے لیے پلیٹ فارم پر اُترے ۔ ساتھی پریشان تھے کہ َریل چلی جائے گی تو کیا ہوگا لیکن آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے اطمینان سے اذان دِلوا کر جماعت سے نَماز شُروع کردی۔ اُدھر ڈرائیور انجن چلاتا ہے لیکن رَیل نہیں چلتی، اِنجن اُچھلتا اورپھر پٹری پر گرتا ہے۔   

 



Total Pages: 64

Go To