Book Name:Sharah Shajra Shareef

        حضرت ابو حامِد سیِّد محمد محدِّث کچھوچھوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ تکمیلِ جواب کے لیے جُزئِیّاتِ فِقْہ کی تلاشی میں جو لوگ تھک جاتے وہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں عَرض کرتے اور حوالہ جات طلب کرتے تو اُسی وقت آپ فرمادیتے کہ رَدُّالمُحْتَارجلد فُلاں کے فُلاں صَفَحہ پر فُلاں سَطر میں اِن الفاظ کے ساتھ جُزئِیّہ موجود ہے۔دُرِّ مُخْتَار کے فُلاں صَفَحے پر فُلاں سَطر میں عبارت یہ ہے۔ عالمگیری میں بقید جلد و صَفَحہ وَسَطر یہ الفاظ موجود ہیں ۔ ہِندیہ میں خَیریہ میں مَبْسُوط میں ایک ایک کتاب فِقہ کی اصل عبارت مع صَفَحہ وسَطر بتادیتے اور جب کتابوں میں دیکھا جاتا تو وُہی صَفَحہ وسَطر و عبارت پاتے جو زَبانِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا تھا۔ اِس کو ہم زِیادہ سے زِیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ خُداداد قوّتِ حافِظہ سے چودہ سو سال کی کتابیں حِفظ تھیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

صرف ایک ماہ میں قراٰن پاک حفظ کرلیا

        آپ نے صرف ایک ماہ میں قراٰن پاک حفظ کیا ۔چنانچہ حضرتِ جناب سیِّد ایوب علی صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا بیان ہے کہ ایک روز اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ارشاد فرمایا کہ بعض ناواقِف حضرات میرے نام کے آگے حافِظ لکھ دیا کرتے ہیں ، حالانکہ میں اِس لقب کا اَہل نہیں ہوں ۔ سَیِّدایّوب علی صاحِب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے اسی روز سے دَور شُروع کردیا جس کا وَقْت غالِباً عشاء کا وُضو فرمانے کے بعد سے جماعت قائم ہونے تک مخصوص تھا۔ روزانہ ایک پارہ یاد فرمالیا کرتے تھے، یہاں تک کہ تیسویں روز30 واں پارہ یاد فرمالیا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تَعالٰی عَلٰی محمَّد

عشق رسول صلی اللہ   تَعَالٰی علیہ و اٰلہٖ و سلّم

        آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِسراپا عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا نُمُونہ تھے، آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا نعتیہ کلام (حدائقِ بخشش شریف ) اس اَمرکا شاہد ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی نوکِ قلم بلکہ گہرائیٔ قَلب سے نِکلا ہوا ہر مِصْرَعَہ آپ کی سروَرِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بے پایاں عقیدت و مَحَبَّت کی شہادت دیتا ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے کبھی کسی دُنیوی تاجدار کی خوشامد کے لیے قصیدہ نہیں لکھا، اس لیے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے حضور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اِطاعت و غلامی کو دل وجان سے قبول کرلیا تھا۔ اس کا اظہار آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے ایک شعر میں اس طرح فرمایا۔

انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

لِلّٰہِ الْحَمْد  میں دنیا سے مسلمان گیا

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

   

چشمانِ سر سے زیارتِ سرکار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

        جب آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِدوسری بار حج کے لیے تشریف لے گئے تو زیارتِ نبیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی آرزو لیے روضۂ اَطہر کے سامنے دیر تک صلوٰۃ وسلام پڑھتے رہے، مگر پہلی رات قسمت میں یہ سعادت نہ تھی۔ اس موقع پر وہ معروف نعتیہ غزل لکھی جس کے مَطْلَع میں دامنِ رحمت سے وابَستگی کی اُمّیددکھائی ہے ۔   ؎

وہ سُوئے لالہ زار پھرتے ہیں

تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

لیکن مَقْطَع میں مذکورہ واقِعہ کی یاس انگیز کیفیت کے پیشِ نظر اپنی بے مائیگی کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔      ؎

کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضاؔ

تجھ سے شَیدا ہزار پھرتے ہیں

(اعلیٰحضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے مِصرعِ ثانی میں بطورِ عاجزی اپنے لیے ’’کُتّے‘‘ کا لفظ اِستعمال فرمایا ہے مگر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اَدَباً یہاں ’’شیدا‘‘ لکھ دیا ہے)

یہ غَزَل عرض کرکے دیدار کے اِنتظار میں مُؤَدَّب بیٹھے ہوئے تھے کہ قسمت جاگ اٹھی اور چشمانِ سر سے بیداری میں زیارتِ حُضُورِ اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے مشرَّف ہوئے۔(حیات اعلٰی حضرت ، ج ۱، ص ۹۲، مکتبۃ المدینہ، بابُ المدینہ کراچی)

        سبحٰنَ  اﷲ  عَزَّوَجَلَّ  ! قربان جائیے ان آنکھوں پر کہ جنہوں نے عالمِ بیداری میں محبوبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا دیدار کیا۔کیوں نہ ہو آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے اندر عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ’’  فَنا فی الرَّسول‘‘ کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا نعتیہ کلام اِس اَمر کا شاہد ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِفرمایا کرتے ، اگر کوئی میرے دل کے دو ٹکڑے کردے تو ایک پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور دوسرے پر مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَلکھا ہوا پائے گا۔

(سوانح امام احمد رضا، ص۹۶، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 64

Go To