Book Name:Sharah Shajra Shareef

(۱)پہلے احمدسے مرادکسی کا نام نہیں بلکہ اس کے لغوی معنی ملحوظ ہیں یعنی زیادہ پسندیدہ اور ’’رضائ‘‘کے معنی ہیں خوشنودی۔ لہذااَحمد رضائے اَحمد ِمرسل (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کا معنی ہوا :   اَحمد ِمُرْسَل (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی پسندیدہ رضا ۔اور دوسرے مصرع میں اَحمد رضا سے امامِ اَہلسنّت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا اسمِ گرامی اَحمد رضا مراد ہے ۔چنانچہ اس شعر میں نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی پسندیدہ رضا کو و اعلیٰ حضرت مولانا احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے وسیلے سے طلب کیا گیا ہے ۔

 (۲)پہلے احمدسے مراد نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہیں اور رضائے احمد کا مطلب ہے احمد یعنی سرکارِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رضا ! چنانچہ اس شعر میں سرکارِ مدینہ اور رضائے سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اعلیٰ حضرت مولانا احمدرضاخان کے وسیلے سے طلب کیا گیا ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے اڑتیسویں شیخِ طریقت یعنی اعلیٰ حضرت امام اَحمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن   کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :

(38)اعلٰیحضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن

     اعلٰیحضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، عظیمُ البَرَکت، عَظِیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت ، مُجَدِّدِ دِین ومِلَّت، حضرتِ علَّامہ مولٰینا الحاج الحافظ القاری الشّاہ امام احمد رَضا خان  علیہ رحمۃ الرحمٰن کی ولادت باسعادت بریلی شریف (ہند)کے مَحَلّہ جَسولی میں ۱۰ شَوَّالُ الْمُکَرَّم ۱۲۷۲ھ بروز ہفتہ بوقتِ ظہر مطابِق 14 جون 1856ء کو ہوئی۔ سِنِ پیدائش کے اِعتبار سے آپ کا تاریخی نام اَلْمُختار (۱۲۷۲ھ) ہے۔آپ کا نامِ مبارَک محمد ہے، اور آپ کے دادا نے احمد رضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے نام کے ساتھ عبدالمصطفیٰ کا اضافہ فرمایا ، جب آپ دستخط کرتے تو’’ عبدالمصطفیٰ احمدرضا‘‘ لکھا کرتے ۔ایک نعتیہ غزل کے مقطع میں لکھتے ہیں   ؎

خوف نہ رکھ ذرا رضاتُوتو ہے عبدمصطفیٰ

تیرے لئے امان ہے تیرے لئے امان ہے

        اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے صرف تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں تمام مُروَّجہ عُلُوم کی تکمیل اپنے والدِ ماجد رئیسُ المُتَکَلِّمِینمولانا نقی علی خان علیہ رحمۃ المنّان سے کرکے سَنَدِفراغت حاصل کرلی۔ اُسی دن آپ نے ایک سُوال کے جواب میں پہلا فتویٰ  تحریر فرمایا تھا۔ فتویٰ صحیح پا کر آپ کے والدِ ماجد نے مَسندِ اِفتاء آپ کے سپرد کردی اور آخر وقت تک فتاویٰ تحریر فرماتے رہے۔

        اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ۱۲۹۴ھ، 1877ء میں اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے ہمراہ حضرتِ شاہ آلِ رسول رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں مارہرہ مطہرہ میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے-اس پر کسی نے حضرت شاہ آل رسول رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت سراپااقدس میں عرض کی : ’’حضور! آپ کے یہاں تو ایک لمبے عرصے تک مجاہدات وریاضات کے بعد خلافت واجازت مرحمت کی جاتی ہے ، پھر کیا وجہ ہے کہ ان دونوں (یعنی مولانا نقی علی خان اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِما  )کو بیعت کرتے ہی خلافت عطا فرمادی ؟‘‘اِرشاد فرمایا : ’’اورلوگ زنگ آلود میلاکچیلا دل لے کر آتے ہیں ، اس کی صفائی وپاکیزگی کے لئے مجاہداتِ طویلہ اور ریاضات شاقہ کی ضرورت پڑتی ہے ، یہ دونوں حضرات صاف ستھرا دل لے کر ہمارے پاس آئے ان کو صرف اِتصالِ نسبت کی ضرورت تھی اور وہ مُرید ہوتے ہی حاصل ہوگئی ۔‘‘

        اللہ   تَعَالٰینے آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکو بے اندازہ   عُلُومِ جَلَیلہ سے نوازا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے کم و بیش پچاس  عُلُوم میں قلم اُٹھایا اور قابلِ قدر کُتُب تصنیف فرمائیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکو ہر فن میں کافی دسترس حاصل تھی۔ علمِ توقیت، (عِلمِ۔ تَو۔ قِیْ ۔ ت ) میں اِس قَدر کمال حاصل تھا کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی مِلالیتے۔ وَقْت بِالکل صحیح ہوتا اور کبھی ایک مِنَٹ کا بھی فرق نہ ہوا۔

ہاتھوں ہاتھ مسئلہ حل فرمادیا

         علمِ رِیاضی میں آپ یگانۂ رُوزگار تھے۔ چُنانچِہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضِیاء الدین جو کہ رِیاضی میں غیر ملکی ڈگریاں اور تَمغہ جات حاصل کیے ہوئے تھے آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں ریاضی کا ایک مسئلہ پوچھنے آئے۔ ارشاد ہوا، فرمائیے! اُنہوں نے کہا ، وہ ایسا مسئلہ نہیں جسے اتنی آسانی سے عَرض کروں ۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا، کچھ تو فرمائیے۔ وائس چانسلر صاحب نے سوال پیش کیا تو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے اُسی وقت اس کا تَشَفّی بخش جواب دے دیا۔ اُنہوں نے انتہائی حیرت سے کہا کہ میں اِس مسئلہ کے لیے جرمن جانا چاہتا تھا اِتّفاقاً ہمارے دینیات کے پروفیسر مولانا سَیِّد سُلَیمان اشرف صاحِب نے میری راہنمائی فرمائی اور میں یہاں حاضر ہوگیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اِسی مسئلہ کو کتاب میں دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحِب بصدِ فرحت و مُسرّت واپس تشریف لے گئے اور آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی شخضیت سے اِس قدر مُتَأَثِّرہوئے کہ داڑھی رکھ لی اور صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوگئے۔عِلاوہ ازیں اعلیٰحضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِعلمِ تکسِیر، علمِ ہَیئَت ، علمِ جَفَروغیرہ میں بھی کافی مُہارت رکھتے تھے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خُداداد حافظہ

 



Total Pages: 64

Go To