Book Name:Sharah Shajra Shareef

حضرتِ آلِ رسول مُقْتَدا کے واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

مشکل لفظ کا معنٰی :       مقتدا : جس کی پیروی کی جائے۔

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

         یاالٰہی  عَزّوَجَلَّتجھیسَیِّد آلِ رسول رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا واسطہ مجھے دونوں جہاں میں رَسول ُاللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آل کا خادم بنا۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے سینتیسویں شیخِ طریقت یعنیحضرتِ سَیِّد آلِ رسول رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :

(37)حضرتِ سیِّدُنا آلِ رسول مارہرویعلیہ رحمۃ اللہ  الباری

        حضرتِ  شاہ آلِ رسول مارِہروی  علیہرحمۃ اللہ  الباری تیرھویں صدی ہجری کے اَکابر اولیائے کرام میں سے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی ولادتِ باسعادت رجب المرجب ۱۲۰۹ھ میں ہوئی  اور والد ماجدحضرت شاہ آلِ بَرَکات رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی آغوشِ شفقت و محبت میں تربیت اور نشوونما پائی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو اپنے بڑے چچاحضرت اچھے میاں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے اجازت و خلافت حاصل تھی۔والد ماجد نے بھی اجازت مرحمت فرمائی تھی مگر مرید اچھے میاں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے سلسلہ میں فرماتے تھے ۔۱۸ ذوالحجۃ الحرام  ۱۲۹۶ھ کووصال شریف ہوا۔ وقتِ رِحلت لوگوں نے استدعا کی کہ حضور! کچھ وصیت فرمادیجئے۔ بہت اصرار پر فرمایا، مجبور کرتے ہو تو لکھ لو ہمارا وصیت نامہ۔ اَطِیْعُو االلّٰہَ وَ اَطِیْعُواالرَّسُوْلَ (یعنی اللہ  اور اس کے رسول عَزَّوَجَلَّ  وصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اطاعت کرو)بس یہی کافی ہے اور اسی میں دین و دنیا کی فلاح ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزار شریف مارہرہ شریف میں مرجع خلائق ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

معراج  کی حقیقت

         بدایوں کے ایک صاحب جو آپ کے مرید خاص تھے۔وہ ایک مرتبہ سوچنے لگے کہ معراج شریف چند لمحوں میں کس طرح ہو گئی؟آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاس وقت وضو فرمارہے تھے۔ فوراً اس سے کہا : ’’ میاں اندر سے ذرا تولیہ تو لاؤ!‘‘موصوف جب اندر گئے تو ایک کھڑکی نظر آئی ۔اس جانب نگاہ دوڑائی تو کیادیکھتے ہیں کہ پُر فضا باغ ہے۔ یہاں تک کہ اس میں سیر کرتے ہوئے ایک عظیم الشان شہر میں پہنچ گئے۔وہاں انہوں نے کاروبار شروع کر دیا، شادی بھی کی اولاد بھی ہوئی، یہاں تک کہ 20 سال کا عرصہ گزر گیا۔جب اچانک حضرت نے آواز دی تو وہ گھبرا کر کھڑکی میں آئے اور تولیہ لئے ہوئے دوڑے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ابھی وضو کے قطرات حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے چہرہ مبارک پر موجود ہیں اوردست مبارک بھی تر ہیں ۔وہ انتہائی حیران و ششدر ہوئے، تو حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے تبسم آمیز لہجے میں فرمایا : ’’میاں وہاں بیس برس رہے اور شادی بھی کی اور یہاں ابھی تک وضو خشک نہیں ہوا اب تو معراج کی حقیقت کو سمجھ گئے ہو گے؟

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(19)کر عطا اَحمد رضائے اَحمد ِمُرْسَل   مجھے  (صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)

میرے مولیٰ حضرتِ اَحمد رَضا  کے واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

مشکل الفاظ کے معانی :

احمد : پسندیدہ

رضا : خوشنودی

مولیٰ : آقا

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

        اے میرے مولیٰ عَزّوَجَل تجھے میرے آقائے نعمت اعلیٰ حضرت امام اَحمد رضارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا واسطہ مجھے  اَحمد ِمُرْسَل (صلّی اللہ   تَعَالٰی علیہ وآلہ وسلّم) کی سب سے پسندیدہ رضاوخوشنودی عطا فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 وضاحت :

     یہ شعر شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان علیہ رحمۃ اللہ  المنّان کا ہے ، اس شعر کے پہلے مصرع میں اَحمددو مرتبہ لایا گیا ہے۔اس شعر کی وضاحت دوطرح سے کی گئی ہے جن میں زیادہ فرق نہیں ہے :     

 



Total Pages: 64

Go To