Book Name:Sharah Shajra Shareef

(16) حُبِّ اَہلِ بیت دے آلِ محمد   کے لئے (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

کر شہیدِعشق حمزہ پیشوا کے واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

   

مشکل الفاظ کے معانی :

 حُب : محبت

پیشوا : امام

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

         یا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   تجھے حضرت  ِشاہ ابوا لبَرَکات آلِ محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا واسطہ مجھے نبیِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اَہلِ بیت کی محبت عطا فرما اورحضرت شاہ سید حمزہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے وسیلے سے مجھے بھی شہیدِعشق بنا یعنی اپنی محبت میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والا بنادے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

وضاحت :

        ’’ حمزہ‘‘ کے ساتھ’’ شہید‘‘ ذکر کرنے میں سَیِّدُ الشُّہَداء حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے راہ حق میں  شہید ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے چونتیسویں اور پینتیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرت ِشاہ ابوا لبَرَکات آلِ محمدرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاور حضرت ِ سیِّدُناشاہ حمزہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان دونوں بُزُرگوں رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَاکے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :     

(34)حضرتِ سیِّدُنا آلِ محمد مارہروی علیہ رحمۃ اللہ  الباری

        حضرتِابوالبَرَکات سَیِّد آلِ محمد مارِہروی  علیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوی ۱۸ رمضان المبارک ۱۱۱۱ھ جمعرات کو بلگرام میں پیدا ہوئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِوالد ِگرامی حضرت شاہ برکت اللہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی آغوشِ شفقت میں پروان چڑھے اور والدِ مکرم ہی سے شرفِ بَیْعَت وخرقہ خلافت و اجازت حاصل تھا۔آپ مکمل 3سال تک اعتکاف میں خلوت گزیں رہے اور جو کی روٹی سے افطار کیا کرتے تھے ۔والد محترم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنی زندگی میں ہی آپ کو اپنا مکمل سجادہ نشین مقرر فرما دیا تھا ۔ چنانچہ جب کوئی طالب ان کی خدمت میں آتا تو فرماتے : اٰل محمد کے پاس جاؤ، اس نے میرے سر سے بہت بوجھ ہلکا کردیا ہے اور مجھے بہت راحت وآرام بخشا ہے ۔

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے تقریباً22 خلفائے کرام تھے ۔جن کی وجہ سے سلسلہ قادِریہ کو بہت فروغ حاصل ہوا۔۱۶ رمضان المبارک ۱۱۶۴؁ھ پیرشریف کی رات کو آپ کا وصال ہوا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزارِ مبارَک مارہرہ شریف میں ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(35)حضرتِ شاہِ حمزہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ  الباری

        حضرتِسیِّد حمزہ مارِہروی  علیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوی ۱۴ ربیع الثانی۱۱۳۱ھ میں مارہرہ شریف میں پیدا ہوئے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے والد گرامی الشاہ  ابوالبرکات اٰل محمدرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِسے جملہ عُلوم وفُنون کی تکمیل کی اور ان ہی کی خدمت میں رہ کر سُلوک کی منازل طے کیں اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِہی کے دستِ حق پرست پر بَیْعَت کی اور خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِعلم وفضل میں یکتا، مایہ ناز مصنف اور صاحب ِکرامت و تصرف بُزُرگ تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے۱۴ رمضان المبارک ۱۱۹۸ھ بدھ کے روز اس جہان فانی سے کوچ فرمایا۔آپ کی قبرِ انور مارہرہ شریف میں پرانے مقبرے میں زیارت گاہِ خاص وعام ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

زیارتِ سرکار صلی اللہ   تَعَالٰیعلیہ والہ وسلم

         ایک باکمال درویش نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت مبارکہ میں ایک دُرود شریف نذر کیا۔ حضرت نے اسے پسند فرما کر رکھ لیا۔اِسی شب میں حضور ِاقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت نصیب ہوئی۔لب ہائے مبارکہ سے رحمت کے پھول جھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے : ’’صاحبزادے اٹھو !اور درود شریف پڑھو ۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِبیدار ہوئے ، غسل فرمایا ، عطر لگایا ، بخور وغیرہ روشن کئے اور اس درود شریف کا ورد شروع کیا ۔ابھی درود شریف ختم بھی نہ کیا تھاکہ زیارتِ سرور کونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے مشرف ہوئے اور آپ



Total Pages: 64

Go To