Book Name:Sharah Shajra Shareef

        حضرتِ        میرسَیِّد فضل اللہ  کالپوی علیہ رحمۃ اللہ  الباری کالپی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ  تعالٰی علیہنے مکمل تعلیم وتربیت والد ماجد حضرت میر سید احمد علیہ رحمۃ اللہ  الماجد سے پائی اور اپنے وقت کے جملہ عُلوم و فنون کو حاصل فرما کر مقتدائے وقت و امام بن کر خلقِ خدا کی ہدایت و راہنمائی میں مشغول ہوگئے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِزُہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں ممتاز اور مشائخِ عصر میں معزز ومقبول تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا وصال مبارَک۱۴ ذُوْالْقَعْدَۃ الحَرَام بروز جمعرات شام کے وقت ۱۱۱۱ھ میں ہوا۔مزارِ مبارَک کالپی شہر میں زیارت گا ہِ خلائق ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(15)دین ودنیا کے مجھے بَرَ کات دے بَرَکات سے (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

عشقِ حق دے عشقی  عشقِاِنْتِمَا کے واسِطے

مشکل الفاظ کے معانی :

انتما : نسبت رکھنا

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

         یا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   حضرتِ سَیِّدشاہ بَرکت اللہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے وسیلہ سے مجھے دین ودنیا کی بَرَکات عطافرمااور اِنہی کے صدقے مجھے اپنا عاشقِ صادق بنا۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

وضاحت :

          اِنْتِمَا کا معنی ہے ’’انتساب‘‘ یعنی نسبت رکھنا ۔ عشقِ اِنْتِمَا کا معنی ہوا عشق کی نسبت رکھنا یعنی ’’عشق کی نسبت رکھنے والے حضرتِ عشقی‘‘ کا تجھے واسطہ ہمیں بھی اپنا عشق عطا فرما ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے تینتیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرتِ شاہ بَرکت اللہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :     

(33)حضرتِ سیِّدُنا برکت اللّٰہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ  الباری

        حضرتِسیِّد بَرَکت اللہ  مارہروی علیہ رحمۃ اللہ  الباری۲۶ جمادی الثانی ۱۰۷۰ھ کو بلگرام(ہند) میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد ماجد حضرت سیداویس  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں رہ کر تفسیر و حدیث ، اُصول حدیث، فقہ، وغیرہ کا دَرْس لیااور بہت ہی قلیل مدت میں ان تمام عُلومِ مُرَوَّجَہ میں مہارتِ تامہ حاصل کی۔والد ِماجد نے جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرما کر سلاسل خمسہ قادِریہ، چشتیہ، نقشبندیہ ، سہروردیہ، مداریہ میں بَیْعَت لینے کی بھی اجازت عطا فرمائی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمسلسل ۲۶ سال تک روزہ رکھتے رہے اور صرف ایک کَھجورسے افطار کرتے۔جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے حضرت سیدنا شاہ فضل اللہ  کالپوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے علم وحکمت و سلوک ومعرفت کا شہرہ سنا توکالپی شریف جانے کا رخت سفر باندھا ۔ کالپی شریف اس وقت علم وحکمت وتہذیب وتمدنِ اسلامی کا قبلہ تھا ۔آپ سفر کی صعوبتیں اُٹھا کر نُور العارفین حضرت سید شاہ فضل اللہ  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی بارگا عالی وقار میں پہنچے تو انہوں نے تین بار فرمایا : دریا بدریا پیوست یعنی دریا دریا میں مل گیا ۔ صرف اسی کلمے ہی سے حضرت سید میر شاہ فضل اللہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے سید شاہ برکت اللہ  مارہروی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو سلوک وتصوف اور دیگر بہت سے مقامات کی سیر کرادی ۔ پانچوں سلاسلِ طریقت کی اجازت ہونے کے باوُجود حضور غوث الاعظم رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِسے عقیدت کی بنا پر سلسلہ عالیہ قادِریہ میں بَیْعَت فرماتے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ۱۰ محرم الحرام ۱۱۴۲ھ کو

 صبح صادق کے وقت اس دارِ فانی سے دارِ بقاء کی طرف روانہ ہوئے ۔ مارہرہ شریف میں آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزار مبارَک مرجع خلائق ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خطرات دل پر آگاہی

        ایک بار فرخ آباد کے ایک شخص شجاعت خان نے مارہرہ شریف کی سرائے میں قیام کیا ۔ اُس نے سوچا کہ حضور صاحب البرکات رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو صاحب تصرف اس وقت سمجھوں گا کہ وہ مجھے ملاقات کے وقت کچھ کھانے کو دیں ۔ عصر کے وقت جب وہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو اُس وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے دست مبارک میں باجرے کی روٹیاں اور گوشت پڑا ہو امیتھی کا ساگ تھا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِشجاعت خاں کو دیکھ کر مسکرائے تو شجاعت کے پاؤں کپکپانے لگے اور جسم میں لرزہ طاری ہو گیا۔آپ نے شجاعت خاں کو باجرے کی روٹی اور وہ ساگ عنایت فرمایا۔اس کے بعد سے شجاعت خاں کو آپ کے صاحب تصرف ہونے کا یقین کامل ہو گیا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 64

Go To