Book Name:Sharah Shajra Shareef

قبل  شہر دکن کی طرف تشریف لے گئے اور مَفْقُودُ الخَبَر (یعنی لاپتہ)ہوگئے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاپنی والدہ محترمہ کی آغوش تربیت میں پروان چڑھے اور7 برس کی عمر میں اپنے وقت کے مشہور محدث شیخ محمد یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں حاضر ہوکر علومِ دینیہ سیکھے۔پھرآپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِجب حضرت سیدنا جمال الاولیاء رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے عالی ظرف کو دیکھتے ہوئے اپنے سلسلہ بَیْعَت میں داخل کیا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت عطا کی۔

        سات سال کی عمر سے آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی نمازِ باجماعت کبھی قضاء نہ ہوئی۔آخر عمر میں ۲۶سال تک مسلسل روزہ رکھتے رہے سوائے اُن دِنوں کے جن میں روزہ رکھنا حرام ہے۔اپنے مرشد کامل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے اکتسابِ فیض کے بعد کالپی شریف واپس آئے اور درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ 13 مفید تصانیف یادگار چھوڑیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ65برس کی عمر پا کر ۲۶ شعبان المعظم ۱۰۷۱ھ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ۔مزارِ  پُر انوار کالپی شریف کے باہر دکھن اور پچھم گوشے میں شہر سے تقریباًایک میل کے فاصلے پر ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بدکار کو نیکوکار بنادیا

         منقول ہے کہ ایک شخص صاحب ثروت تھا اور متعدد گناہوں میں مبتلا رہتا تھا ۔ اس کی عادت تھی جس درویش کا شہرہ سنتا ان کی صحبت میں جاتا۔ بالآخر ایک مرتبہ اس نے سوچا کہ کالپی شریف حضرت میر سید محمد قدس اللہ  سرہ العزیز کی بارگاہ میں چلنا چاہئے ۔ اور اپنے دل میں یہ خیال باندھا کہ اگر پہلی بار دیکھنے کے ساتھ ہی میرے اوپر کوئی کیفیت طاری ہو گئی تومیں اپنے تمام گناہوں سے تائب ہو جاؤں گا اور اگر کوئی کیفیت ظاہرنہیں ہو گی تو علی الاعلان شراب نوشی کروں گا۔جب وہ حضرت کی بارگاہ میں پہنچا تو دیکھتے ہی بے ہوش ہو گیا اور کافی دیر تک عالم بے ہوشی میں پڑا رہا ۔جب افاقہ ہو ا تو اپنے گریبان کو چاک کر دیا اور فقراختیار کر کے  تارکُ الدنیا ہوگیا۔ آپ نے اپنے کشف سے اس کے آئندہ حالات کا مشاہدہ فرمایااور ایک عمدہ جوڑا مع خادم کے اس کے پاس روانہ فرمایا۔اس نے خلعت کو قبول نہ کیا ۔خادم نے ہر چند کوشش کی مگر وہ انکارہی کرتارہا۔آخر کار حضرت خود تشریف لائے اورارشادفرمایاکہ ’’تم میری اِرادت کی وجہ سے مرجعِ اربابِ سعادت ہو چکے ہو ، اس لئے جو کچھ بھی تمہیں دیا جا رہا ہے اسے قبول کر لو، تم کیا جانتے ہو کہ اس میں کیا راز ہے؟‘‘یہاں تک کہ اس نے خلعت کو پہنا اور پھر اس پر راز سر بستہ منکشف ہوئے اور وہ آپ کے درکا خادم ہو گیا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(31)حضرتِ سیِّداحمد کالپوی علیہ رحمۃ اللہ  الباری

        حضرتِ میر سَیِّد احمد کالپوی علیہ رحمۃ اللہ  الباری کالپی شہر (ہند) میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی کُتُبِ دینیہ اپنے والدِ گرامی حضرتِ میر سید محمد بن ابی سعید الحسنی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی سے پڑھیں ۔آپ نے جملہ عُلومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد اپنے والدِ معظم سے بَیْعَت کا شرف حاصل کیا اور صرف 24 سال کی عمر میں مسندِ والدِ ماجد پر رونق افروز ہوئے اور تلقین و اِرشاد کی محفل کو رونق بخشی۔

        آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے اَخلاق و عادات اپنے اَسلاف کے قدم بقدم تھے۔ رَحم و کرم، بخشش و عطا، عفوو دَرگزر میں اپنے اسلاف کے آئینہ دار تھے۔ علمِ نَبَوی اور اَخلاقِ نَبَویصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اِشاعت میں مثالی کارنامے انجام دئیے۔آپ جامع عُلومِ ظاہر و باطن اور حقیقت و معرفت سے آشنا تھے۔ زُہد و تقویٰ ، عبادت و ریاضت میں کامل تھے ۔اخلاق و عادات میں یگانہ عصر تھے ۔ عُنفوانِ جوانی ہی سے نور ہدایت آپ کی جبین ہمایوں سے چمکتا تھا۔۱۹ صفر المظفر ۱۰۸۴ھ جمعرات کے دن شام کے وقت انتقال فرمایا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزار ِ مُبارَک کالپی شریف میں مرجع خلائق ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 توجہ کی تاثیر

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے کشف وتوجہ میں بڑی تاثیر تھی ، جس شخص پر توجہ کرتے وہ بے خُود ہو کر گر پڑتا ۔ ایک شخص آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’ حضور !میرے دل کی سختی اور تنگی اپنے شباب پر ہے ، میرا کوئی قریبی رشتہ دار یا لڑکا بھی وصال کر جائے تو حالتِ گریہ نہیں آسکتی ۔اس لئے حضور سے التماس ہے کہ میری اس حالت زارپر توجہ فرمائیں ۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑ کر ہلایا مگر اس کی کیفیت بدستور باقی رہی ، یہاں تک کہ تیسری بار میں اس پر رقّت کی کیفیت طاری ہوئی اوروہ آہ وبُکا کرنے لگے، اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ جب اسے افاقہ ہوا تو اِس عظیم کرامت کو دیکھ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے دست مبارک پر بیعت ہوا اور عقیدت مندوں میں داخل ہو گیا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(32)حضرتِ سیِّدفضل اللّٰہ کالپوی علیہ رحمۃ اللہ  الباری

 



Total Pages: 64

Go To