Book Name:Sharah Shajra Shareef

یکتائے روزگار تھے۔آپ نے ۲۳ شوال المکرم ۷۳۹ھ میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی قبرِ انور بغدادِ معلی میں مرجع خلائق ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(22)حضرتِ  میرسیِّدموسٰی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ

        حضرتِ میر سید موسیٰ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِبغداد شریف میں پیدا ہوئے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے والد گرامی میر سید علی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے نسبت و اِرادت اور تلقینِ اَذکار و خلوت گزینی پائی۔شیخ المشائخ، سردار الاولیاء، سرورزُمَرۂ  اصفیاء سرکار میر سید موسیٰ رحمۃ اللہ  علیہ بڑے کامل، عبادت و ریاضت میں بے مثل اور صاحبِ تصرفات ظاہر و باطن تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی ذات سے اکثر افراد نے فیض پایا اور علوم و معارف کو بڑی لگن سے پھیلایا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ۱۳ رجب المرجب ۷۶۳ھ کو بغداد شریف ہی میں دارالفناء سے دارالبقاء کی طرف کُوچ فرمایا۔ مزارِ مبارَک بَغداد شریف میں مرجع خلائق ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(23)حضرتِ سیِّدُنا شیخ حَسَن  بغدادی علیہ رحمۃ اللہ  الھادی

        حضرتِسیِّد حسن بَغدادی  علیہ رَحمۃُالھادیبغداد شریف میں پیدا ہوئے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی تعلیم و تربیت اورپرورش والد محترم حضرتِ میر سید موسیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی آغوشِ محبت میں ہوئی ۔والد بزرگوار ہی نے آپ کو بیعت سے مشرف فرما کر خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِعبادت و ریاضت میں اپنے معاصرین سے فائق تھے اور ذکر و فکر میں مشہور تھے۔۲۶ صفر المظفر ۷۸۱؁ھ کو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکاوِصال ہوا۔ مزار پُر اَنوار بَغداد شریف میں ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(24)حضرتِ سیِّدُنا احمد جیلانی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی

        حضرتِ         سَیِّداَحمد جیلانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِبَغداد میں پیدا ہوئے۔اپنے والد حضرت شیخ حسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِسے تعلیم وتربیت پائی اور شرفِ بیعت وخلافت حاصل کیا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمشاہیرِ اولیاء کاملین میں سے ہیں ۔آپ کا وصال شریف۱۹ محرم الحرام ۸۵۳ھ کو بَغداد میں ہوا اوروہیں آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزار فائض الانوار ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(25)حضرتِ سیِّدُنا بہاؤ الدین علیہ رحمۃ اللہ  المُبین

         حضرت شیخ بہاؤ الدین بن ابراہیم الانصاری شطاری جُنیدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسر زمینِ ہند (انڈیا) میں ’’ جُنید‘‘ نامی شہر میں پیدا ہوئے۔وہیں پر پرورش اور تعلیم وتربیت پائی ۔آپ کے شیخِ طریقت حضرت شیخ احمد جیلانی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی نے خاص حرم شریف میں آپ کو بیعت کیا اور جملہ اورادووظائف کی اجازات دے کر خلافت سے بھی نوازا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِصاحبِ تصانیف بُزُرگ تھے۔

        آپ کو اچھی خوشبو سونگتے ہی ایسا ذوق وحال طاری ہو تا تھا کہ جاں بلب ہو جاتے تھے چنانچہ ظاہری سبب آپ کے وصال کایہی ہو اکہ ایک مرتبہ ایک شخص حالت نقاہت میں آپ کی خدمت میں غالیہ( یعنی مشک وعنبر کافور کی بنی ہوئی مہنگی خوشبو) لایا تو اسی اچھی خوشبو کے اثر سے آپ کی روح قفسِ عنصر ی سے پرواز کر گئی۔یوں ۱۱ ذوالحجۃ الحرام ۹۲۱ھ میں آپ وصال فرما گئے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزا رِپُر اَنوار دولت آباد(دَکَّن) میں مرجع خلائق ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(12)بہرِ ابراہیم مجھ پَر نارِغم گلزار کر  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

بھیک دے داتا  بِھکاری باد شاہ کے واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

مشکل الفاظ کے معانی :

بہر : واسطے

نارِ غم : غم کی آگ

 



Total Pages: 64

Go To