Book Name:Sharah Shajra Shareef

ان کے عِلاوہ بھی دیگر جیدعُلَماء سے علمِ فقہ و حدیث حاصل کیا۔آپ شیخ الوقت ، مناظر ، محدث اور بہترین مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دادا حضور سیدنا غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ  الاکرم کے مدرسے کے متولی بھی تھے ۔خلیفہ وقت کی طرف سے آپ قاضی القضاۃ مقرر ہوئے اور خلیفہ کے انتقال تک منصب ِقضا پر فائز رہے۔ اس عظیم عہدے پر فائز ہونے کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے اخلاق واطوار اور تواضع وانکساری میں کوئی فرق نہ آیا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِجن امور کوخلاف شرع دیکھتے اس کو ختم کرنے میں تکلیف شاقہ برداشت کرتے مگر شریعت سے متجاوز نہ ہونے دیتے۔بے شمار لوگوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِسے علمِ فقہ و حدیث حاصل کیا اور آسمانِ علم و فضل پر دَرَخشندہ ستارے بن کر چمکے۔ علم فقہ میں آپ کی تصنیف’’ارشاد المبتدئین‘‘اپنی نظیر آپ  ہے۔آپ ۲۷ رجب المرجب ۶۳۲ھ کو محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ  سے جاملے ۔آپ کا مزارِ پُراَنوار بغدادشریف میں ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

   

(20)حضرتِ سیِّدُنا مُحْیِ الدین محمد بن صالح علیہ رحمۃ اللہ  الھادی

        حضرتِسیِّدُنا محی الدین ابو نصر محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبَغداد شریف میں پیدا ہوئے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاپنے جدِّ امجد حضور سیدنا غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ  الاکرم سے بہت مشابہت رکھتے تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی تعلیم و تربیت والد گرامی حضرت ِ سیِّدابو صالح نصر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے سایۂ عاطفت میں ہوئی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاعلیٰ دَرَجے کے محقق، مدرس اور محدث تھے۔۲۲ ربیع النُّور۶۵۶؁ھ بروز پیر شریف بَغداد شریف میں انتقال فرمایا۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزار اپنے پردادا حضور غوث پاک رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے مدرسے کے احاطے میں ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(11)طُورِ عرفان و عُلُوّ و حَمْد و حُسنٰی و بَہا

دے علی، موسٰی ،  حَسَن،   اَحمد،  بَہا کے واسِطے (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم)

مشکل الفاظ کے معانی :

عرفان : پہچان ، معرفت

علو : بلندی

حمد : خُوبی ونیک نامی

 حسنی : بھلائی   بہا : چمک

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

         یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  مجھے حضرتِ سیِّدُنا شیخ علی بغدادی علیہ رحمۃاللہ  الھادی کے وسیلے سے دین و دنیا میں بلندی، حضرت شیخ سید موسیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے طفیل اپنی معرِفت میں بلند مُقام، حضرت سیِّدُنا شیخ حسن قادِری علیہ رحمۃ اللہ  الھادی کے وسیلے سے بھلائیاں ، حضرت شیخ احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے طفیل خوبی و نیک نامی اور حضرت بہاؤالدین علیہ رحمۃ اللہ  المبین (یعنی دین کا نور) کے وسیلے سے دنیا وآخِرت میں نور عطا فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

وضاحت :

         اِس ایک شعر میں لفظی و معنوی پانچ مناسبتیں ہیں یعنی’’ علی‘‘کے ساتھ ’’عُلُّو ‘‘، ’’موسیٰ ‘‘کے ساتھ ’’طور عرفان‘‘، ’’حَسَن ‘‘کے ساتھ  ’’حُسنیٰ‘‘، ’’اَحمد ‘‘کے ساتھ’’ حمد‘‘ اور’’بَہاؤالدین‘‘ کے ساتھ ’’بَہا‘‘ مناسبت رکھتا ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے اکیسویں ، بائیسویں ، تئیسویں ، چوبیسویں اور پچیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرتِ سیِّدُنا شیخ علی بغدادی علیہ رحمۃاللہ  الھادی، حضرت شیخ سید موسیٰ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ، حضرت سیِّدُنا شیخ حسن قادِری علیہ رحمۃ اللہ  الھادی ، حضرت شیخ احمد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاور حضرت ِ سیِّدُنا بہاؤالدین علیہ رحمۃ اللہ  المبین  کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان بُزُرگوں رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمکے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :

(21)حضرتِ سیِّدُنا شیخ علی بغدادی علیہ رحمۃ اللہ  الھادی

        حضرتِسیِّد علی بَغدادی علیہ رَحمۃُاللہ  لھادی بَغداد شریف میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی تعلیم و تربیت والد گرامی حضرتِسیِّدُنا محی الدین ابو نصر محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی صحبت بابرکت میں ہوئی اور دیگر مشائخِ وقت سے بھی حدیث و فقہ و دیگرعُلوم کی تعلیم حاصل کی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے والد محترم ہی سے شرفِ بیعت وخلافت کیا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِعلومِ ظاہری و باطنی میں



Total Pages: 64

Go To