Book Name:Sharah Shajra Shareef

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

        یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  تجھے سرکارِبَغدادحضورِ غوث پاک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے فرزند دلبند شیخ عبدالرزاق قادری  نور اللہ  مرقدہ‘کاواسطہ مجھے رزقِ حلال نصیب فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

وضاحت :

        عبدالرزاق ، رِزْقاً اور رِزْقِ حَسَن کو ذکرکرنے میں یہ مناسبت ہے کہ ان کلمات میں ’’ر، زاورق ‘‘استعمال ہوا ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے اٹھارہویں شیخِ طریقت یعنی حضرت ِ سیِّدُنا شیخ عبدالرزاق قادری  علیہ رحمۃ اللہ  الھادی  کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے۔ ان کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :     

(18)حضرتِ سیِّد عبدُالرَّزاق قادری علیہ رحمۃ اللہ  الھادی

        حضرتِسیِّد عبد الرزاق قادری   علیہ رحمۃ اللہ  الھادی۱۸ ذی القعدہ ۵۲۸ھ میں بَغداد میں پیدا ہوئے۔ آپ کی کنیت ابوبکر، ابوالفرح، عبدالرحمن اور لقب تاج الدین ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی تعلیم و تربیت آپ کے والدِ محترم حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانیقدس سرہ الربانی  کی آغوشِ ولایت میں ہوئی اور آپ کو بَیْعَت و خلافت کا شرف بھی انہی سے حاصل تھا۔زُہد و تقویٰ میں اپنے والد بزرگوار کے مظہر تھے۔ شرم وحیا کا یہ عالم تھا کہ مسلسل تین سال تک اللّٰہ تَعَالٰیسے شرم وحیا اورخشیت الہٰی کی وجہ سے آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھائی ۔

         آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا وصال شریف ۶ شوال المکرم ۶۲۳؁ھ کو بغداد ِ معلی میں ہوا ۔ جب نماز جنازہ کا اعلان ہوا تو ہرطرف لوگوں کا ہجوم دکھائی دینے لگا ۔اس قدر کثیر تعداد میں شہر میں نماز جنازہ پڑھنے کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔ اس لئے سات مقامات پر7 مرتبہ آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی گئی ، اس کے بعد دفن کیا گیا۔آپ کا مزارِ اقدس بغدادشریف میں مرجع خلائق ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(10)نَصراَبی  صالح کا صدقہ صالح و منصور رکھ (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

دے حیات ِ دین مُحْیِ جانفِزا کے واسِطے (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)   

مشکل الفاظ کے معانی :

صالح : نیک

حیات : زندگی

 جاں فزا : دل کو خوشی دینے والا

 منصور : کامیاب وکامران

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

          یا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  حضرتِ سیِّدُنا شیخ  ابو صالحعبداللہ  نَصْررَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا صدقہ مجھے بھی نیک اور منصور بنا دے یعنی اپنی مدد سے کامیابیاں عطا فرما۔اور سید محی الدین علیہ رحمۃ اللہ  المُبین  کے وسیلے سے ایمان کی سلامتی نصیب فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

وضاحت :

        ’’ ابو صالح‘‘ کے ساتھ ’’صالح ‘‘ذکرکرنے میں یہ خوبی ہے کہ دونوں الفاظ کے معنی ایک ہیں یعنی نیک۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے انیسویں اور بیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرتِ سیِّدُنا شیخ  ابو صالحعبداللہ  نَصْررَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاور حضرت ِ سیِّد محی الدین  علیہ رحمۃ اللہ  المُبینکے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان دونوں بُزُرگوں رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَاکے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :     

(19)حضرتِ سیِّد ابوصالح عبداللّٰہ نصررَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ

        حضرتِسیِّدابو صالح نصر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ۲۴ ربیع الثانی۵۶۲ھ میں بَغداد شریف میں پیدا ہوئے ۔آپ حضرت سیِّد عبد الرزاق قادری   علیہ رحمۃ اللہ  الھادی کے بیٹے اور حضور سیِّدُنا غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ  الاکرم کے پوتے ہیں ۔کنیت ابوصالح اور لقب عمادُالدین ہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے والد ِمحترم کے سائے میں رہ کر عُلو مِ حدیث کی تکمیل کی اور



Total Pages: 64

Go To