Book Name:Sharah Shajra Shareef

       چھٹی صدی ہجری میں نیکی کی دعوت کی جو دُھومیں غوث الاعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے مچائیں اُس کی نظیر نہیں ملتی۔ امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ  الوالی نے تصوُّف کواگر ایک فن کا دَرَجہ دیا تو غوثُ الثقلین رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے عملی طور پر اس میں جان ڈال دی۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے بیانات انتہائی پُر تاثیر ہوتے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے جس وقت بیان کی محافل شروع کیں تو لوگ آپ کی طرف اُمنڈ پڑے۔اللّٰہ  تَعَالٰینے مخلوق کے دلوں کو آپ کی عظمت وہیبت کے سامنے سرنگوں کردیا اور اس وقت کے اولیاء کرام کو آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے سایۂ قدم اور دائرۂ حکم میں دے دیا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِخود فرماتے ہیں :  ’’قَدَمِیْ ھٰذِہِ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللّٰہِ یعنی میرا یہ قدم ہر ولی اللّٰہ کی گردن پر ہے ۔‘‘

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو بیعت وخلافت حضرت شیخ ابوسعید مبارک مخزومی  علیہ رحمۃ اللہ  الغنی سے حاصل تھی ۔اللّٰہ  تَعَالٰینے سلسلۂ قادریہ کو آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی نسبت سے وہ شرف عطا فرمایا ہے کہ اس کو سارے سلاسل کا مرجع بنا دیا ۔آج بھی سلسلۂ قادریہ کا فیض دیگر سلاسل پر جاری ہے ۔ اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں   ؎   

مزرع چشت و بخارا و عراق و اجمیر

کون سی کشت پر برسا نہیں جھالا تیرا

        آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے ۱۱ ربیع الثانی ۵۶۱ ھ میں 91برس کی عمر میں بَغداد شریف میں انتقال فرمایا۔نمازِ جنازہ حضرت سید سیف الدین عبدالوہاب علیہ رحمۃ اللہ  الوھاب نے پڑھائی اور لاتعداد لوگوں نے جنازہ میں شرکت کی۔ مزارِ مبارَک بَغداد شریف میں ہے جہاں دن رات زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عذاب قبر دُور ہو گیا

        حضورِغوثِ پاک سیدناشیخ عبدالقادرجیلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی بارگاہ میں ایک جوان حاضر ہوا اور آپ رحمۃاللہ   تَعَالٰیعلیہسے عرض کرنے لگا کہ’’ میرے والد کا انتقال ہوگیاہے میں نے آج رات ان کوخواب میں دیکھا ہے انہوں نے مجھے بتایاکہ وہ عذاب قبر میں مبتلا ہیں انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ’’ حضرت سیدناشیخ عبدالقادر جیلانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی بارگاہ میں جاؤ اور میرے لئے ان سے دعاکا کہو۔‘‘ آپ رحمۃاللہ   تَعَالٰیعلیہنے اس نوجوان سے فرمایا : ’’کیا وہ میرے مدرسہ کے قریب سے گزرا تھا؟‘‘نوجوان نے کہا : ’’جی ہاں ۔‘‘ پھر آپ رحمۃاللہ   تَعَالٰیعلیہنے خاموشی اختیار فرمائی۔ پھر دوسرے روز اس کا بیٹا آیا اور کہنے لگا کہ’’ میں نے آج رات اپنے والد کوسبزحلہ زیب تن کیے ہوئے خوش و خرم دیکھا ہے۔‘‘ انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ ’’میں عذاب قبر سے محفوظ ہوگیا ہوں اور جو لباس تودیکھ رہا ہے وہ حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیقدس سرہ النورانی کی برکت سے مجھے پہنچایا گیا ہے پس اے میرے بیٹے! تم ان کی بارگاہ میں حاضری کولازم کرلو۔‘‘ پھر حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی نے فرمایا :  ’’میرے ربعَزَّوَجَلَّ  نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ’’ میں اس مسلمان کے عذاب میں تخفیف کروں گا جس کاگزر(تمہارے )مدرسۃالمسلمین پرہو گا۔‘‘(بہجۃالاسرار، ذکراصحابہ وبشراہم، ص۱۹۴)

رہائی مل گئی اس کوعذابِ قبرومحشرسے

یہاں پرمل گیاجس کووسیلہ غوث اعظم کا

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عصا مبارک چراغ کی طرح روشن ہو گیا

        حضرت عبدالملک ذیال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبیان کرتے ہیں کہ ’’میں ایک رات حضور پرُنورغوث پاک رحمۃاللہ   تَعَالٰیعلیہکے مدرسے میں کھڑا تھا آپ رحمۃاللہ   تَعَالٰیعلیہ اندر سے ایک عصا دست اقدس میں لئے ہوئے تشریف فرما ہوئے میرے دل میں خیال آیا کہ ’’کاش حضور اپنے اس عصا سے کوئی کرامت دکھلائیں ۔‘‘ ادھر میرے دل میں یہ خیال گزرا اور ادھر حضور نے عصا کو زمین پر گاڑ دیا تو وہ عصا مثل چراغ کے روشن ہوگیا اور بہت دیر تک روشن رہا پھر حضور پرُنور نے اسے اکھیڑ لیا تو وہ عصا جیساتھا ویسا ہی ہوگیا، اس کے بعد حضور نے فرمایا : ’’ بس اے ذیال!تم یہی چاہتے تھے۔‘‘ ( بہجۃالاسرار، ذکرفصول من کلامہالخ، ص۱۵۰)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(9)اَ حْسَنَ اللّٰہ ُ  لَھُمْ رِزْْقاً سے دے رِزْقِ حَسَنْ

بندۂ رَزَّاق  تاجُ الاَصفیاء کے واسِطے   (رحمۃ اللہ  علیہ)

مشکل الفاظ کے معانی :

حسن : اچھا

رزّاق : رزق دینے والا

تاج الاصفیاء : ستھروں کے سردار

 



Total Pages: 64

Go To