Book Name:Sharah Shajra Shareef

بوالحسن : بھلائی والا

بوسعید : سعادت والا

سعد زا : سعادت والا   

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

        یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  تجھے حضرتِ سیِّدُنا  ابوالفَرَحشیخ محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا واسطہ میرے غموں کو خوشیوں میں تبدیل کردے ، حضرتِ سیِّدُنا ابوالحسن علی بن احمد علیہ رحمۃ اللہ  االاَحَدکا واسطہ مجھے بھی اچھا کردے اور حضرت سیدنا ابُو سَعیدمبارَک مَخزومی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی  کے وسیلے سے مجھے خوش بخت اور سعادت مند بنادے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

وضاحت :

        اس شعر کی خوبی یہ ہے کہ جس بزرگ کی جو کُنیت ذکر کی گئی ہے اسی کی مناسبت سے دعا مانگی گئی ہے ، مثلاً ’’ابو الفرح ‘‘ کا وسیلہ پیش کر کے فرح یعنی خوشی طلب کی گئی ہے۔ نام اور مدعا میں یہ مناسبت ہے کہ دونوں میں ’’ فَرَح ‘‘کا لفظ ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے چودھویں ، پندرھویں اور سولہویں شیخِ طریقت یعنیحضرتِ سیِّدُنا ابوالفَرَحشیخ محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاور حضرت ِ سیِّدُنا ابوالحسن علی بن احمد علیہ رحمۃ اللہ  االاَحَد  اورحضرت سیدنا ابُو سَعیدمبارَک مَخزومی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان تینوں بُزُرگوں رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمکے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :     

(14)حضرتِ سیِّدُنا شیخ محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

        حضرتِسیِّدُنا ابو الفرح محمد یوسف بن شیخ عبد اللہ  طر طوسی علیہمارحمۃ اللہ  القوی  ملک شام کے خوبصورت شہر طرطوس کے رہنے والے تھے ۔اسی نسبت سے آپ کو طرطوسی کہا جاتا ہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِحضرتِ سیِّدُنا عبد الواحد تمیمی علیہ رحمۃ اللہ  الغنیکے صفِّ اوّل کے مریدین وخلفاء میں سے ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے پیرومُرشِد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینِ متین کی بے شمار خدمات انجام دیں ۔ آپ کا وصال۳شعبان المعظم ۴۴۷ھ کو ہوا ۔ شہر طرطوس میں آپ کا مزار ِمبارَک مرجع خلائق ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(15)حضرتِ سیِّدُنا علی بن احمد ہکاری علیہ رحمۃ اللہ  الباری

        حضرتِسیِّدُناابوالحسن علی بن احمد ہکاریعلیہ رحمۃ اللہ  الباری کی ولادتِ باسعادت ۴۰۹ھ میں عراق میں مُوصل کے نزدیک ایک گاؤں ہکار میں ہوئی ۔آپ کے اصل نام کے بارے میں مختلف روایات ہیں تاہم اکثر مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ کا نام علی بن محمد ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا لَقَب شیخ الاسلام اور کنیت ابو الحسن ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے وقت کے ممتاز ترین علماء و مشائخ کی بارگاہ میں زانوئے اَدَب تہہ کرکے علمِ ظاہری و باطنی حاصل کیا۔ علمِ حدیث و فقہ وغیرہ میں مہارت تامہ حاصل تھی ۔علم کے ساتھ عمل میں بھی آپ یکتائے روزگار تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو قطبِ وقت حضرت سیدناابو الفرح محمد طرطوسی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِسے شرفِ بَیْعَت وخلافت کی سعادت حاصل ہے۔

        آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے پوری زندگی اسلام کی نشرواشاعت میں صرف فرمائی اور اپنے فُیوض و بَرَکات سے مخلوق کو فیضیاب کرتے رہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِصائم الدہر اور قائم اللیل تھے ۔ عشاء کی نماز کے بعد قرآنِ پاک کی تلاوت شروع فرماتے اور نماز ِتہجد سے پہلے دو قرآ نِ مجید ختم کرلیا کرتے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا وصال صبح صادق کے وقت یکم محرم الحرام ۴۸۶ھ کو ہوا ۔بَغداد شریف کے قصبہ ہکار میں آپ کا مزارِ مبارَک مرجع خلائق ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(16)حضرتِ سیِّدُناابوسعید مبارک مخزومی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی

        حضرتِسیِّدُناابوسعید مبارک بن علی مخزومی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی کی پیدائش مبارک بغداد شریف میں ہوئی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے وقت کے ممتاز علماء و مشائخ سے علومِ دینیہ حاصل کئے۔ یہاں تک کہ فقہ، حدیث اور علم معقولات و منقولات میں مہارت تامہ حاصل کی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِحضرت شیخ ابراہیم ابوالحسن علی ہکاری علیہ رحمۃ اللہ  الباری کے مرید و خلیفہہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِہمیشہ یاد الٰہی اور عبا د ت مولیٰ میں مصروف رہتے اور اپنے وقت کے ممتاز ترین فقیہ اور بُزُرگ ترین امام تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی کے جامع تھے۔ مذاہب اَرْبَعہ میں سے حنبلی مذہب کے پیروکار تھے۔ باب الازج بَغداد شریف کا تاریخ ساز مدرَسہ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِہی نے قائم فرمایا۔سلسلۂ قادریہ کے مشہور بزرگ حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ رحمۃ اللہ  



Total Pages: 64

Go To