Book Name:Sharah Shajra Shareef

(11)حضرتِ سیِّدُنا جُنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ  الھادی

        حضرتِسیِّدُناجنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ  القوی کی ولادتِ مبارکہ تقریباً ۲۱۸ھ میں بغداد شریف میں ہوئی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا نام جُنید ، نسبت بغدادی، کنیت ابوالقاسم ہے اورالقابات سیِّدُ الطائفہ، طاؤس العلماء ، زجاج، قواریری اور لسانُ القوم ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے والد حضرت سیِّدُنا محمد بن جنید شیشہ کی تجارت کرتے تھے اور نہاوند کے رہنے والے تھے ۔ حضرت جنید رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِشروع میں آئینہ کی تجارت کرتے تھے اور اس وقت آپ کا معمول تھا کہ بلاناغہ اپنی دوکان پر تشریف لے جاتے اور پردہ گرا کر چار سو رکعت نماز نفل ادا فرماتے۔ ایک مدت تک آپ نے اس عمل کو جاری رکھا۔پھر آپ نے اپنی دکان کو چھوڑ دیا اور اپنے شیخ طریقت حضرت سری سقطیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان کے مکان کی ایک کوٹھری میں خلوت گزیں ہو کر اپنے دل کی پاسبانی شروع کر دی اور حالت مراقبہ میں آپ اپنے نیچے سے مصلیٰ کو بھی نکال ڈالتے تاکہ آپ کے دل پر سوائے اللّٰہ و رسول جل جلالہ و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے خیال کے کوئی دوسرا خیال نہ آئے ۔ اس طرح آپ نے 40 سال کاطویل عرصہ گزارا۔ تیس سال تک آپ کا معمول تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر صبح تک اللّٰہ اللّٰہ کہا کرتے اور اسی وضو سے صبح کی نماز ادا کرتے۔ آپ خود ہی ارشاد فرماتے ہیں کہ بیس برس تک تکبیر اولیٰ مجھ سے فوت نہیں ہوئی اور نماز میں اگر دنیا کا خیال آجاتا تو میں اس نماز کو دوبارہ ادا کرتا اور اگر بہشت اور آخرت کا خیال آتا تو میں سجدہ سہو ادا کرتا۔

کامل مُرید

        حضرتِ سیِّدُنا جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے ایک مرید تھے جن کی طرف آپ زیادہ توجہ فرماتے تھے۔کچھ لوگوں کو یہ بات ناگوار معلوم ہوئی۔آپ کو جب اس بات سے آگاہی ہوئی تو ارشاد فرمایاکہ میرا یہ مرید ادب وعقل میں تم سب سے فائق و بلند ہے اسی وجہ سے میں اسے بہت چاہتا ہو ں ۔جس کا ثبوت میں تمہیں ابھی دے رہا ہوں تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اس میں کون سی خوبی ہے ۔پھر آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے ہر ایک مرید کو ایک ایک چھری مرحمت فرما کر ارشاد فرمایا کہ ایسی جگہ ان مرغیوں کو ذبح کر کے لاؤ جہاں کوئی دیکھنے والا موجود نہ ہو۔ سبھی مرید وہاں سے چلے گئے اورپوشیدہ جگہوں میں ان مرغیوں کو ذبح کر کے لے آئے لیکن وہ آپ کا مرید خاص اس مرغی کو زندہ واپس لے آیا ۔حضرت نے دریافت کیا کہ تم نے ذبح کیوں نہیں کیا؟انہوں نے جواب دیا : ’’ حضور ! میں جس جگہ بھی پہنچا وہاں قدرتِ الہٰی کو موجود پایا اور اس کو دیکھنے والا پایا۔‘‘اس لئے مجبوراً واپس لے آیاہوں ۔اس جواب کے بعد حضرت نے ارشاد فرمایاکہ تم سبھی لوگوں نے سن لیا۔یہ اس کا خاص وصف ہے جس کی وجہ سے میں اسے بہت چاہتا ہوں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا وصال شریف ۲۷ رجب المرجب۲۹۷ھ یا ۲۹۸ھ کو ہوا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکامزار بھی بغداد شریف میں شونیزیہ کے علاقے میں واقع ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

مومن کی فراست 

        ایک مرتبہ بیان کے دوران ایک آتش پرست مسلمانوں کے بھیس میں حاضر ہوا اورحضرتِ سیِّدُناجُنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِسے اس حدیث کی وضاحت چاہی کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ فرمان ہے کہ’’ مسلمان کی فراست سے بچتے رہو کیونکہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔‘‘یہ قول سن کر آپ نے فرمایا کہ’’ اس کا مقصد تو یہ ہے کہ تجھے مسلمان ہو نا چاہیے۔‘‘ اس کرامت سے گرویدہ ہو کر وہ مسلمان ہو گیا ۔ (تذکرۃ الاولیاء( مترجم) ، ص 62)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(6) بہرِ شِبلی  شیرِ حق دنیا کے کُتّوں سے بچا   (رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ)

 ایک کا رَکھ   عبد ِواحد بے رِیا کے واسِطے (رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ)

 مشکل الفاظ کے معانی :

بہر : واسطے

عبد : بندہ

 بے رِیا : مُخلص

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

  یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  مجھے شیرِحقحضرتِ سیدنا ابو بکر شبلی علیہ رحمۃ اللہ  الولی کے صدقے دُنیا کے کتوں (یعنی مال ودولت کے حریصوں )سے بچااور حضرت ِ سیِّدُنا عبدالواحدعلیہ رحمۃ اللہ  الواحد کاواسطہ مجھے ایک در کا بنادے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   

وضاحت :

 



Total Pages: 64

Go To