Book Name:Sharah Shajra Shareef

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

چہرے کا نشان

        ایک شخص کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا ابو محفوظ معروف کرخی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے میرے لئے دعا فرمائی اور میں واپس گھر آ گیا ۔ دوسرے دن پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر نشان بنا ہوا ہے جیسے کوئی چوٹ لگی ہو ۔کسی نے آپ سے پوچھا :  ’’اے ابو محفوظ! ہم کل آپ کے پاس سارا دن رہے ، آپ کے چہرہ پر کوئی نشان نہ تھا ، یہ کیا نشان ہے اور کیسے ہوا؟‘‘ آپ نے فرمایا :  ’’اپنے مطلب کی بات کرو اسے چھوڑو، یہ تمہارے مطلب کا سوال نہیں ہے ۔‘‘اس شخص نے عرض کیا ، آپ کو اپنے معبود کی قسم ! آپ اس بارے میں کچھ بتائیں ! اس پر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے ارشاد فرمایا :  ’’ میں نے گزشتہ رات یہاں نماز ادا کی اور خواہش ہوئی کہ بیت اللہ  کا طواف کر لوں پس میں مکہ شریف چلا گیا ، طواف کیا پھر زمزم کی طرف چل پڑا‘ تاکہ اس کا پانی بھی پی لوں تومیں دروازہ پر پھسل گیا ، گرنے کی وجہ سے میرے چہرہ پر جو تم دیکھ رہے ہو چوٹ آ گئی ۔ (جامع کرامات اولیاء  ، ج ۲، ص۴۹۱)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(10)حضرتِ سیِّدُنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ  القوی

        حضرتِسیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃ اللہ  القوی کی پیدائش تقریباً۱۵۵ھ میں بغداد شریف میں ہوئی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا نام سرُّالدین اور کنیت ابوالحسن ہے اور سری سقطی کے نام سے مشہور ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے والدِ گرامی کا نام حضرت مغلس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتھا ۔

ولی کی دعا کی تاثیر

        حضرت سری سقطی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِسے لوگو ں نے دریافت کیا کہ ابتدائے حالِ طریقت سے کچھ آگاہ فرمائیں تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک روز حضرت حبیب راعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا گزر میری دُکان سے ہو ا ۔میں نے انہیں روٹی کے کچھ ٹکڑے پیش کئے تاکہ فقراء میں تقسیم فرمادیں اس وقت انہوں نے مجھے دعا دی : ’’ خدا تجھے نیکی کی توفیق دے ۔‘‘اسی دن سے اپنی دنیا کو سنوارنے کا خیال میرے دل سے جاتا رہا ۔ آپ حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے مرید و خلیفہ تھے اور انہیں سے علوم ظاہرو باطن اکتساب فرمائے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

آپ کی وصیت

        حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِارشاد فرماتے ہیں کہ جب حضرت سری سقطیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِبیمار ہو گئے تو میں آپ کی عیادت کو گیا۔ آپ کے پاس ہی ایک پنکھا پڑا ہو اتھا۔ میں نے اس کو اٹھا لیا اور آپ کو جھلنے لگا۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ جنید!اسے رکھ دو کیونکہ آگ ہو اسے زیادہ تیز اور روشن ہوتی ہے۔ حضرت جنید رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کی کیا حالت ہے؟آپ نے ارشاد فرمایا : ’’عَبْدٌ مَمْلُوْکٌ لَا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْ ءٍ (یعنی وہ غلام جسے کسی کام کا اختیار نہیں ہوتا)، حضرت جنید رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے عرض کیا کہ کچھ وصیت فرمائیں ، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ مخلوق کی صحبت کی وجہ سے خالق  عَزَّوَجَلَّ  سے غافل نہ ہونا۔(الروض الفائق۱۱۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا انتقال ۱۳ رمضان المبارک ۲۵۳ھ بروزمنگل صبح صادق کے وقت 98برس کی عمر میں ہوا۔آپ کا مزار شریف بغداد میں مقام شونیز میں ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

شرابی کو نمازی بنا دیا

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ایک مرتبہ ایک شرابی کو دیکھا جو نشے کی حالت میں مدہوش زمین پر گرا ہو ا تھااور اسی نشے کی حالت میں اللّٰہ ، اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)کہہ رہا تھا ۔ آپ نے اس کا منہ پانی سے صاف کیا اور فرمایا کہ اس بے خبر کو کیا خبر کہ ناپاک منہ سے کس ذات کا نام لے رہا ہے ؟آپ کے جانے کے بعد جب شرابی ہوش میں آیا تو لوگوں نے اس کو بتایا کہ تمہاری بے ہو شی کی حالت میں تمہارے پاس حضرت سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ  القوی  تشریف لائے تھے اور تمہارامنہ دھو کر چلے گئے ہیں ۔شرابی یہ سن کر بہت ہی شرمندہ ہو ا اور شرم وندامت سے رونے لگا اور نفس کو ملامت کر کے بولا :  ’’اے بے شرم !اب تو حضرت سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ  القوی بھی تم کو اس حالت میں دیکھ کر چلے گئے ہیں ، خدا سے ڈر اور آئندہ کے لئے توبہ کر ۔‘‘ رات میں حضرت سری سقطی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک ندائے غیبی سنی کہ اے سری سقطی !تم نے ہمارے لئے شرابی کا منہ دھویا ہے ہم نے تمہاری خاطر اس کا دل دھو دیا ۔جب حضرت نماز تہجد کے لئے مسجد میں گئے تو اس شرابی کو تہجد کی نماز پڑھتے ہوئے پایا۔آپعلیہ رحمۃ اللہ  القوی  نے اس سے دریافت فرمایا کہ تمہارے اندر یہ انقلاب کیسے آگیا ۔تو اس نے جواب دیا کہ آپ مجھ سے کیوں دریافت فرمارہے ہیں جبکہ خود آپ کو اللّٰہ  تَعَالٰینے اس پر آگاہ فرمادیا ہے۔(الروض الفائق، ص۲۴۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 64

Go To