Book Name:Sharah Shajra Shareef

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا کروڑہا کروڑ احسان کہ اس نے ہمیں ایمان جیسی اَنمول نعمت عطا فرمائی ۔ہم اپنی قیمتی دنیاوی اشیاء کوعموماً بڑی حفاظت سے رکھتے ہیں کہ کوئی اسے چُرا نہ لے تو اس اَنمول نعمت (یعنی ایمان )کی حفاظت کی فکر توہمیں دُنیاوی اشیاء سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے۔حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُفرمایا کرتے تھے : ’’ خدا کی قسم! کوئی شخص اس بات سے مطمئن نہیں ہوسکتا کہ مرتے وقت اس کا اسلام باقی رہے گا یا نہیں ! ‘‘ (کیمائے سعادت ج۲ ص ۸۲۵ انتشارات گنجینہ تہران)   

        امامِ اہلسنّت، عظیم البرکت، مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن  کا ارشاد ہے : عُلَمائے کرام فرماتے ہیں جس کو (زندگی میں )سلْبِ ایمان کاخوف نہیں ہوتا، نَزْع کے وقت اُس کا ایمان سلْب ہوجانے کا شدید خطرہ ہے ۔(الملفوظ حصہ ۴ ، ص۳۹۰ ، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی مرکز الاولیاء لاہور)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہعَزَّوَجَلَّبے نیاز ہے اُس کی خفیہ تدبیر کو کوئی نہیں جانتا، کسی کو بھی اپنے علم یا عبادت پر ناز نہیں کرنا چاہئے۔ شیطان نے ہزاروں سال عبادت کی، اپنی رِیاضت اور علمیّت کے سبب مُعَلِّمُ المَلَکُوت یعنی فرشتو ں کا اُستاذ بن گیا تھا لیکن اس بدبخت کو تکبُّر لے ڈوبا اور وہ کافِر ہوگیا۔ اب بندوں کو بہکانے کیلئے وہ پورا زور لگاتا ہے، زندَگی بھر تو وسوسے ڈالتا ہی رَہتا ہے مگر مرتے وقت پوری طاقت صَرف کردیتا ہے کہ کسی طرح بندے کا بُرا خاتِمہہو جائے۔ چُنانچِہ روحُ البیان جلد10 صفحہ315 میں ہے :  ایکبار مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دربار میں شیطان مکّار روپ بدل کرہاتھ میں پانی کی بوتل لئے حاضِر ہوا اور عرض کی : میں لوگوں کو نَزع کے وَقت یہ بوتل ایمان کے بدلے فروخت کیاکرتا ہوں ۔ یہ سن کر آقائے نامدار، شفیعِ روزِشمار، اُمّت کے غمخوار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاتنا روئے کہ اہلبیت اطہار بھی رونے لگے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے وحی بھیجی، اے میرے محبوب! آپ غم مت کیجئے ! میں بحالتِ نزع اپنے بندوں کو شیطان کے مکرسے بچاتا ہوں ۔ (روح البیان ج۱۰ ص۳۱۵ کوئٹہ)

ہر امّتی کی فکر میں آقا ہیں مُضطَرِب

غمخوار والدین سے بڑھ کر حضور ہیں

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ہمارا کیا بنے گا؟

        اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   ہمارے حالِ زار پر کرم فرمائے، نَزع کے وَقت نہ جانے ہمارا کیا بنے گا!آہ! ہم نے بَہُت گناہ کررکھے ہیں ، نیکیاں نام کو نہیں ہیں ، ہم دُعاء کرتے ہیں اے اللّٰہ!عَزَّوَجَلَّ   نزع کے وقت ہمارے پاس شَیاطین نہ آئیں بلکہ رحمۃٌ  لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکرم فرما ئیں ۔

نَزع کے وقت مجھے جلوئہ محبوب دکھا

تیرا کیا جائے گا میں شاد مروں گا یا ربّ

بُرے خاتمے سے اَمان

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حُجَّۃُ الْاِسلامحضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ  الوالی  کافرمانِ عالی ہے :  بُرے خاتِمے سے اَمن چاہتے ہو تو اپنی ساری زندگی  اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّکی اطاعت میں بسر کرو اور ہر ہر گناہ سے بچو، ضَروری ہے کہ تم پر عارِفین جیسا خوف غالِب رہے حتّٰی کہ اس کے سبب تمہارا رونا دھونا طویل ہو جائے اور تم ہمیشہ غمگین رہو۔ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں :  تمہیں اچّھے خاتِمے کی تیاّری میں مشغول رہنا چاہئے۔ ہمیشہ ذکرُ اللہ  میں لگے رہو، دل سے دنیا کی مَحَبَّت نکالدو، گناہوں سے اپنے اَعضاء بلکہ دل کی بھی حِفاظت کرو، جس قَدَر ممکن ہو بُرے لوگوں کو دیکھنے سے بھی بچو کہ اِس سے بھی دل پر اثر پڑتا ہے اور تمہارا ذِہن اُس طرف مائل ہو سکتا ہے۔  (احیاء العلوم ج۴ ص ۲۱۹۔۲۲۱ مُلَخصاً دار صادر بیروت)

مسلماں ہے عطارؔ تیری عطا سے

ہو ایمان پر خاتِمہ یا الہٰی

(ماخوذ از رسالہ’’برے خاتمے کے اسباب ‘‘)

مدینہ : ایمان کی حفاظت کا مزید جذبہ پانے کے لئے شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالہ ’’برے خاتمے کے اسباب‘‘ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کا مطالعہ کیجئے اور آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ہی کا VCDبیان’’ایمان کی سلامتی‘‘ دیکھئے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ایمان کی حفاظت کا ایک ذریعہ 

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیک اعمال پر استقامت کے ساتھ ساتھ ایمان کی حفاظت کا ایک ذریعہکسی ’’مرشدِکامل ‘‘ سے بیعت ہوجانا بھی ہے ۔امام فخر الدین رازی علیہ رحمۃ اللہ  الھادی کی نزْع کا جب وقت قریب آیا تو شیطان آیا اور ان کاایمان سلْب کرنے کی بھر پور کوشش کی(کیونکہ شیطان اس وقت ہر مسلمان کا ایمان برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے)۔ اُس نے پوچھا :  اے رازی! تم نے ساری عمرْمناظروں میں گزاری ذرا یہ تو بتاؤ تمہارے پاس خدا کے ایک ہونے پر کیا دلیل ہے؟آپ نے ایک دلیل دی۔ وہ خبیث چونکہ مُعَلِّمُ المَلَکوت رہ چکا تھا۔ اس نے وہ دلیل اپنے علمِ باطل کے زور سے( اپنے زُعْمِ فاسد میں ) توڑدی۔ آ پ نے دوسری دلیل دی، اس نے وہ بھی( اپنے  زُعْمِ فاسد میں ) توڑ دی ، یہاں تک کہ آپ نے 360دلیلیں قائم کیں اور اس نے وہ سب( اپنے  زُعْمِ فاسد میں ) توڑدیں ۔اب آپ سخت پریشان ہوئے۔ شیطان نے کہا، اب بول خدا کو کیسے مانتا ہے ؟ آپ کے پیر حضرت نجم الدین کبریٰ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِوہاں سے میلوں دور کسی مقام پر وُضو فرماتے ہوئے چشمِ باطن سے یہ مناظرہ ملاحَظہ فرمارہے تھے ۔آپ نے وہیں سے آواز دی :  رازی! کہہ کیوں نہیں دیتے کہ میں نے خدا کو بغیر دلیل کے ایک مانا۔ امام رازی نے یہ کہا اور کلمۂ طیبہ پڑھ کر جان! جان



Total Pages: 64

Go To