Book Name:Sharah Shajra Shareef

جُندِ حق  میں گِن  جُنیدِ ِ  با  صَفا کے  واسِطے(رحمۃاللہ   تَعَالٰیعلیہ)

 مشکل الفاظ کے معانی :

بہر : واسطے

معروف : بھلائی

بے خُود سَری : عاجزی، فرمانبرداری

  جُندِ حق : حق کا لشکر

باصفا : سُتھرا

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

        یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  مجھے حضرتِسَیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ  القوی کے طفیل نیکی اور بھلائی عطا فرمااورحضرتِ سیِّدُنا سری سقطیعلیہ رحمۃ اللہ  القوی کا واسطہ مجھے عاجزی وانکساری  کا پیکر بنادے اورحضرت ِسیِّدُنا جنیدبغدادی علیہ رحمۃ اللہ  الھادی  کا واسطہ اپنے لشکر میں شامل فرمالے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 وضاحت :

        پہلے مصرع میں لفظِ معروف دو مرتبہ آیا ہے ۔پہلا معروف تو بُزُرگ کا نام ہے اور دوسرے معروف کے معنی نیکی و بھلائی کے ہیں ۔یونہی لفظسری(یہ بھی  بُزُرگ کا نام ہے)کے ساتھ بے خودسَرِی کا ذِکر کرنے میں یہ خوبی ہے کہ دونوں میں لفظ ’’سری‘‘ موجود ہے ۔دوسرے مصرع میں جنید (یہ بھی  بُزُرگ کا نام ہے)سے پہلے لفظ ’’جُنْد‘‘ لایا گیا ہے ، دونوں میں لفظی مناسبت ہے کہ دونوں میں ’’ج، ن اور د‘‘ ہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے نویں ، دسویں اور گیارھویں شیخِ طریقت یعنیحضرتِ سیدنا شیخ معروف کرخیعلیہ رحمۃ اللہ  القوی ، حضرتِ سیِّدُنا سری سقطیعلیہ رحمۃ اللہ  القوی اورحضرت ِسیِّدُنا جنیدبغدادی علیہ رحمۃ اللہ  الھادی کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان تینوں رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمکے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :

(9)حضرتِ سیِّدُنا شیخ معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ  القوی

        حضرتِسیِّدُناشیخ معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ  القوی کی وِلادت مقامِ کرخ میں ہوئی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا نام اسد الدین ہے لیکن معروف کرخی کے نام سے مشہور ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی کنیت ابومحفوظ ہے۔آپ کے والدِ ماجد کا نام فیروز ہے ۔

قبولِ اسلام کا واقعہ

        ابتداء میں حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِغیر مسلم تھے مگر بچپن ہی سے آپ کے قلب وجگر میں اسلام کی تڑپ اور جوش و عقیدت موجود تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِمسلمان بچوں کے ساتھ نماز پڑھتے اور ماں باپ کو اسلام کی ترغیب دیتے رہتے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے والدین نے ایک عیسائی معلم کے پاس آپ کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بٹھا دیا ۔اس معلم نے پہلے آپ سے سوال کیا کہ بچے! یہ بتاؤ کہ تمہارے گھر میں کتنے افراد ہیں ؟آپ نے کہا : ’’میں ، میرے والد اور میری والدہ کل تین افراد ہیں ۔‘‘وہ کہنے لگا : ’’تو تم کہو’’ثَالِثُ ثَلَا ثَۃٍ ‘‘ یعنی عیسیٰ تین خداؤں میں  تیسرا ہے ۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : ’’میری غیرت نے یہ گوارہ نہ کیا کہ ایک کے سوا دوسرے کو رب مانوں ، اس لئے میں نے فوراً انکار کر دیا۔ اس پر معلم نے مجھ کو مارنا شروع کیا۔ وہ جس شدت سے مارتا میں اسی جرأت سے انکار کرتا ۔آخر عاجز ہو کر اس نے میرے والدین سے کہا کہ اس کو قید کر دو۔تین روز تک قید میں رہا اور ہر روز ایک روٹی ملتی تھی مگر میں نے اس کو چھوا تک نہیں ۔ جب مجھے وہاں سے نکالا گیا تو میں بھاگ گیا ۔چونکہ میں والدین کا ایک ہی بیٹا تھا اس لئے میری جدائی سے انہیں سخت قلق ہوا ۔وہ کہنے لگے : ’’ہمارا بیٹا جہاں بھی گیاہے ہمارے پاس لوٹ توآئے ، وہ جس مذہب کو چاہے اختیار کرے ہم بھی اسی کے ساتھ اپنا دین تبدیل کردیں گے۔‘‘ جب میں حضرت سیدنا امام علی رضا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے دست مبارک پر داخلِ اسلام ہو کر ایمان کی انمول دولت کو اپنے سینے سے لگائے گھر واپس ہوا ، میرے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ    عَزَّوَجَلَّ    میرے والدین بھی مسلمان ہو گئے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مکمل تعلیم وتربیت حضرت سیدنا امام علی رضا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے زیرِ سایہ پائی اور علمِ طریقت کے لئے حضرت سیِّدُنا حبیب راعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے سامنے زانوئے تلمذطے کئے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِعارفِ اسرارِ معرفت، قطبِ وقت اور بدرِ طریقت تھے ۔   

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا وصال شریف ۲محرم الحرام  ۲۰۰؁ھ کو ہوا ۔آپ کا مزار شریف بغدادِ معلی میں زیارت گاہِ خلائق ہے ۔حضرت سیدنا خطیب بغدادی علیہ رحمۃ اللہ  الھادی فرماتے ہیں : ’’آپ کی قبرمبارک حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہونے کے لئے مجرّب (یعنی آزمودہ)ہے ۔‘‘

 



Total Pages: 64

Go To