Book Name:Sharah Shajra Shareef

معلی میں کاظمین شریف کے مقام پر واقع ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

شیرکی تصویر کو زندہ فرما دیا

        حضرت امام موسیٰ کاظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکشف وکرامات کے میدان میں بھی یکتائے روزگار تھے اورحقانیت کے علمبردار تھے حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہنے میں ذرہ برابر چوکتے نہ تھے اور کسی بھی تخت وتاج والے کا آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی شان بلند ی کے آگے رعب و دبدبہ نہ چلتا ۔ ایک مرتبہ آپ خلیفہ ہارون رشید کی مجلس میں تشریف فرماتھے کہ معجزۂ عصائے موسیٰ علیہ السلام کا ذکر چھڑ گیاتو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایاکہ’’ اگر میں اس شیر کی تصویر جو قالین پر بنی ہے ، اس کو کہوں کہ ابھی شیرِ اصلی ہو جا!!! یہ جملہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی زبان مبارک سے نکلنا تھا کہ فوراً وہ تصویر اصلی شیر کا روپ دھار گئی۔آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے اس شیر کو حکم دیا کہ ٹھہر جا میں نے ابھی تم کو حکم نہیں دیا ہے ۔یہ کہتے ہی شیر دوبارہ تصویر بن گیا۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(8)حضرتِ سیِّدُنا امام علی رضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

        حضرتِسیِّدُناامام علی رضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی ولادتِ مبارکہ ۱۵۳؁ھ میں مدینۂ منوّرہ میں ہوئی ۔ آپ کا نامِ مبارک علی اور کنیت سامی ، ابوالحسن اور ابومحمد اور القابات صابر، ولی ، ذکی، ضامن ، مرتضیٰ اورسب سے مشہور لقب رضا ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِحضرتِسیِّدُناامام موسیٰ کاظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نورُ العین ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنہایت ہی ذہین وفطین اور اعلیٰ درجے کے عالم وفاضل تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکو رب کریم نے فہمِ قراٰن کی عظیم دولت سے ایسا نوازاتھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاکثرسوالات کے جوابات آیاتِ قراٰنی سے دیا کرتے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِہر ماہ تین دن اہتمام کے ساتھ روزے رکھا کرتے ۔اس قدر عاجزی پسند تھے کہ غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی انفرادی کوشش نے بے شمار کفارکودامنِ اسلام سے وابستہ کیا ۔مشہور بزرگ حضرت سیدنا معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِہی کی دعوتِ اسلام پر مسلمان ہوئے اور آسمان ولایت کے روشن ستارے بن کر چمکے ۔ امام علی رضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو انگوروں میں زہر ملا کر دیا گیا جس سے آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ۲۱ رمضان المبارک ۲۰۳ھ 55برس کی عمر میں شہادت سے سرفراز ہوئے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزار شریف مشہد مقدس (ایران) میں ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تیز ہوا نے تعظیم پیش کی

        جب مامون نے اپنے بعد کا ولیٔ عہد امام علی رضا رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو مقرر کیا تو مامون کے دائیں بائیں بیٹھنے والوں میں کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں یہ نامزدگی اچھی نہ لگی اور انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ خلافت بنو عباس سے ختم ہوجائے گی اور بنو فاطمہ میں چلی جائے گی ۔ اس سوچ کی وجہ سے ان میں حضرت سیِّدُنا علی رضا رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے نفرت پیدا ہو گئی ۔ حضرت سیِّدُنا علی رضا رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی عادتِ کریمہ تھی کہ آپ جب مامون کے گھر ملاقات کے لئے تشریف لاتے تو وہ نوکر چاکر جو دربان ہوتے یا پردہ ہٹانے کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوتی یہ سب اور دوسرے خادمین آپ کا استقبال کرتے اور سلام عرض کرتے پھر پردہ ہٹاتے تاکہ آپ اندر تشریف لا سکیں ۔ جب ان لوگوں کو آپ سے نفرت ہو گئی اور اس فیصلہ کے بارے میں پریشان ہو گئے تو آپس میں انہوں نے مشورہ کیاکہ اب جب حضرت سیِّدُنا علی رضا رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ’’ مامون ‘‘ سے ملنے آئیں ہم ان سے منہ موڑ لیں گے اور دروازوں کے پردے نہیں اٹھائیں گے ۔ اس پر سب متفق ہو گئے ابھی وہ یہ مشورہ کر کے بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ تشریف لائے اور اپنی عادت کے مطابق ملاقات کرنے اندر آنے لگے تو ان لوگوں کو اپنے مشورہ پر عمل کرنے کی ہمت نہ پڑی چنانچہ سب کھڑے ہوئے استقبال کیا اور دروازوں کے پردے بھی پہلے کی طرح اٹھائے جب آپ اندر تشریف لے گئے تووہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے تم نے اپنے منصوبہ اور مشورہ پر عمل نہیں کیا ۔ پھر یہ طے پایا کہ اب جو ہو گیا سو ہو گیا آئندہ اگر آئے تو پھر لازماً ہم اپنے مشورہ پر عمل کریں گے ۔ جب دوسرے دن آپ حسبِ عادت تشریف لائے اب کی باری یہ کھڑے تو ہو گئے سلام بھی کیا لیکن پردے نہ اٹھائے ، فوراً تیز ہوا چلی اس نے پردوں کو اٹھا دیا اور آپ اندر تشریف لے گئے پھر باہر نکلتے وقت بھی تیز ہوا نے آپ کی خاطر پردے اٹھا دیئے ۔ اب یہ سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور کہنے لگے ’’ اس شخص کا اللّٰہ  تَعَالٰیکے نزدیک بڑا مرتبہ ہے اور اس کی ان پر بڑی مہربانی ہے، دیکھو کہ ہوا کیسے آئی اور ان کے اندر آتے وقت اس نے کس طرح پردوں کو اٹھا دیا لہٰذا چھوڑو اپنے مشورہ کو اور دوبارہ اپنی اپنی ڈیوٹی دو ۔ ‘‘

(جامع کرامات اولیاء ج۲، ص۳۱۲)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(5)بَہرِ مَعْروف    و سری     معروف   دے بے خُود سَری (رحمۃاللہ   تَعَالٰیعلیہما)

 



Total Pages: 64

Go To