Book Name:Sharah Shajra Shareef

آپ کی عاجزی

        آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُعالی نسب ہونے کے باوجود عاجزی کے پیکر تھے۔ ایک مرتبہ حضرت سیدنا داؤدطائی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے امام جعفر صادق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، ’’آپ چونکہ اہلِ بیت میں سے ہیں ، اس لئے مجھے کوئی نصیحت فرمائیں ۔‘‘ لیکن وہ خاموش رہے ۔ جب آپ نے دوبارہ عرض کی کہ ، ’’اہلِ بیت ہونے کے اعتبار سے اللّٰہ   تَعَالٰینے آپ کو جو فضیلت بخشی ہے ، اس لحاظ سے نصیحت کرنا آپ کے لئے ضروری ہے ۔‘‘ یہ سن کر امام جعفر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا، ’’مجھے تو خود یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں قیامت کے دن میرے جد ِ اعلیٰ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیرا ہاتھ پکڑ کر یہ نہ پوچھ لیں کہ تو نے خود میری پیروی کیوں نہیں کی ؟ کیونکہ نجات کا تعلق نسب سے نہیں اعمالِ صالحہ پر موقوف ہے ۔ ‘‘ یہ سن کر حضرت داؤو طائی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکو رونا آگیا کہ وہ ہستی جن کے جد امجدسرورِ عالم نورِ مجسّم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہیں ، جب ان کے خوف ِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کا یہ عالم ہے تو میں کس گنتی میں آتا ہوں ؟‘‘ (تذکرۃ الاولیاء )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو 68برس کی عمر میں ۱۵ رجب المرجب ۱۴۸؁ھ کو کسی شقی القلب نے زہر دیاجو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی شہادت کا سبب بنا ۔ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا مزار اقدس جنت البقیع (مدینۃ المنوّرہ) والدِ محترم حضرت سیدنا امام محمد باقر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے پہلو میں ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

خلیفہ پر دبدبہ طاری ہوگیا

        خلیفہ منصور نے ایک شب اپنے بیٹوں کو حکم دیاکہ امام ابو جعفر صادق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو میرے روبرو پیش کرو، تاکہ میں ان کو قتل کر دوں ۔ وزیرنے منع کیاکہ دنیا کوخیر آباد کہہ کر جوشخص عزلت نشین ہو گیا ہو اس کو قتل کرنا قرین مصلحت نہیں ۔ لیکن خلیفہ نے غضب ناک ہوکر کہا کہ میرے حکم کی تعمیل کرنا تم پر ضروری ہے۔ چنانچہ مجبوراً! جب وزیرحضرت سیِّدنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو لینے چلا گیا۔تومنصور نے غلا موں کو ہدا یت کردی کہ جب میں اپنے سر سے تاج اتاروں توتم فوراً امام جعفر صادق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو قتل کر دینا لیکن جب آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُتشر یف لائے توآپ کی عظمت و جلال نے خلیفہ کو اس قدر متأثِّر کیا کہ وہ بے قرار ہوکر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے استقبال کیلئے کھڑا ہو گیا اور نہ صرف آپ کوصدر مقام پر بٹھایا بلکہ خود بھی مؤدّ بانہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے سامنے بیٹھ کر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی حاجات اور ضروریات کے متعلق دریافت کرنے لگا۔آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میری سب سے اہم حاجت وضرورت یہ ہے کہ آئندہ پھر کبھی مجھے دربار میں طلب نہ کیا جائے تاکہ میری عبادا ت وریاضات میں خلل واقع نہ ہو۔چنانچہ منصور نے وعدہ کرکے عزت واحترام کے ساتھ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکہ رخصت کیا لیکن آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے دبدبے کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ لرزہ براندام ہوکر مکمل تین شب وروز بے ہوش رہا ۔بہر حال خلیفہ کی یہ حالت دیکھ کر وزیر اور غلام حیران ہو گئے اور جب خلیفہ سے اس کا حال دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ جس وقت امام جعفر صادق (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)میرے پاس تشریف لائے تو ان کے ساتھ اتنا بڑا اژدھا تھا جو اپنے جبڑوں کے درمیان پورے چبوترے کو گھیرے میں لے سکتا تھا اور وہ اپنی زبان میں مجھ سے کہہ رہا تھا ’’اگر تونے ذرا سی گستاخی کی تو تجھ کو  چبوترے سمیت نگل جاؤں گا ۔‘‘چنانچہ اس کی دہشت مجھ پرطاری ہو گئی اور میں نے آپ سے معافی طلب کر لی۔

(تذکرۃ الاو لیاء مترجم، ص۸)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(7)حضرتِ سیِّدُنا امام موسٰی کاظِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

        حضرتِسیِّدُناامام موسیٰ کاظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمقامِ ابوا(جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے) ۷صفر المظفر ۱۲۸ ھ کو پیدا ہوئے۔ آپ کا نامِ پاک موسیٰ اور کنیت سامی ، ابوالحسن اور ابوابراہیم اور القابات صابر، صالح ، امین جبکہ مشہور لقب کاظم ہے۔ حضرتِسیِّدُناامام جعفر صادِق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے صاحبزادے ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی راتیں اپنے رب کی بارگاہ میں سجدوں اور دن روزوں میں گزرتے ۔ حلم اور بردباری کا پیکر ہونے کی وجہ سے آپ کا لقب کاظم (یعنی غصہ کو پی جانے والا )ہوا۔جُودوسخا کا یہ عالم تھا کہ فقرائِ مدینہ کو تلاش کرتے اور ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق رقم رات کے وقت اِس طرح پہنچاتے کہ انہیں خبر تک نہ ہوتی کہ یہ رقم کون دے کر گیا ہے ۔ مستجاب الدعوات تو ایسے تھے کہ جو لوگ آپ کے وسیلے سے دُعا کرتے یا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے دُعا کرواتے وہ اپنے مقصود کو پہنچتے اور ان کی حاجتیں پوری ہوجاتیں ۔یہی وجہ ہے کہ اہلِ عراق آپ کو بابُ الحوائج (یعنی حاجتیں پوری ہونے کا دروازہ) کہتے تھے ۔ اپنے زمانے میں حنابلہ (یعنی فقہ حنبلی کے پیروکاروں )کے شیخ امام خلّال رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :  مجھے جب بھی کوئی معاملہ درپیش ہوتاہے ، میں امام موسیٰ کاظم بن جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِماکے مزار پر حاضر ہوکر آپ کا وسیلہ پیش کرتاہوں ۔ اللّٰہ   تَعَالٰیمیری مشکل کو آسان کر کے میری مرادمجھے عطا فرمادیتاہے ۔ (تاریخ بغداد۱باب ماذکر فی مقابر بغداد الخصوصۃ بالعلماء والزھاد، ج ۱ ص ۱۳۳)

        55برس کی عمر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو بادشاہِ وقت کے حکم پر کھجور میں زہر ملا کر دیا گیا ۔کھجور کھاتے ہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ دشمنوں نے مجھے زہر دیا ہے تین دن کے بعد میری وفات ہوگی ۔ جیسا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔یوں ۲۵ صفر المظفر ۱۸۳ھ کوآپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمرتبۂ شہادت کو پہنچے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزارِ پُراَنوار بغدادِ



Total Pages: 64

Go To