Book Name:Sharah Shajra Shareef

چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا

        آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ اپنے اکابرین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم کی پاکیزہ زندگیوں کی چلتی پھرتی تصویر تھے اور خوفِ خدا میں یگانۂ روزگار تھے ۔آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ جب وضو کرتے تو خوف کے مارے آپ کے چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا۔ گھر والے دریافت کرتے ، ’’یہ وضو کے وقت آپ کو کیا ہوجاتا ہے؟‘‘ تو فرماتے :  ’’تمہیں معلوم ہے کہ میں کس کے سامنے کھڑے ہونے کا ارادہ کر رہا ہوں ؟‘‘

(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

بے ہوش ہو گئے

         ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے حج کا احرام باندھا تو تلبیہ (یعنی لبیک) نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی ، ’’حضور! آپ لبیک کیوں نہیں پڑھتے ؟‘‘ آبدیدہ ہو کر ارشاد فرمایا، ’’مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے ’’لاَ لَبَّیْکْ‘‘کی آواز نہ آجائے ، یعنی میں تو یہ کہوں کہ’’ اے میرے مالک ! میں بار بار تیرے دربار میں حاضر ہوں ۔‘‘ اور ادھر سے یہ آواز نہ آجائے کہ’’ نہیں نہیں ! تیری حاضری قبول نہیں ۔‘‘لوگوں نے کہا ، ’’حضور! پھر لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہوگا؟‘‘ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے بلند آواز سے لَبَّیْکْ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکْ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لاَشَرِیْکَ لَکْ پڑھا لیکن ایک دم خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  سے لرز کر اونٹ کی پشت سے زمین پر گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آتے تو ’’لبیک‘‘ پڑھتے اور پھر بے ہوش ہوجاتے ، اسی حالت میں آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے حج ادا فرمایا۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۶۴ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

     میدانِ کربلا کی طرف جانے والے حسینی قافلے کے شرکاء میں آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُبھی شامل تھے مگر جب ۱۰ محرم الحرام کو بزمِ شہادت سجی تو آپ شدید بیمار تھے ۔ چُنانچہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُحسینی قافلے کے  ان مردوں میں سے ایک تھے جو اس معرکۂ حق وباطل کے بعد زندہ بچے تھے ۔ 58برس کی عمر میں ولید بن عبدالملک نے آپ کو زہر دیا جس کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ محرم الحرام ۹۴؁ھ میں شہادت کے منصب پر فائز ہوکر مدینہ شریف میں جنت البقیع میں آرام فرما ہوئے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اونٹنی سُدھر گئی

        ایک مرتبہ امام زین العابدین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی اونٹنی نے شوخی کرنا شروع کر دی۔ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے اسے بٹھایا اور کوڑا دکھایا اور فرمایا :  سیدھی ہو کر چلو ورنہ یہ دیکھ لو ! چنانچہ اس کے بعد اس نے شوخی چھوڑ دی۔ (جامع کرامات اولیاء ، ج۲، ص۳۱۱)

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(5)حضرتِ سیِّدُنا امام محمد باقِررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ

        حضرتِسیِّدُناامام محمد باقِر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُواقعہ کربلا سے تین سال پہلے ۵۷؁ھ میں مدینۂ منوّرہ میں پیدا ہوئے ۔آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا نام محمد ، کنیت ابوجعفر ومبارک اور لقب سامی ، باقر ، شاکر اور ہادی تھا ۔آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ حضرتِ سیِّدُناامام زین العابدین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے فرزند ہیں ۔آپ کی والدہ محترمہ امّ عبداللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاامام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی صاحبزادی تھیں ۔ امام باقر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسیرت وصورت میں اپنے آباء کی طرح تھے ۔جس قدر علمِ دینِ مُتِین ، علمِ سنّت ، علمِ قراٰن پاک و تاریخ وسیرت اور فنونِ ادب وغیرہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے ظاہر ہوئے ، اس کی مثال نہیں ملتی ۔ حضرتِ امام قاضی ابویوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِسے منقول ہے کہ میں نے سیِّدُنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا : ’’ آپ نے حضرتِ امام باقررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات کی ہے ؟‘‘فرمایا : ’’ہاں میں نے ملاقات کی ہے اور ان سے ایک مسئلہ بھی دریافت کیا تھا جس کا اتنا شاندار جواب عطا فرمایا کہ اس سے شاندار جواب کسی سے نہ سُنا۔

خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ

        آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا سینہ خشیتِ الہٰی کا خزینہ تھا ۔ آپ کے غلام افلح کا بیان ہے :  حضرت امام باقر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُایک مرتبہ حج کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور میں آپ کے ہمراہ تھا ۔ آپ جب مسجد حرام میں داخل ہوئے تو بیت اللہ  شریف کو دیکھتے ہی اتنے زور سے روئے کہ چیخیں نکلنے لگیں ۔ میں نے کہا ’’حضور! اس قدر زور سے نہ چیخیں کیونکہ تمام لوگوں کی نظریں آپ کی طرف مرکوز ہو گئیں ہیں ۔‘‘ توآپ نے فرمایا :  ’’میں کیوں نہ رؤں ؟ شاید اللّٰہ  تَعَالٰیمیرے رونے کی وجہ سے مجھ پر رحمت کی نظر فرمائے اور میں کل قیامت کے دن اس کے نزدیک کامیاب ہو جاؤں ۔ ‘‘ پھر آپ نے طواف کیا اور مقامِ ابراہیم پر نماز پڑھی اور جب سجدہ کر کے سر اٹھایا تو سجدہ کی جگہ آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھی ۔(روض الریاحین، الفصل الثانی فی اثبات کرامات الاولیاء، ص ۱۱۳)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

 



Total Pages: 64

Go To