Book Name:Sharah Shajra Shareef

۔سوائے حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے (جو بیمار تھے )کوئی مرد زندہ نہ بچاتوآخر میں آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُتن تنہا ہزاروں یزیدیوں کے مقابلے پر تشریف لائے اوربے شُمار یزیدیوں کو اپنے ہاتھ سے جہنم واصل کرنے کے بعد شجرِ اسلام کی آبیاری کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی پیش کردیا اور بارگاہِ خداوندی میں مرتبۂ شہادت سے سرفراز ہوئے ۔ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا مزارِ پُرانوار کربلائے معلی میں زیارت گاہِ خلائق ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  ان کے صد قے ہماری مغفِرت فرمائے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کُنویں کا پانی اُبل پڑا

        حضرتِ سیِّدُناامامِ عالی مقام امام حُسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُجب مدینۂ منوَّرہسے مکّۂ مکرّمہزادَھُمَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں حضرتِ سیِّدنا ابنِ مُطیع علیہ رحمۃ اللہ  البدیع سے ملاقات ہوئی ۔ اُنہوں نے عرض کی ، میرے کُنویں میں پانی بَہُت ہی کم ہے، برائے کرم ! دُعائے بَرَکت سے نواز دیجئے۔ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے اُس کُنویں کا پانی طلب فرمایا۔ جب پانی کا ڈول حاضِر کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے منہ لگا کر اس میں سے پانی نوش کیا اور کُلی کی ۔پھر ڈول کو واپس کنویں میں ڈال دیاتوکنویں کاپانی کافی بڑھ بھی گیا اور پہلے سے زیادہ میٹھا اور لذیذ بھی ہو گیا۔  

  (الطبقاتُ الکُبریٰ ج۵ ص ۱۱۰دارالکتب العلمیۃ بیروت)

باغ جنّت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلبیت

تم کو مُژدہ نارکا اے دشمنانِ اہلبیت

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(3)سَیِّدِسجاد  کے صدقے میں ساجد رکھ مجھے  (رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ)

عِلْمِ حَقْ دے باقِر علمِ ہُد یٰ کے  واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ)

مشکل الفاظ کے معانی :

سجاد : کثرت سے سجدے کرنے والا

ساجد : سجدہ کرنے والا

 ہدی : ہدایت

باقرِ علمِ ہُدٰی : علمِ ہدایت کے ماہِر عالم

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

        یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  تجھے سَیِّدِسجاد یعنی حضرتِ سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَاکا واسطہ مجھے سجدہ کرنے والا یعنی نَمازی بنااورباقرِ علمِ ہُدٰییعنی  امام حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے پوتے امام باقر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے  وسیلہ سیعِلْمِدین  کی دولت سے مالا مال فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

وضاحت :

         ’’سجاد ‘‘ اور ’’ساجد‘‘میں معنوی مناسبت یہ ہے کہ دونوں میں ’’س، ج اورد ‘‘کا معنی ایک ہے یعنی سجدہ کرنے والا۔ جبکہ’’ عَلَمِ ہُدٰی  ‘‘اور’’ عِلْمِ حق ‘‘میں لفظی مناسبت پائی جارہی ہے کہ دونوں میں ایک ہی طرح کے حُرُوف ’’ع، ل اور م‘‘ کا استعمال ہوا ہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے چوتھے اورپانچویں شیخِ طریقت یعنیحضرتِ سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَااوراِن کے فرزندِ ارجمندامام محمد باقر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان دونوں رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَاکے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :

(4)حضرتِ سیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ

        حضرتِسیِّدُناامام زَین العابدین علی بن حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُماکی وِلادت ۳۸؁ھ میں مدینۃ المنورہ میں ہوئی ۔آپ کے والدِ بزرگوار حضرتِ سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُاپنے والدِ ماجد حضرت ِ سیِّدُنا علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے اظہارِ عقیدت کے لئےاپنے بچوں کے نام علی رکھتے تھے ۔اسی مناسبت سے امام زین العابدین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا نام بھی علی ہے اور کنیت ابومحمد ، ابوالحسن ، ابوالقاسم اور ابوبکر ہے، جبکہ کثرتِ عبادت کے سبب آپ کا لقب سجاد ، زین العابدین، سیدالعابدین اور امین ہے ۔آپ کی والدہ ماجدہ حضرتِ سیِّدَتُناشہر بانورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافارس کے آخری بادشاہ یزدجرد کی بیٹی تھیں ۔ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے 2سال تک اپنے دادا حضور حضرت ِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کی آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، پھر 10سال اپنے تایا جان حضرت ِ سیِّدُناامام حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے زیرِ سایہ رہے اور تقریباً 11سال اپنے والد ماجد حضرت ِ سیِّدُنا امام حسینرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی زیرِ نگرانی تربیت پاکر علوم معرفت کی منازل طے کیں ۔

 



Total Pages: 64

Go To