Book Name:Sharah Shajra Shareef

مقام حضرتِ سیِّدُنا امامِ حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ان دونوں رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَاکے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :

(2)حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کرم اللہ  وجہہ الکریم

        امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم مکۂ مکرّمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی کنیت ابوالحسن اور ابوتُراب ہے اورمشہور القابات مرتضیٰ، اسدُاللہ ، حیدرِ کرار، شیرِ خدا اور مولا مشکل کُشا ہیں ۔آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدۂ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت اسد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاہے ۔آپ کی والدہ محترمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا بیان ہے کہ پیدا ہونے کے بعد آپ کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے 3دن تک دودھ نہیں نوش فرما یاجس کی وجہ سے گھر کے سارے افراد پریشان ہوگئے ۔   

 اس بات کی خبر رحمتِ عالم صلی اللہ   تَعَالٰیعلیہ واٰلہ وسلمکو دی گئی توآپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتشریف لائے اور حضرت علیکَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اپنی آغوشِ رحمت میں لے کر پیار فرمایا اور اپنی زبان اطہر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے دہن میں ڈالی ۔حضرت علیکَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمزبان اقدس کو چوسنے لگے ۔ اس کے بعد سے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُدودھ نوش فرمانے لگ گئے ۔حضرت علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے صرف 5سال اپنے والدین کے زیرِ سایہ پرورش پائی اس کے بعد نبی کریم رء وف رحیم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے سایۂ رحمت میں لے لیا اور آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی تربیت فرمانے لگے ۔ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُبچوں میں سب سے پہلے ایمان لائے اور شجرِ اسلام کی آبیاری میں اپنا حصہ ملانے لگے ۔نبیٔ   محترم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : علی مجھ سے ہے میں علی سے ہوں اور وہ ہرمومن کے لئے ولی ہیں ۔(مشکوٰۃ المصابیح ، ج۴، ص۴۲۸، الحدیث ۶۰۹۲)

         آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا نکاح شہزادیٔ رسول حضرت فاطمۃ الزھرا رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُاسے ہوا ، جن سے آپ کے 3 صاحبزادے؛حضرت سیدناامام حسن ، حضرت سیدناامام حسین ، حضرت سیدنا محسنرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُماور 3 صاحبزادیاں ؛ حضرت ِ سیِّدَتُنا زینب، حضرت ِ سیِّدَتُنا ام کلثوم اور حضرت ِ سیِّدَتُنا رقیہرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُن پیدا ہوئیں ۔حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی شہادت کے دوسرے دن۳۵ھ میں مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ کے طور پر مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔ جمعرات۱۷ رمضان المبارک ۴۰ھ کو کوفہ میں نمازِ فجر کی ادائیگی کے لئے مسجد جارہے تھے کہ ابن ملجئم خارجی نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا جس سے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُشدید زخمی ہوگئے اور چند دن صاحبِ فراش رہنے کے بعد اتوار کی رات 63برس کی عمر میں جامِ شہادت نوش کیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا امام حسین وحسن اور عبداللہ  بن جعفر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمنے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو غسل دیا اور امام حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے نمازِ جنازہ  پڑھائی ۔ قبرِ انور کے بارے میں مشہور ومعروف قول یہ ہے کہ آپ کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنجف شریف میں مدفون ہیں ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  ان کے صد قے ہماری مغفِرت فرمائے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بخشش ہو گئی

        ایک بارامیرُ الْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم زِیارتِ قُبُور کے لئے کوفہ کے قَبرِ ستان تشریف لے گئے۔ وہاں ایک تازہ قَبْرپر نظر پڑی ۔ آپ کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اُس کے حالات معلوم کرنے کی خواہِش ہوئی ۔چُنانچِہ بارگاہِ خُداوندی عَزَّوَجَلَّمیں عَرض گُزار ہوئے، ’’یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  !اِس مَیِّت کے حالات مجھ پر مُنْکَشِف (یعنی ظاہِر ) فرما۔‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں آپ کی اِلتِجا فوراً  مَسْمُوع ہوئی (یعنی سُنی گئی )اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے اور اُس مُردے کے درمیان جتنے پردَے حائل تھے تمام اٹھادئیے گئے۔اب ایک قَبر کا بھیانک منظر آپ کے سامنے تھا۔کیا دیکھتے ہیں کہ مُردہ آگ کی لَپیٹ میں ہے اور رو رو کر آپ کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے اِس طرح فریاد کررہا ہے : ’’یَا عَلِیُّ! اَنَا غَرِیْقٌ فِی النَّارِ وَحَرِیْقٌ فِی النَّاریعنی یاعلی ! کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْممیں آگ میں ڈوبا ہواہوں اور آگ میں جل رہا ہوں ۔‘‘

        قَبْرکے دَہشت ناک منظر اور مُردے کی درد نا ک پُکارنے حیدرِ کرّارکَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو بے قرار کردیا۔ آپ کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے رَحمت والے پروَردگارعَزَّوَجَلَّ  کے دربار میں ہاتھ اُٹھادئیے اور نہایت ہی عاجِزی کے ساتھ اُس مَیِّت کی بخشِش کیلئے درخواست پیش کی ۔غیب سے آواز آئی ، ’’ اے علی(کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) !آپ اِس کی سِفارش نہ ہی فرمائیں کیوں کہ روزے رکھنے کے باوُجُودیہ شخص رَمَضانُ الْمُبارَک کی بے حُرمتی کرتا، رَمَضانُ الْمُبارَک میں بھی گُناہوں سے بازنہ آتا تھا۔دن کو روزے تَو رکھ لیتا مگر راتوں کو گُناہوں میں مُبْتَلارہتا تھا۔مَولائے کائِنا ت علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم یہ سُن کر اور بھی رنجیدہ ہوگئے اور سَجدے میں گِر کر رو رو کر عرض کرنے لگے ، یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  !میری لاج تیرے ہاتھ میں ہے، اِس بندے نے بڑی اُمّید کے ساتھ مجھے پُکارا ہے ، میرے مالِک عَزَّوَجَلَّ  ! تُو مجھے اِس کے آگے رُسوا نہ فرما، اس کی بے بَسی پر رَحم فرمادے اور اِس بیچارے کو بَخش دے ۔حضرت علیکَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُالْکَرِیْمرو رو کر مُناجات کررہے تھے۔  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رَحمت کا دریا جوش میں آ گیا اور نِدا آئی ، اے علی !(کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم)ہم نے تمہاری شِکَستہ دِلی کے سَبَب اِسے بخش دیا۔چُنانچِہ اُس مُردے پر سے عذاب اُٹھا لیا گیا۔(انیسُ الْواعِظین، ص۲۵)