Book Name:Sharah Shajra Shareef

انہوں نے آپ کے سراپا اقدس کے فضل وکمال کی جو منظر کشی کی ہے اس کی دل کشی سے دل شوقِ زیارت سے بے تاب ہوجاتا ہے ۔مدّاح رسول حضرتِ سیِّدُناحسان بن ثابت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شانِ اقدس میں اس طرح عرض کی :                 ؎

وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنِیْ!

وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ

یعنی یا رسول  اﷲ !(صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں ۔

خُلِقْتَ مُبَرَّئً مِّنْ کُلِ عَیْبٍ!

کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ

(یا رسول  اﷲ ! صلی اللہ   تَعَالٰیعلیہ وسلم)آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔

حضرت علامہ بوصیری علیہ رحمۃ القوی نے اپنے قصیدئہ بردہ میں فرمایا کہ   ؎

مُنَزَّہٌ عَنْ شَرِیْکٍ فِیْ مَحَاسِنِہٖ

فَجَوْھَرُ الْحُسْنِ فِیْہِ غَیْرُ مُنْقَسِمٖ

یعنی حضرت محبوب خدا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں جو حسن کا جوہر ہے وہ قابل تقسیم ہی نہیں ۔

حسّانُ الہنداعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے بھی اس مضمون کی عکاسی فرماتے ہوئے کتنے نفیس انداز میں فرمایا ہے کہ   ؎

ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا تری خَلق کو حق نے جمیل کیا

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالق حسن و ادا کی قسم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

سُورج پلٹ آیا

         حضرتِ سیِّدُتنا اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا بیان ہے کہ ’’خیبر‘‘ کے قریب ’’منزل صہبا‘‘ میں حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نماز عصر پڑھ کر حضرتِ سیِّدُنا علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی گود میں اپنا سر اقدس رکھ کر سو گئے اور آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ حضرت علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسراقدس کو اپنی آغوش میں لیے بیٹھے رہے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور آپ کو یہ معلوم ہوا کہ حضرت علی  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی نماز عصر قضا ہوگئی تو آپ نے یہ دعا فرمائی کہ ’’یا اﷲ ! یقینا علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھے لہٰذا تو سورج کو واپس لوٹا دے تاکہ علی نماز عصر ادا کرلیں ۔‘‘

        حضرتِ اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکہتی ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ڈُوبا ہوا سورج پلٹ آیا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور زمین کے اوپر ہر طرف دھوپ پھیل گئی۔

(المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، باب ردالشمس لہ، ج۶، ص۴۸۴)

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  اِن کے صد قے ہماری مغفِرت فرمائے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(2) مشکلیں حل کر شہ مُشکل کُشا  کے واسِطے   (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

 کر بلائیں رَد شہیدِ کربَلا   کے واسِطے    (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

مشکل الفاظ کے معانی :

شہ : سردار

مشکل کُشا : مشکلیں حل کرنے والا

رَد  : دُور

 واسِطے : وسیلہ سے   

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

        یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  تجھے  امیر المؤمنین مولا مُشکل کُشاحضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کرم اللہ   تَعَالٰیوجہہ الکریم   اور اِن کے فرزندِ دِلْبَنْد، شہیدِ کربلاامامِ عالی مقام حضرتِ سیِّدُنا امامِ حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا واسطہ میری مشکلات حل فرماکرمجھے پریشانیوں سے نجات عطا کر ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تذکرہ : اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے دوسرے اور تیسرے شیخِ طریقت یعنی مولا مُشکل کُشاحضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کرم اللہ  وجہہ الکریم اوراِن کے فرزندِ دِلْبَنْد، امامِ عالی



Total Pages: 64

Go To