Book Name:Sharah Shajra Shareef

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تذکرہ :   اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کی اصل یعنی خاتَمُ النَّبِیِّین، صاحِبِ قراٰنِ مُبین، محبوبِ ربُّ العٰلَمِین، جنابِ صادِق وامین  عَزَّوَجَلَّ  و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکر ِخیر ہے ، آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :     

(1) رحمۃٌ  لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  

        سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار ، بِاِذنِ پرَوَرْدگار دوعالَم کے مالِک ومُختار، شَہَنشاہِ اَبرار صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام عالَمین کے لئے رحمت بن کرملکِ عرب کے شہر مکۃ المکرمہ میں ۱۲ ربیع الاول بمطابق 571ء پیر شریف کو صبحِ صادق کے وقت حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے بطنِ مبارک سے حضرتِ سیِّدنا عبداللہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے آنگن میں اِس مادَرِ گیتی پر جلوہ گر ہوئے ۔  ؎

صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

مُبارَک ہو کہ ختمُ المرسلیں تشریف لے آئے

صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین تشریف لے آئے

        یوں تو آپ   صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بہت سے نام ہیں مگر دو نام محمد اور احمد بہت مشہور ہیں ۔آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ابھی شکمِ مادر میں تھے کہ والد نامدار حضرتِ سیِّدنا عبداللہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے سفر کی حالت میں مدینۃ المنورہ میں انتقال فرمایا۔وِلادت کے بعد شہر مکہ کے دستور کے مطابق دائی حضرت ِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے آپ کو دودھ پِلانے کا شرف حاصل کیا ۔آپ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَابھی 6برس کے تھے کہ والدہ ماجدہ حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا دورانِ سفر ابُوا نامی گاؤں میں انتقال ہوگیا ، وہیں ان کا مزار اقدس ہے ۔پھر 8برس کی عمر تک آپ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے دادا حضرت عبدالمطلب کے پاس رہے ۔جب وہ راہیٔ مُلک بقاہوئے (یعنی انتقال فرما گئے )تو پرورش کا ذمہ آپ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے چچا ابوطالب نے لے لیا ۔ 25برس کی عمر میں حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبرٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے پہلا نکاح ہوا ۔ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُاکے وصال فرماجانے کے بعد حضور نبی کریم رء وف رحیم  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اور بھی نکاح فرمائے ۔آپ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ازواج مطہرات رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنکی تعداد 11ہے ۔آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سب سے مشہور کنیت ابوالقاسم ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا قاسم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُآپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پہلے فرزند ارجمندہیں جو حضرتِ خدیجۃ الکبرٰی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُاکے شکم مبارک سے پیدا ہوئے اور صرف 17دن حیات رہے۔اس کے علاوہ حضرت ِسیِّدَتُنا ماریہ قبطیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے بطنِ اقدس سے پیدا ہونے والے دوسرے شہزادے حضرتِ سیُِّدناابراہیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ(جن کا 17یا 18ماہ کی عمر میں وصال ہوگیا تھا)کے حوالے سے آپ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی کُنیت ابوابراہیم بھی ہے ۔ان دونوں کے علاوہ آپ کے ایک شہزادے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُبھی ہیں جو بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے ۔آپ کی 4صاحبزادیاں تھیں جن کے نام یہ ہیں : (۱)حضرتِ سیِّدَتُنا زینب(۲)حضرتِ سیِّدَتُنا رقیہ (۳)حضرتِ سیِّدَتُناامّ کلثوم اور(۴)حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ زہرا رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ۔

            40سال کی عمر میں آپ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اعلانِ نبوّت فرمایا اور لوگوں کو ایک خداعَزَّوَجَلَّ   کی عبادت اور بطورِ نبی اپنی اطاعت کی طرف بُلایا ۔اعلانِ نبوّت کے 12سال بعد معجزۂ معراج وقوع پذیر ہوا ۔تقریباً 53سال مکۃ المکرمہ کی سرزمین کو اپنے قدم چومنے کا شرف عطا فرمانے کے بعد کفارِمکّہ کے ظلم وستم سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے حکمِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ  پرعمل کرتے ہوئے مدینہ شریف کی طرف ہجرت کی اور تقریباً 10 برس تک مدینۂ طیّبہ کو اپنے نورِ جمال سے روشن کرنے کے بعد 63برس کی عمر میں ۱۲ ربیع النور ۱۱ھ میں وصالِ ظاہری فرما کر روضۂ اقدس میں رونق افروز ہوئے ۔  ؎

تُوزندہ ہے واللہ  تُوزندہ ہے واللہ

میری چشمِ عالم سے چھپ جانے والے

        اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ  ہمارے میٹھے میٹھے آقا  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حسنِ اخلاق کے تمام گوشوں کے جامع تھے یعنی  حلم و عفو، رحم و کرم، عدل و انصاف، جود و سخا، ایثار و قربانی، مہمان نوازی، عدم تشدد، شجاعت، ایفائے عہد، حسن معاملہ، صبروقناعت، نرم گفتاری، خوشروئی، ملنساری، مساوات، غمخواری، سادگی وبے تکلفی، تواضع وانکساری، حیاداری کی اتنی بلند منزلوں پر فائز و سرفراز ہیں کہ حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضیاللہ  تَعَالٰی عنہا نے ایک جملے میں اس کی عکاسی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ یعنی تعلیمات قرآن پر پورا پورا عمل یہی آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اخلاق تھے۔‘‘

جس طرح ہمارے مَدَنی آقاصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ  نے کمالِ سیرت میں تمام اولین وآخرین میں افضل واعلیٰ بنایا اسی طرح آپ کو جمالِ صورت میں بھی بے مثل وبے مثال پیدا فرمایا ۔صحابہ کرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمجو دن رات ، سفروحضر میں آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے جسمِ نورانی کی تجلیاں دیکھتے رہے ،   

 



Total Pages: 64

Go To