Book Name:Saas Bahu main Sulha Ka Raaz

(9) بد عقیدہ ڈاکٹر کی توبہ

            بابُ الاسلام  (سندھ) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے کہ ہمارا مَدَنی قافلہ حیدرآباد سے دَادُو شہر کے قریب ایک گاؤں پیارو گوٹھ پہنچا ۔ جس مسجد میں مَدَنی قافلے میں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کا قیام تھا  ، اس کے ساتھ ایک اسپتال بھی تھا ۔اس اسپتال کے انچارج ڈاکٹر (عمر تقریباً 40سال)کے بارے میں کسی نے بتایا کہ یہ ڈاکٹر بدعقیدہ لوگوں کی تنظیم سے وابستہ ہے اور اتنا متشدّد ہے کہ اسپتال کے ساتھ مسجد ہونے کے باوجود کافی دُور اپنے ہم عقیدہ لوگوں کے پاس جاتا ہے ۔شرکائے قافلہ جب جدول کے مطابق انفرادی کوشش کے لئے مسجدسے باہر نکلے تو اس ڈاکٹر کے پاس بھی گئے اور اسے سکھر میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے 3روزہ سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی ۔ اس نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں تو فلاں تنظیم کے اجتماع میں شریک ہوتا ہوں ۔ شرکائے قافلہ واپس آگئے اور ہمت ہارے بغیر وقتاً فوقتاً اس پر انفرادی کوشش کا سلسلہ جاری رکھا۔دوسرے ہی دن جب انہوں نے اُس ڈاکٹر کو شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا تعارُف کروایا اور ان کی دینی خدمات کے بارے میں بتایااور اسپتال میں VCDاجتماع کروانے کی ترغیب دلائی تو حیرت انگیز طور پر وہ فوراً راضی ہوگیا ۔ اس نے نہ صرف VCDاجتماع میں شرکت کی بلکہ جب دورانِ اجتماع بجلی چلی گئی تو وہ بھاگم بھاگ قریبی ہوٹل سے جنریٹر مانگ لایا ۔

          VCDاجتماع کے اختتام پر جب شرکائے اجتماع پر انفرادی کوشش کے دوران اس ڈاکٹر کو سکھر میں ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دوبارہ پیش کی گئی تو وہ ہاتھوں ہاتھ تیّار ہوگیااور اپنا نام بھی لکھوا دیا ۔جب وہ ڈاکٹر سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا تو سنّتوں بھرے بیانات  ، سیکھنے سکھانے کے حلقوں اور اسلامی بھائیوں کے حُسن اخلاق کی چاشنی سے لبریز ملاقات کے انداز سے بے حد متأثر ہوا اور ایک مَدَنی اسلامی بھائی سے پوچھنے لگا کہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی جاتا رہا مگر ایسا ماحول اور روحانی سکون مجھے کبھی نصیب نہیں ہوا ؟اب میں کیا کروں  ، دونوں جگہ شرکت رکھوں یا کسی ایک طرف ہوجاؤں ؟ ابھی وہ اسلامی بھائی جواب دینے کے لئے حکمت بھرے الفاظ کا انتخاب کررہے تھے کہ وہ ڈاکٹر صاحب خُود ہی کہنے لگے : یقینا آپ کا جواب یہی ہونا چاہئے کہ مجھے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجانا چاہئے  ، اب اِدھر اُدھر جانے کی حاجت نہیں ۔‘‘ اتنا کہنے کے بعد اس ڈاکٹر صاحب نے اپنے بُرے عقائد سے توبہ کی اور اپنا نام شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے مرید ہونے کے لئے بھی پیش کردیا ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(10) عیسائی مسلمان ہوگیا

            بابُ المدینہ  (کراچی) کے علاقہ لیاقت آباد کے ایک بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں نے ایک ماڈرن نوجوان کو VCD’’دیدارِ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ‘ تحفے میں دی ۔ اس VCDمیں شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری دامت برکاتہم العالیہ کا چہرۂ مبارک پہلی بار (واضح طور پر) دکھایا گیا ہے  ، حبّ جاہ کی تعریف اور ایمان کی سلامتی کا مختصر بیان بھی اس VCDمیں شامل ہے ۔ جب اس ماڈرن نوجوان نے یہ VCDدیکھی تو بہت متأثر ہوا اور ا پنے گناہوں سے توبہ کرلی ۔ یہی VCDاس نے انفرادی کوشش کر کے ایک کرسچین یعنی عیسائی کو دکھائی تو وہ عیسائی یہ VCDدیکھ کر رونے لگ گیا اور کہنے لگا کہ مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کرلو۔ مسلمان ہونے کے بعد اس اسلامی بھائی کے جذبات یہ تھے کہ کاش! تم یہ VCDمجھے پہلے دکھا دیتے تو میں اتناعرصہ کفر کے اندھیروں میں نہ بھٹکتا پھرتا ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(11)  اِیمان کی حفاظت

            عرب امارات  میں مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ ہمارے یہاں کے ایک اِسلامی بھائی صحیح معلومات نہ ہونے کی بنا پر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے دُور دُور رہتے تھے ۔ کسی نے انہیں VCD’’ایمان کی سلامتی‘‘ تحفے میں دی جس میں امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے مسلمانوں کو رقت بھرے انداز میں ایمان کی حفاظت کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ یہ VCDدیکھ کر وہ  اتنے متأثر ہوئے کہ کہنے لگے : ’’بس آج سے میں دعوتِ اسلامی کا ہوں۔‘‘پھر انہوں نے اپنے گھر میں دعوتِ اسلامی کا اجتماع بھی کیا اور شرکائے اجتماع کو نہ صرف کھانا پیش کیا بلکہ اپنے چہرے پر سنّت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی شریف سجانے کی نیت کرنے والے 2اسلامی بھائیوں کو عمرہ کروانے کی بھی نیت کی ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(12) بہن سُدھر گئی

            بابُ المدینہ  (کراچی) کے علاقہ گلشن ِ حدید کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ پہلے پہل میری بہن اپنے بچوں کے ابو پر رُعب جمانے کی عادی تھیں۔ وہ بے چارے کام کاج سے تھک ہار کر جیسے ہی گھر پہنچتے میری بہن کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ان پر چڑھائی کردیتیں  ،  وہ بے چارے بے حد سادہ اور شریف تھے ، لہٰذا ! اپنا سا منہ لے کررہ جاتے ۔ہم بھی بہن کو سمجھاتے مگر وہ اپنی روش سے باز نہ آتی تھیں ۔امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہپر اللّٰہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں کہ آپ کی عطاکردہ VCD’’گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے؟‘‘جب میری بہن نے دیکھی  ، وہ دن اور آج کا دن اس نے کبھی اپنے بچوں کے ابو کے سامنے زبان درازی نہیں کی  ،  الحمدللّٰہ عَزَّوَجَلَّیوں ان کا گھر امن کا گہوارہ بن گیا ۔

 



Total Pages: 8

Go To