Book Name:Aala Hazrat Say Sawal Jawab

اور کتاب ’’فتح المبین‘‘ اور ’’جامع الشواھد‘‘ جن پر عرب و ہند کے بہت سے علماء کی مہریں ہیں اور’’ طحطاوی حاشیہ درمختار‘‘([1])میں ان کے بدعتی ہونے کی تصریح ہے ۔

سوال نمبر ۱۱:فرقہ غیر مقلّدین کیوں کر مذاہب اربعہ([2])اہلسنّت و جماعت سے خارج ہیں جو بدعتی اور ناری ہوئے بلکہ وہ تو بلا تعیّن چاروں اماموں کی تقلید کرتے ہیں ؟

جواب :یہ غیر مقلّدین کادھوکہ ہے ان کے یہاں تقلید شرک ہے ۔ ان کے پیشوا اسمٰعیل دہلوی اور صدیق حسن خان بھوپالی اسے لکھ گئے ہیں ، چاروں اماموں کو حدیث کا مخالف بتاتے ہیں ۔ انہیں کی کتاب ’’ظفر المبین ‘‘اسی بیان میں ہے، یہ کوئی مسئلہ کسی امام کی تقلید سے نہیں مانتے، اتفاقیہ کوئی موافقت ہوجائے تو دوسری بات ہے اسے اتباع نہیں کہیں گے۔ دیکھو’’ توضیح و   تلویح ([3]) ‘‘۔

سوال نمبر ۱۲ :یہ بیا ن کیجئے کہ غیر مقلّدین کے مسائل ایسے بھی ہیں جو مذاہب اربعہ اہلسنّت میں سے کسی کے نزدیک جائز نہ ہوں ؟

جواب : بہت مسائل ہیں جیسے ایک جلسہ میں تین طلاقوں سے ایک ہی طلاق پڑنا، وضو میں سرکی جگہ پگڑی کا مسح ، ان کی کتاب ’’تحفت المومنین‘‘ میں جو اُن کے پیشوا نذیر حسین کے شاگرد نے بعد نظر ثانی کے مطبع نولکشور میں دوبارہ چھپوائی اس کے صفحہ ۱۷ پرصاف لکھا ہے کہ پھوپھی کے ساتھ نکا ح درست ہے ان کے یہاں خون اور شراب اور سور کی چربی ناپاک نہیں جیسا کہ ان کی ’’روضہ ندیہ ‘‘صفحہ ۱۲ وغیرہ سے ثابت ہے ۔

سوال نمبر ۱۳:قیاس ابوحنیفہ کے خلاف و باطل کہنے والے کوکیا لکھا ہے  ؟

جواب :’’فتاوٰی عالمگیری([4]) ‘‘ وغیرہ میں ہے ’’جو شخص امام ابوحنیفہ کے قیاس کو حق نہ مانے وہ کافر ہے‘‘ ۔

سوا ل نمبر ۱۴:غیر مقلّدین کے پیشواؤں نے بزرگان دین و فقہائے کرام ومقلّدین مصلائے اربعہ([5])کی نسبت اور نیزقبۂ مبارک ([6]) (حضور صاحب لولاک )صلی اﷲعلیہ وسلم کے بارے میں کیالکھاہے  ؟

جواب :ان کے پیشوا صدیق حسن خاں وغیرہ نے شرک و بدعت و مشرک لکھاہے ۔

سوا ل نمبر ۵ ۱:نواب صدیق حسن خاں نے خلیفہ ثانی حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   کی شان میں کیا بے ادبی کے کلمات لکھے ہیں  ؟

جواب :اپنی کتاب ’’انتقاد الرجیح‘‘ کے غالباً صفحہ ۶۲پر صریح گمراہ بتایا ہے کہ’’ انہوں نے جماعت تراویح کو رواج دیا اور خود اسے بدعت کہہ کر اچھا بتایا حالانکہ کوئی بدعت قابل ستائش نہیں ، سب گمراہی ہے ‘‘۔

سوال نمبر ۱۶ :شَیْخَیْنْ کو جو گالی دینے والا ہے اس کے بارے میں اکابر اہلسنّت کی کیا رائے ہے  ؟

جواب :جو شخص ابوبکرصدیق یا عمر فاروق رضی اﷲعنہما کو برا کہے بہت سے آئمہ نے اسے کافر کہا ہے ۔ اور اس قدر پر تواجماع ہے کہ ایسا شخص بددین ہے([7]) دیکھو  تنویر الابصار ،درمختار، فتاویٰ عالمگیری ، فتاوی خلاصہ، فتح القدیر ، اشباہ و بحرالرائق، غنیۃ([8])،عمودالدریہ وغیرہ۔

سوال نمبر ۱۷ :ایسا کہنے والے کو  احتیاطاً کافرنہ کہیں تو مبتدع کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟

 



=ان کے مکتبوں سے شائع ہورہی ہیں اور لوگوں کے ایمان میں خرابی کا باعث بن رہی ہیں ۔ بہرحال اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃنے’’ تحذیرالناس‘‘ کی اشاعت کے تیس (30)سال بعد،’’براھینِ قاطعہ‘‘ کی اشاعت کے تقریباً سولہ (16)سال بعداور ’’حفظ الایمان ‘‘کی اشاعت کے قریبًا ایک سال بعد  ۱۳۲۰؁ ھ میں مذکورہ بالا اشخاص پر ان کفریہ عبارات کی و جہ سے کفر کا فتوی صادر فرمایاجسکی تصدیق ’’علمائے حر مین شریفین‘‘ نے فرمائی، انہی تصدیقات کو  ’’فتاوی حرمین‘‘ کہتے ہیں یہ تصدیقات’’حسام الحرمین‘‘کے نام سے اردو   ترجمہ کے ساتھ   مکتبۃ المدینہ (پرانی سبزی منڈی، فیضانِ مدینہ کراچی) پر بآسانی دستیاب ہیں ۔      

[1]     حاشیۃ الطحطاوي علی الدر المختار،کتاب الجھاد، باب البغاۃ،ج۲،ص۴۹۴،المکتبۃ العربیۃ،کوئٹہ

[2]     (i)حنفیہ(ii)شافعیہ (iii)مالکیہ(iv)حنبلیہ

[3]     توضیح تلویح،فصل في تقلید الصحابي رضي اللہ عنہ، ج۲،ص۴۹۴،۴۹۳،میر محمد کتب خانہ ،کراچی۔

[4]     ’’الفتاوی العالمکیریۃ المعروفۃ’’بالفتاوٰی الھندیہ‘‘مطلب موجبات الکفر الخ،ومنھا ما یتعلق بالعلم و العلمائ،ج۲،ص ۲۷۱  المکتبۃ الرشیدیہ کوئٹہ۔     

[5]     ترکوں کے دَورِ حکومت میں حَرَم شریف میں چار مصلّے قائم کئے گئے تھے تاکہ حنفی ،شافعی ،مالکی اور حنبلی فقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان، اپنی اپنی فقہ کے مطابق مسجدِ حرام شریف میں نماز باجماعت اداکرسکیں ،حنفی مصلّٰی شمالی جانب،شافعی مصلّٰی جنوب مشرقی سمت میں ، حنبلی مصلّٰی جنوب مغربی اورمالکی مصلّٰی مغرب کی سمت میں واقع تھا ،بعد ازاں نجدی حکومت نے ان مصلّوں کو اٹھوادیا تھا (حدیقہ ندیہ شرح طریقۂ محمدیہ باب وقد سئل بعض العلماء عن ھذہ المقامات الخ ، ج۱ ، ص۱۴۶، دارالطباعۃ عامرہ ، مصر)

[6]     حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم   کے روضۂ مبارکہ کا گنبد شریف      ۲۔اگرحضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کوگالی نکالتا ہے جب تو اس کے کافر ہونے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں اور اگر صرف حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو شیخین کریمین سے افضل بتائے تو پھر گمراہ ہے فتاوی بزازیہ علیٰ ھامش فتاوی الھندیہ ،نوع فیمایتصل بہاج ۶،ص۳۱۹ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ،سرکی روڈ،کوئٹہ ، فتاوٰی رضویہ جدید،کتاب السّیر،ج ۱۴،ص۲۵۲ رضا فاؤنڈیشن لاہور) جنوب مغربی اورمالکی مصلّٰی مغرب کی سمت میں واقع تھا ،بعد ازاں نجدی حکومت نے ان مصلّوں کو اٹھوادیا تھا (حدیقہ ندیہ شرح طریقۂ محمدیہ باب وقد سئل بعض العلماء عن ھذہ المقامات الخ ، ج۱ ، ص۱۴۶، دارالطباعۃ عامرہ ، مصر)

  [7]   اگرحضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کوگالی نکالتا ہے جب تو اس کے کافر ہونے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں اور اگر صرف حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ