Book Name:Aala Hazrat Say Sawal Jawab

چین سے چودہ مسئلے دریافت کئے ہیں ، چنانچہ لفافہ مرسلہ چین داخل کرتا ہوں ۔

سوال نمبر ۳ : آپ کا مذہب کیا ہے ؟

جواب :مسلمان سُنّی مقلّد۔

سوال نمبر ۴ :ہندوستان کے عام سنی مسلمانوں کا کیا مذہب ہے؟

جواب :یہی مذہب ہے جو میرا مذہب ہے ۔

سوال نمبر ۵ :غیرمقلّد جو اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں ہندوستان میں کب ظاہر ہوئے ؟

جواب :ان کو پیدا ہوئے ابھی سوبر س نہیں گزرے،  ۱۲۳۳؁ ھ میں دہلی کے ایک شخص اسمٰعیل نے یہ نیا مذہب نکالا([1])اور ہندوستان کو دارالحرب بتاکر جہاد کا جھنڈا قائم کیا([2])۔

سوال نمبر ۶:اس سے پہلے سنّیوں میں ہندوستان کے تمام مسلمان کس مذہب پر تھے اور سلاطین کس مذہب پر تھے  ؟

جواب :تمام مسلمان رعایا و سلاطین سب مقلّد، سنّی حنفی تھے۔ اسی لئے گورنمنٹ نے حنفی مذہب کواس ملک کے سنّی مسلمانوں کا مذہب مان کر اسی مذہب کی کتابیں ’’ھدایہ، قاضی خاں ، عالمگیری، درمختار ‘‘ انگریزی میں ترجمہ کرائیں اور انہیں کتابوں پر مقدمات فیصل ہوتے ہیں ۔ غیر مقلّد کی کوئی کتاب نہ ترجمہ ہوئی اور نہ اس پر فیصلہ ہوا۔

سوال نمبر ۷: سلطنت کی حالتِ قوت میں یہ فرقۂ غیر مقلّدین پیدا ہوا یا کب اور نکل کر اپنا نام کیا رکھا  ؟

جواب :یہ فر قہ، ضعف سلطنت میں پیدا ہوا۔ اپنا نام موحدومحمدی وعامل بالحدیث رکھا اور اہلسنّت نے عرب و عجم میں ان کا نام وہابی اور غیر مقلّد([3]) اور لامذہب رکھاانھوں نے اہلسنّت ہونے کادعوٰی کیا ۔مگر عرب و عجم کے اہلسنّت نے ان کو ’’اہل ِ بدعت ‘‘جانا ۔

سوال نمبر ۸ :ا س فرقہ کے ظاہر ہونے پر ہندوستان کے علمائے اہلسنّت نے اس کی تردید کی یا نہیں اور علمائے حرمین شریفین سے فتاوٰی اس مذہب کے بطلان پر آئے یا نہیں  ؟

جواب : ہاں ۔

سوال نمبر ۹:اس فرقۂ جدیدہ کا فتنہ، ہندوستان میں دفعتًا پھیلا یا آہستہ آہستہ اور ہر جگہ اور ہر مقام میں اس کی کثرت ہوئی یاکیا  ؟

جواب :اس کافتنہ بتدریج پھیلا ۔ بہت جگہ ابھی تک ان کانام و نشان نہیں اور بعض جگہ چند سال سے گنتی کے لوگ اس مذہب کے ہوئے ہیں ۔

سوال نمبر ۱۰ :غیر مقلّدین، اہلسنّت میں داخل ہیں یامبتدع ([4])ہیں اور مبتدع ہیں تو کس دلیل سے  ؟

جواب :غیر مقلّدین مبتدع، گمراہ ہیں ۔ علمائے عرب و عجم کا اس پر اتفاق ہے ۔ دیکھو عرب شریف کافتوٰی، ’’فتاوی الحرمین‘‘([5])جس پر علمائے مکہ و مدینہ کی مُہریں ہیں

 



[1]     صدر الشّریعہ بدرالطّریقہ مولانا امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ اس نئے مذہب کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ’’ یہ ایک نیا فرقہ ہے جو  ۱۲۰۹؁ ھ میں پیداہوا اس مذہب کا بانی محمد بن عبدالوھاب نجدی تھا جس نے تمام عرب خصوصًا حرمین شریفین میں بہت شدیدفتنے پھیلائے ،علماء کو قتل کیا ، صحابہ کرام وآئمہ علماء وشہدا کی قبریں کھود ڈالیں ، روضۂ انور کا نام معاذاللہ صنم اکبر رکھا تھا یعنی ’’بڑا بت‘‘اور طرح طرح کے ظلم کئے جیسا کہ صحیح حدیث شریف میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے خبردی تھی کہ نجد(موجودہ نام’’ ریاض‘‘ )سے فتنے اٹھیں گے اور شیطان کا گروہ نکلے گا،وہ گروہ بارہ سو برس بعد یہ ظاہر ہوا ،علامہ ابن عابدین شامی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ نے اسے خارجی بتایا، اس عبدالوھاب کے بیٹے نے ایک کتاب لکھی جس کانام توحید رکھا،اس کا ترجمہ ہندوستان میں اسماعیل دہلوی نے کیا جس کانام ’’تقویۃ الایمان‘‘رکھا اور ہندوستان میں اسی نے وہابیت پھیلائی۔ ان وہابیہ کا ایک بہت بڑا عقیدہ یہ ہے کہ جو ان کے مذہب پر نہ ہو وہ کافر ،مشرک ہے یہی وجہ ہے کہ بات بات پر محض بلاوجہ مسلمان پر حکمِ شرک وکفر لگایا کرتے اور تمام دنیا کو مشرک بتاتے ہیں ۔ (ملخص از:۔بہارشریعت ،جہیز ایڈیشن حصہ اول ص۵۵۔۵۴ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی )

[2]     کسی بھی دار السلام کے دار الحرب ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہاں احکامِ شرک اعلانیہ جاری ہوں اور اسلامی شعائر واحکام مطلقاًجاری نہ ہوں جبکہ ہندوستان میں ایسا ہرگز نہیں بلکہ مسلمانوں کو ہر طرح کی آزادی حاصل تھی اور ہے۔لیکن اسماعیل دہلوی نے ہندوستان کو دارالحرب قراردے کر جہاد کا نعرہ بلندکیاجبکہ اس کے پسِ پردہ مقاصدکا حصول ’’سستی شہرت اور سود کا جائز ‘‘ہوناتھا کیونکہ شریعتِ مطہرہ کے اصول کے مطابق اگر کوئی مسلمان دارالحرب میں ہے تو اسے کفار سے زیادتی بلاعوض حاصل کرنا جائز ہے، مسلمان کے لئے وہ ہرگز سود میں شمار نہ ہوگا۔اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃالرَّحْمٰن نے اسماعیل دہلوی کے رد میں ایک مستقل رسالہ ’’اِعلام الأعلام بأن ھندوستان دار السلام‘‘(یعنی بلاشک وشبہ ہندوستان دار السلام ہے)تحریر فرمایا جوکہ فتاوٰی رضویہ( جدید) کی چودھویں جلدمیں موجود ہے۔دارالحرب میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ بھی حکم ہے کہ اگران کو قدرت واستطاعت ہوتو وہ ہجرت کرکے دارالسلام جائیں تاکہ ان کو احکامِ شریعت پر عمل کرنے میں آسانی ہو۔مذکورہ بالا رسالہ میں اعلیٰ حضرت عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ الرَّحْمٰن نے اسماعیل دہلوی کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ہندوستان دارالحرب ہے تو یہاں سے ہجرت کیوں نہیں کرجاتے جبکہ انگریزگورنمنٹ کی طرف سے کسی قسم کی روک ٹوک بھی نہیں ۔ ہندوستان کے دارالحرب نہ ہونے پر مزید دلائل دیتے ہوئے’’ فصول عمادیہ‘‘ کے حوالہ سے  فرماتے ہیں کہ ’’دارالسلام میں جب تک کچھ بھی احکامِ اسلام باقی رہیں وہ دارالحرب نہ بنے گااگرچہ وہاں اہل اسلام کا غلبہ ختم ہوجائے‘‘ جبکہ اس کے برعکس صاحبِ درمختار کی’’المنتقٰی‘‘سے لکھا’’کہ دارالحرب میں بعض اسلامی احکام نافذ ہوجائیں تو وہ دارالسلام بن جاتا ہے‘‘ مزید برآں یہ کہ کسی ایسی جگہ پر’’ جہاں احکا م شرک واحکام اسلام دونوں نافذ ہوں (جیسا کہ فی الوقت تقریبًا پوری دنیامیں ایسا ہی ہے) تو وہ دارالحرب نہیں ہوگا‘‘(ملخص از’’ فتاوٰی رضویہ‘‘ (جدید)،ج۱۴،ص ۰۵ا تا۱۰۹،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

[3]     جو کسی کے پیرو کار نہ ہوں ۔مقلد کا معنی پٹہ ڈالنے یا اطاعت کرنے کے ہیں ۔آئمہ اربعہ یعنی امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ،امام شافعی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ،امام مالک رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی فقہ پر عمل کرنے والوں کو بالترتیب حنفی،شافعی ،مالکی،حنبلی مقلّدکہتے ہیں ۔ اجماع امّت کی رو سے جو شخص ان چاروں آئمہ میں سے کسی ایک کابھی مقلّدنہیں وہ گمراہ وبددین ہے ۔تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃکی تحریر ’’الفضل الموھبی ‘‘،المعروف رد  غیر مقلدین۔

[4]     دین میں نئی بات نکالنے والا ،بدعت کرنے والا

[5]     اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے ’’اکابرین دیوبند‘‘ رشیداحمد گنگوہی ، قاسم نانوتوی،خلیل احمد انبیٹھوی اور اشرف علی تھانوی علیہم ماعلیہم کو ان کی کفریہ عبارات پر مطلع فرمایااور ان سے توبہ نامہ شائع کرنے کا مطالبہ فرمایالیکن انھوں نے توبہ کرنے کے بجائے حسبِ سابق ان کفریہ عبارات پر مشتمل کتب کی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا،اعلیٰ حضرت رحمۃاللہ علیہ نے ہر علمی میدان میں ان کفریہ عبارات کو چیلنج کیا اور مقابلے کی دعوت دی لیکن ’’اکابرینِ دیوبند‘‘ کی طرف سے کسی قسم کی پیش رفت نہ ہوئی۔جن کتابوں میں یہ کفریہ عبارات شائع ہوئیں ان کے نام یہ ہیں (i)تحذیر النّاس(ii)براہینِ قاطعہ ،(iii)حفظ الایمان ۔یہ کتب آج بھی اسی طرح ان کفریہ عبارات کے ساتھ=



Total Pages: 29

Go To