Book Name:Aala Hazrat Say Sawal Jawab

فراست اور عقل کی بنیاد پر قرآن و حدیث کو سمجھنے اور اس سے مسائل استنباط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘، نتیجۃً ہر شخص دینی احکام کواپنی عقل کے تابع کرنے لگا، جس سے اُمّت میں  انتشارپیدا ہوا اور تفرقہ بازی کی ہوا چل نکلی،اس سلسلے میں مرکزی کردار مولوی اسماعیل دہلوی نے اداکیا، جس نے اپنی رسوائے زمانہ کتاب’’تقویۃ الایمان‘‘میں ترکِ تقلید کی ترغیب دی ۔قولاً اور فعلاًعوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ قرآن وحدیث سمجھنے کے لئے کوئی خاص علم درکار نہیں ۔اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   نے بروقت اس فتنہ کی سرکوبی فرمائی اور اپنی تحریر کے ذریعے مسلمانوں کو اس فرقۂ باطلہ سے خبردارکیا۔

            آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   نے ردِّ غیر مقلدین پرکئی رسائل تصانیف فرمائے۔جو سب کے سب اس موجیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ہیں جو اپنی زد میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دیتا ہے۔اس رضوی خنجر خوں خوار کے آگے جب غیر مقلّدین کو اپنی موت یقینی نظر آنے لگی تو انہوں نے اعلیٰ حضرت   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   کے خلاف انگریزی کورٹ میں مقدمہ کردیا،جب اس کیس کے سلسلے میں مزید پیش رفت ہوئی تو مجسٹریٹ کی جانب سے اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   کو کورٹ میں حاضر ہونے کے لئے کہا گیا۔چونکہ امامِ اہل سنّت،اعلیٰ حضرت   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   انگریزی گورنمنٹ کی کورٹس میں حاضر ہونا،خلافِ شرع سمجھتے تھے،اس لئے آپ وہاں نہ گئے،اس پر مجسٹریٹ کی نمائندہ ٹیم آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ، غیر مقلّدین اور دیگر عنوانات سے متعلق چند سوالات کیے۔آپ    رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   نے خوش اسلوبی سے اپنے مؤقف کا اظہار کیااورنہایت مختصر مگر جامع اندازمیں مدلل و مسکت جوابات ارشاد فرمائے۔

            سوال وجواب کے اس سلسلہ میں اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   نے اپنےلئے لفظ’’مُظْھِِرْ‘‘استعمال فرمایا ہے ۔ یہ رسالہ صرف امام اہل سنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   کے مبارک ملفوظات کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ بیش بہا معلومات کا خزانہ بھی ہے۔نیز دورانِ مطالعہ آپ پر یہ انکشافات حیرانگی کا باعث ہوں گے کہ غیر مقلّدین نے کس طرح اپنی خواہشات کے مطابق نہایت اہم کتب میں قطع و برید سے کام لیا ہے۔

            اَلْحَمْدُلِلّٰہ علٰی احسانہٖ!عالم اسلام میں مجلس:’’المدینۃالعلمیۃ‘‘ ہی کویہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس نے ا س رسالہ پر نہایت عرق ریزی اور باریک بینی سے تخریج و حواشی کا کا م پایۂ تکمیل تک پہنچایا،جس سے اسکی افادیت و اہمیت میں چارچاند لگ گئے ہیں ۔عوام النّاس کے لئے یہ رسالہ بالعموم اور اہلِ علم حضرات کے لئے بالخصوص اہمیت کا حامل ہے۔آپ کے ذوقِ مطالعہ کے معیار کا خیال کرتے ہوئے دورانِ کمپوزنگ کاماز،کالن،سیمی کالن اور بریکٹ وغیرہ بھی لگائے گئے ہیں ،نیز پروف ریڈنگ کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے،قارئین کی سہولت کے لئے قرآنی آیات واحادیث اور عربی عبارات کا ترجمہ اور مشکل الفاظ کے معانی و متعلقہ امور کو بھی حواشی میں لکھ دیا گیاہے تاکہ مکمل بات سمجھنے میں آسانی رہے۔نیز ان عبارتوں کے ساتھ ساتھ تخریج کا بھی اہتمام کیا گیاہے تاکہ علماء کرام کو اصل ماخذ سے رجوع کرنے میں اپنا قیمتی وقت صرف نہ کرنا پڑے ۔اس سلسلے میں حواشی و تخریج کی خدمات مولانا عبد الرشید ہمایوں المدنی اور مولانا محمد یونس علی عطاری المدنی نے انجام دی ہیں ، جبکہ مولانا عبدا لرّزاق العطاری المدنی نے اس پر نظر ثانی فرمائی ہے۔ علاوہ ازیں یہ رسالہ اس حوالے سے بھی امتیازی حیثیت کاحامل ہے کہ امیرِ      اہل سنّت،شیخِ طریقت،حضرت علامہ مولانا ابوبلال، محمّد الیاس عطار قادری، رضوی،ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے، امامِ اہل سنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے بذاتِ خود اس کا اردو نام’’اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   سے سوال،جواب‘‘تجویز فرمایاہے،جو یقینا اسم بامسمّٰی ہے۔یاد  رہے کہ ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘   کا قیام امیرِ اہل سنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہی کی انقلابی سوچ کا نتیجہ ہے۔جو’’دعوتِ اسلامی‘‘کی مرکزی مجلسِ شورٰ ی کے زیرِ اہتمام کا میابی سے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اسے روز افزوں ترقی نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

مجلس:المدینۃ العلمیۃ(شعبۂ کتب اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  )

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

نَحْمَدُہْ وَنُصّلّی عَلیٰ رَسُوْلِہِ الکریم ْ

نقل اظہار حضور پُرنور، مرشد برحق، امام اہلسنّت، مجدددین وملّت سید نا اعلیٰ حضرت مولانا شاہ عبدالمصطفیٰ احمدرضا خاں صاحب قبلہ فاضل بریلوی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   گواہ جانب مدعاعلیہم بمقدمہ نمبر ۲۸  ۱۹۰۲؁ء حاجی الٰہی بخش وغیرہ مدعیان بنام ابو البرکات وغیرہ مدعاعلیہم محکمہ صاحب جج بہادر شہرآرہ نسبت مسجد ڈومرادل ، منفصلہ ۱۷ جون  ۱۹۰۳؁ء جوبذریعہ بند کمیشن کے ہوا۔

مسمیٰ بنام تاریخی ’’إظہار الحق الجلي‘‘  ۲۰ ۱۳؁ ھ ۔

سوالاتِ چیف جانبِ مدعا علیہم مع جواب

سوال نمبر ۱ :۔ نام ،عمر ،سکونت ،پیشہ  ؟

جواب :۔مُظہِر ([1]) کانام مولوی حاجی احمد رضا خاں صاحب ولد حضرت مولانا مولوی نقی علی خاں صاحب ، عمر ۴۸ سال ،پیشہ زمینداری ۔

سوال نمبر ۲ :۔آپ تمام علوم دینیات سے پوری طور پر واقفیت رکھتے ہیں  ؟

جواب :۔میں آبا واجداد سے علوم دین کا خادم ہوں ۔چو ہتر(74 ) سال سے میرے  یہاں سے فتوٰی جاری ہے ۔تمام ہندوستان اور کشمیر اور برماسے مسائل کے سوالات آتے ہیں ۔ ابھی



[1]     بیان کرنے والا۔یہاں مراد اعلیٰ حضرت عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ الرَّحْمٰن ہیں ۔    



Total Pages: 29

Go To