Book Name:Aala Hazrat Say Sawal Jawab

سوال نمبر ۱۲۶:’’نور الانوار‘‘ جس کا بیان نمبر ۱۲۳میں ہوچکا ہے، اس کتاب میں عبارت ذیل درج ہے یا نہیں ؟ مادام أمکن العمل بالمعنٰی الحقیقي یسقط المجازي۔ یعنی ’’جب تک حقیقی معنٰی پر عمل ہوسکتا ہے مجازی معنٰی ساقط الاعتبار ہیں ‘‘۔

جواب :یہ مسئلہ تمام کتب اصول میں اسی تفصیل کے ساتھ ہے جومیں نے بیان کی اور ’’نورالا نوار‘‘ میں بھی اسی تفصیل سے ہوگا ۔

سوال نمبر ۱۲۷:اﷲتعالٰی فرماتا ہے{ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳)} ([1]) یعنی ’’رکوع کرنے والوں کیساتھ رکوع کرو‘‘۔ یعنی’’ نماز پڑھو نماز پڑھنے والوں کے ساتھ‘‘ ۔ یہ امر ہے یانہیں ، اور اس آیت میں نیک وبد کی قید ہے یا نہیں؟

جواب :یہ امر بھی وجوب کے واسطے نہیں ہے اور ’’راکعین‘‘ سے مراد صحابہ ہیں

رضی اﷲتعالٰی عنہم۔دیکھو’’ تفسیر جلالین‘‘([2])وغیرہ،اور صحابہ سب کے سب نیک تھے اور آیت سے جماعت کے ثبوت میں کلام ہے ۔دیکھو ’’معالم‘‘([3]) وغیرہ ۔

 سوال نمبر ۱۲۸:اﷲورسول اﷲجل جلالہ وصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے کلام میں بھی ایسی بات کا امرہوتا ہے یا نہیں جومکروہ یاحرام ہو،اگر ہوتا ہے تو اس کی کوئی مثال بیان فرمائیے،مگر جومثال بیان فرمائیے وہ ایسی مثال ہو جوواقعی امر ہو،نہ صرف صورتِ امر ؟

جواب :جوبات اصل میں حرام یامکروہ ہواور بحال ضرورت اس کی اجازت فرمائی جائے، تو کبھی وہ رخصت بصیغہ امرآتی ہے، جیسے فان عاد و اقعد ۔ اورکبھی وجوب تک بھی ہوتی ہے، جیسے مخمصہ میں حرام چیز سدر مو یہاں تک کہ نہ کھاتے اورمر جاتے تو حرام موت مرے ۔ دیکھو’’ رد المحتار‘‘([4]) وغیرہ ۔

سوال نمبر ۱۲۹:’’شرح عقائدنسفی‘‘ جس کا بیان، نمبر ۴۹میں ہوچکا ہے، اس میں عبارت ذیل درج ہے یا نہیں ؟

            ولأن علماء الأمۃ کانوا یصلّون خلف الفسقۃ وأھل الأھواء و البدع  یعنی’’ علمائے امت ،سارے کے سارے فاسقوں اور بدعتیوں کے پیچھے نماز پڑھتے تھے‘‘ ۔ 

جواب :’’شرح عقائد‘‘ میں یہ عبارت اس طرح نہیں ، بلکہ مجھ کو یقینایادہے کہ اس کے ساتھ فرمادیا ہے کہ فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز مکروہ ہونے میں کسی کوکلام نہیں ،اور یہ کہ فسق اور بدعت حدکفرتک پہنچی ہوں تو بالکل باطل ہے([5]) ۔

سوال نمبر ۱۳۰:علمائے امت جوفاسقوں اور بدعتیوں کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، ان کا یہ فعل مکروہ یا حرام تھا، یا نہیں ؟

جواب :’’شرح عقائد ‘‘سے نقل کردیا گیا کہ فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز مکروہ ہونے میں کسی کوکلام نہیں ،تو یقینایہ علماء بھی اسے مکروہ جانتے مگر سلطنت کی مجبوری سے پڑھتے ۔ مجبوری میں ممنوع تک کی رخصت مل جاتی ہے،اس تفصیل پر کہ’’ ہدایہ‘‘([6])اور’’درمختار‘‘ میں ہے۔

سوال نمبر ۱۳۱:’’شرح عقائد‘‘ کے ’’حاشیہ جلال‘‘ میں عبارت ذیل درج ہے یانہیں ؟

قولہٗ خلف کل بروفاجر إشار ۃ إلٰی أنھما سواء في الإمامۃ یعنی ’’یہ جو فرمایاہے کہ نیک وبدکے پیچھے،اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ نیک وبددونوں امام ہونے میں مساوی ہیں ۔

جواب :’’شرح عقائد‘‘ میری دیکھی ہوئی ہے اور’’ شرح عقائد نسفی‘‘ کے ساتھ ستر؍۷۰ شروح وحواشی میں نے دیکھے اوران میں کوئی ’’حاشیہ جلال‘‘ نہیں([7])ہاں ہندی چھاپے میں زید وعمر، کتاب پر حاشیہ چڑھادیتے ہیں ، اُن میں کوئی ہوتو مجھے معلوم نہیں ،نہ وہ قابل التفات، نہ عالَم میں کوئی عالمِ اس کاقائل کہ امامت کیلئے نیک و بدسب برابر ہیں۔ہاں ! فرض اتر جانے میں کہوتو ایک بات ہے جبکہ بدی حد کفر تک نہ ہو ۔

سوال نمبر ۱۳۲:عبارت ذیل’’ صحیح بخاری‘‘ میں درج ہے یانہیں ؟

            قال الحسن: صل (خلفہ) وعلیہ بدعتہ([8])یعنی’’ حضرت حسن بصری رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا: کہ تو مبتدع کے پیچھے نماز پڑ ھ لے اور مبتدع کی بدعت کا وبال خود ا س پر ہے‘‘۔

جواب: یہ قول بے سند’’بخاری‘‘ میں ہے او رجہاں تک مجھے یادہے یہاں ’’بخاری‘‘ نے جو حدیث نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم مع سند بیان کی، اس سے صاف وہی مطلب کھلتا ہے کہ یہ اس وقت ہے کہ جب فاسق و مبتدع بادشاہ ہویا اس کی طرف سے حاکم ہوا ہو ۔’’بخاری‘‘ نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ایساصرف ضرورت اورناچاری میں ہے ۔

سوال نمبر۱۳۳:عبداﷲبن عدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   حضرت عثمان بن عفان       رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   کے پاس اس حالت میں گئے کہ وہ گھِرے ہوئے تھے، یعنی جب کہ حضرت عثمان کو



[1]     پ۱، البقرۃ: ۴۳

[2]     تفسیر جلالین ، پ۱،البقرۃ:۴۳، ص۹،قدیمی کتب خانہ ،آرام باغ، کراچی

[3]     تفسیر البغوي المسمّی ’’معالم التنزیل‘‘،پ۱،البقرۃ :۴۳، ج۱، ص۳۷،دار الکتب العلمیّۃ،بیروت،لبنان

[4]     رد المحتار،                 

[5]     شرح العقائد النّسفي،مبحث تجوز الصلاۃ خلف کل بر وفاجز،ص ۱۶۱،قدیمی کتب خانہ، کراچی

[6]     الھدایۃ،کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،ج۱،ص

Total Pages: 29

Go To