Book Name:Aala Hazrat Say Sawal Jawab

اسلامی بھائی اور اسلامی بہن کو چاہیے کہ سرکارِ اعلٰیحضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی جُملہ تصانیف کا حسبِ استطاعت ضَرور مطالَعَہ کرے ۔

       اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘نیکی کی دعوت ،اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے، اِن تمام اُمور کو بحسنِ خوبی سر انجام دینے کے لئے متعدَّد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں سے ایک مجلس ’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘ بھی ہے جو  دعوتِ اسلامی کے عُلماء و مُفتیانِ کرام کَثَّرَ ھُمُ اللّٰہُ تعالٰی پر مشتمل ہے، جس نے خالص علمی، تحقیقی او راشاعتی کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس کے مندرجہ ذیل پانچ شعبے ہیں :

 (۱شعبۂ کتُبِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ           (۲شعبۂ درسی کُتُب  

(۳شعبۂ اصلاحی کُتُب                            (۴شعبۂ تراجمِ کتب

(۵شعبۂ تفتیشِ کُتُب

            المد ینۃ العلمیۃکی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلٰیحضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق حتّی الْوَسع سَہْل اُسلُوب میں پیش کرنا ہے ۔تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس عِلمی ،تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اورمجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِ س کی ترغیب دلائیں ۔

            اللہ عَزَّوَجَلَّ  ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بَشُمُول ’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘ کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اخلاص سے آراستہ فرماکر دونو ں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے۔ہمیں زیرِ گنبدِ خضرا شہادت،جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں مدفن نصیب فرمائے ۔

       اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

                                                             رمضان المبارک ۱۴۲۵ ھ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

پیش لفظ

اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت،عظیم البرکت، پروانۂ شمعِ رسالت، مجددِ دین و

ملت،الشّاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک ایسی شخصیت ہیں جو کسی تعارف  کی محتاج نہیں ، ایک ایسی جلیل القدر ہستی کہ جن کے فہم و فراست و علمی جلالت کو  اپنے تواپنے ،غیروں نے بھی تسلیم کیا۔

            ایسی یگانۂ روزگار ہستی کہ جسے تقریبا پچپن(۵۵) سے زائد علوم پر مکمل دسترس حاصل تھی، کسی بھی شعبہ ہائے زندگی خواہ تحریری ہو یا تقریری، علمی ہو یا ادبی، اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی شخصیت نہ صرف یہ کہ دنیائے سنّیت کے لئے مشعل راہ ہے بلکہ غیروں اور بدمذہبوں کے لئے ہدایت کے ایک روشن منارے کی حیثیت رکھتی ہے۔

اعلیٰ حضرت تقریبا ایک ہزار سے زائد کتب کے مصنف بھی ہیں ، ان کے افکار و خیالات نے جب کبھی الفاظ کا جامہ پہنا ان کے قلم نورِ فزا  نے علم و ادب کی روش پر ایسے خوشنما و خوش رنگ گل بوٹے کھلادیئے ہیں کہ جن کی مہک سے کل عالم تاابد معطر رہے گا۔

            جب یہ نور برساتا قلم شاعری کی راہ پر گامزن ہوتا ہے تو ’’حدائق بخشش‘‘ کے نام سے ایک ایسا دیوان ترتیب پاتا ہے جس کا ہرہر شعر اپنے اندر عشقِ رسول اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا گنجینہ لئے ہوئے ہے۔

            جب اسی قلمِ نورسے افتاء نویسی کاکام ہوتا ہے تو ’’فتاوٰی رضویہ‘‘ کے نام سے بارہ(تخریج شدہ ۲۷) جلدوں میں گویا مسائلِ دینیہ کا ایک عظیم سمندرگویا کوزے میں بند ہوتا محسوس ہوتا ہے۔

            اور جب یہی قلم پُر نور   ترجمۂ قرآن کا عزم باندھتا ہے توگویا کوثر و تسنیم میں دُھلا ہوا ایک ایسا شاہکار  ترجمہ ’’کنزالایمان‘‘ کے نام سے ترا جمِ قرآن کے اُفق پر اُبھرتا ہے جو نہ صرف حقیقی معنٰی میں ایمان کا کنز(خزانہ) ہے بلکہ مقامِ الوہیت  و  رسالت کا بہترین محافظ بھی ہے۔

            اور جب یہی کلکِ رضا خنجرِ خونخوار، برق بار بن کر گستاخان و شاتمان رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے تعاقب میں چلتا ہے تو دشمنوں کے سینوں میں گہرا غار ڈال کر چھوڑتا ہے۔

            زیرِ نظررسالہ’’إظھار الحق الجلي‘‘(اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سوال جواب)درحقیقت غیر مقلّدین کے رد سے متعلق ہے،پوری امّت مسلمہ کا اس بات پر ’’اجماع‘‘ہے کہ’’تقلیدضروریاتِ دین میں سے ہے‘‘، اور ہرعام مسلمان کا مقلّد ہونا نہایت ضروری بلکہ واجب ہے،اورتمام مسلمان کم و بیش ایک ہزار سال سے بھی زائد عرصے سے تقلید کے قائل چلے آرہے ہیں ،اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے زمانہ میں ایک ایسے فتنے نے سراُٹھانا شروع کیا جوخود کو’’اہل حدیث‘‘کہتے تھے،اس فرقے نے تقلیدکاانکارکیااور عوام میں اس بات کا پرچارکیاکہ’’ قرآن و حدیث سمجھنے اوراس پر عمل کرنے کے لئے کسی امام یا مجتہد کی تقلیدضروری نہیں ، کیونکہ اللہ تعالٰی نے ہر انسان کو عقل سے نوازا ہے اور وہ اپنی فہم و



Total Pages: 29

Go To