Book Name:Qurbani Kiyon Kartay Hain

اور مَنْفَعَت کی نیت نہ ہونے کی صورت میں مکروہِ تنزیہی اور اگر مَنْفَعَت کی نیت ہے تو مکروہِ تنزیہی بھی نہیں ہے مثلاً اس نیت سے جانور کے گلےمیں گھنٹی باندھی کہ سفر میں گھنٹی کی آواز جانور کی چُستی بڑھائے گی اور وہ جلدی بھاگے گا تو اس فائدے کو حاصل کرنے کے لیے گھنٹی باندھنا مکروہ نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر اس لیے جانوروں کے گلے میں گھنٹی باندھی کہ بھیڑیا وغیرہ جو جانور حملہ کرنے آئے گا وہ گھنٹی کی آواز سے بھاگے گا اور یوں جانوروں کی حفاظت ہو گی تو یہ بھی ایک دُرُست نیت ہے ۔ یوں ہی اگر اس لیے گھنٹی باندھی کہ یہ نیند دُور کرتی ہے اور اس سے سفر میں جانور کی نیند بھی دُور ہو گی اور جو اس پر سُوار ہے اس کی بھی نیند دُور ہو گی تو اس نیت سے بھی گھنٹی باندھی جا سکتی ہے ۔

جانوروں کے گلے میں گھنٹی اور پاؤں میں گھنگرو باندھنے کے فَوائد

                             جانوروں کے گلے میں گھنٹی یا پاؤں میں گھنگرو باندھ کر دِیگر فَوائد بھی حاصِل کیے جاسکتے  ہیں مثلاً جانور گُم ہو گیا یا رَسّی توڑ کر بھاگا تو پتا چل جائے گا کہ جانور بھاگا ہے اور کہاں پہنچا ہے؟یا پھر چوروں کا خوف ہے کہ جانور کو چور لے جائے گا تو جانور کے چلنے سے گھنٹی کی آواز آئے گی جس کے باعِث سوئے ہوئے اَفراد جاگ کر چور کو پکڑ لیں گے اور اپنے جانور کو بچا سکیں گے تو ان سب فوائد کو پانے کے لیے جانور کے گلے میں گھنٹی اور پاؤں میں گھنگرو باندھنا  جائز ہے ۔

کم عمر فربہ جانور کی قربانی کا حکم

سُوال : اگر بڑا جانورڈیڑھ سال کا ہو مگر دور سے دیکھنے میں دو سال کا لگے تو کیا اس کی قربانی ہو جائے گی؟

جواب : بڑے جانور(گائے ، بھینس) کی عمر دو سال ہونا ضَروری ہے اگر دوسا ل میں ایک دِن بھی کم ہوگا تو قربانی نہیں ہو گی ۔ البتہ دُنبہ دُنبی یا بھیڑ جس کو انگریزی میں Sheep بولتے ہیں یہ اگر چھ مہینے کا بچہ ہے اور دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہے تو اس کی قربانی جائز ہے ، مگر بکرے اور بکری میں ایسا نہیں ہو گا یہ رِعایت صرف Sheep میں ہے اور یہ بھی صرف اس وقت ہے جب چھ ، سات یا آٹھ ماہ کا بچہ اتنا فربہ اور جاندار ہو کہ سال بھر کا لگے ورنہ اس کی بھی قربانی نہیں ہو گی یعنی اب چاہے چھ ، سات یا آٹھ ماہ کا ہو مگر کمزور ہو اور بچہ ہی لگتا ہو اس کی قربانی نہیں ہوگی البتہ پورے سال بھر کا ہونےکے بعد بھی بچہ لگتا ہو تو کوئی حرج نہیں قربانی ہو جائے گی بشرطیکہ اس میں کوئی اور نقص نہ ہو۔

(در مختار ، کتاب الاضحیۃ ، 9 / 533ماخوذا)

جتنے اَفراد پر قربانی واجِب ہو ان سب کو قربانی کرنا ہو گی

سُوال : گھر میں چھ اَفراد ہیں جن پر قربانی واجِب ہے اگر ان سب کی طرف سے دو یا تین قربانیاں کر دی جائیں توکیا کافی ہوں گی یا چھ قربانیاں ہی کرنا ہوں گی؟

جواب : چھ قربانیاں کرنا ہوں گی ۔ بعض لوگ پورے گھر کی طرف سے صرف ایک بکرا قربان کر دیتے ہیں اس طرح کسی کی بھی قربانی نہیں ہوتی ۔ ایک بکرے میں ایک سے زیادہ حصے نہیں ہو سکتے ۔ ایسے موقع پر بڑا جانور لے لیا جائے تو وہ سات اَفراد کی طرف سے قربان کیا جا سکتا ہے ۔



Total Pages: 6

Go To