Book Name:Qurbani Kiyon Kartay Hain

بھى ہوتا جیسا کہ کوئی اِس لىے پوچھ رہا ہے تاکہ اُسے یہ پتا چل جائے کہ آج کل جانور کا کیا بھاؤ چل رہا ہے اور اس طرح کا جانور کتنے کا ملتا ہے؟کیونکہ اس نے بھی جانور لینے کے لیے منڈى جانا ہے تو ىہ اچھى نىت سے پوچھنا ہے اور اگر وىسے ہى پوچھتا ہے جیسا کہ لوگ تَجَسُّس کے طور پر پوچھتے ہىں تو یہ فضول پوچھنا ہوا اور فضول باتوں سے بچنا اچھا ہے لىکن یہ پوچھنا اب بھی گناہ نہیں ہے لہٰذا اگر کسی نے آپ سے جانور کا بھاؤ پوچھ لىا تو آپ اس کا دِل خوش کرنے کى نىت سے اُسے صحىح صحىح بتا دیجیے اس کا دِل خوش ہو جائے گا ، نہىں بتائىں گے تو اس کا دِل ٹوٹے گا البتہ پوچھنے والوں کو بھی چاہىے کہ وہ بِلا ضَرورت نہ پوچھیں۔

کس جانور کی قربانی باعثِ فضیلت ہے؟

سُوال : میں نے دو دُنبے پالے تھے اور میری نیت یہ تھی کہ میں ان کو بیچ کر بڑا جانور خریدوں گا لیکن اب میرا دِل یہ کر رہا ہے کہ میں ان کو ہی ذَبح کر دوں آپ میری راہ نمائی کیجیے کہ ان دونوں میں سے کون سی چیز میرے لیے بہتر ہے؟    (کراچی کے ایک اسلامی بھائی کا سُوال)

جواب : قربانی کے جانور کی نیّت کے (کچھ )مَسائل (یعنی شرعی احکام )ہیں ، غریب کے لیے الگ مسئلہ ہے او رمالدار کے لیے الگ ۔ اگر ان جانوروں کی قربانی کی نیت نہیں کی تھی تو انہیں بیچنے میں حرج نہیں ، آپ کی مَرضی ہے ان کو بیچ کر بڑا جانور لیں یا نہ لیں ۔ ہاں! اس میں بہتر کیا ہے تو اس حوالے سے عرض ہے کہ بندہ جو جانور خود پالتا ہے اس سے اُنسیت ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات جانور سے اَولاد کی طرح پیار ہوجاتا ہے ، اسے ذَبح کرنا نفس پر گِراں گزرتا ہے اور دِل پر ایک صَدمے کی کیفیت ہوتی ہے یوں اسی پالتو جانور کو ذَبح کرنے میں زیادہ فضیلت نظر آرہی ہے ۔ اگر اسے بیچ دیا جائے گا تو یہ کیفیت نہیں ہوگی کہ نظروں سے اوجھل ہوگیا اب کٹے یا کچھ بھی ہو اتنا محسوس نہیں ہو گا ۔ نیز ا س کو بیچ کر دوسرا  جانور لیا جائے تو اس سے زیادہ اُنسیت اور پیار نہیں ہوگا اور اس کو کاٹنے سے نفس پر اتنا بوجھ بھی نہیں ہو گا لہٰذا جو جانور خود پالا ہے اسی کو ذَبح کرے ۔

فوت شدہ والدین کے نام کی قربانی کرنے کا حکم

سُوال : اگر والدین کا اِنتقال ہوچکا ہو اور انہوں نے زندگی میں کبھی بھی قربانی نہ کی ہو تو کیا اَولاد ان کے نام کی قربانی کر سکتی ہے؟

جواب : جی ہاں! اِیصالِ ثواب کے لیے قربانی ہو سکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں نیز والدین کی طرف سے قربانی کرنی چاہیے یہ اچھی بات ہے ۔ والدین زندگی میں قربانی کرتے تھے یا نہیں یا 100 ، 100 بکرے زندگی میں ذَبح کرتے تھے تب بھی اِیصالِ ثواب کے لیے قربانی کرنے میں حرج نہیں ۔ نیز زندہ کے اِیصالِ ثواب کے لیے بھی قربانی ہوسکتی ہے ۔

کیا قربانی کے جانور کو نہلایا جاسکتا ہے؟

سُوال : کیا قربانی کے جانور کو نہلایا جاسکتا ہے؟

جواب : جی ہاں! قربانی کے جانور کو نہلایا جاسکتا ہے جبکہ ضَرورت ہو ۔

کیا قربانی کی بھی قضا ہوتی ہے؟

سُوال : ایک سال کی قربانی رہ جائے تو کیا یہ قربانی دوسرے سال کرسکتے ہیں؟ جیسے اس مرتبہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں تو قربانی میرے لیے معاف ہےیا کرنا ہوگی؟

جواب : قربانی کے دِن گزر گئے اور (واجب ہونے کی صورت میں)قربانی نہیں کی نہ جانور اور اس کی قیمت صَدقہ کی یہاں تک کہ دوسری بقرہ عید آگئی اور اب یہ چاہتا ہے کہ گزشتہ سال کی قربانی کی قضا اس سال کرلے تو یہ نہیں ہو سکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اس کی قیمت صَدقہ کرے۔ ( فتاویٰ ہندیہ ، 5 / 297-296)

قربانی واجب ہو مگر رَقم نہ ہو تو کیا کرے؟

سُوال : اگر قربانی کی شرائط پائی جائیں لیکن پیسے نہ ہوں یا قربانی واجب ہی نہ ہو تو کیا پھر بھی قربانی کا حکم ہو گا؟ (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : اگر قربانی واجب ہو مگر پیسے نہ ہوں تو اُدھار لے کر بھی قربانی کر سکتا ہے یا پھر کوئی ایسی چیز بیچ کر رَقم حاصل کر لے جس سے جانور خرید سکے ۔ یاد رَکھیے! قربانی کے لیے ضَروری نہیں کہ ڈھائی لاکھ والا جانور ہی لایا جائے بلکہ حصہ بھی ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ زیادہ مہنگا نہیں ہوتا ۔ بہرحال قربانی واجب ہو تو کرنا ضَروری ہے اگر جان بوجھ کر نہ کی تو بندہ گناہ گار ہوگا ۔ ہاں! اگر قربانی واجب ہی نہیں تھی اور اس کے وجوب کی شرائط بھی نہیں پائی گئی تھیں اس وجہ سے قربانی نہ کی تو یہ کوئی گناہ کا کام نہیں ہے کیونکہ قربانی واجب ہی نہیں تھی ۔

قربانی کے جانور کے گلے میں گھنٹی اور پاؤں میں گھنگرو باندھنے کا حکم

سُوال : قربانی کے جانور کے گلے میں گھنٹی اور پاؤں میں گھنگرو باندھنا کیسا ہے ؟

جواب : قربانی کا جانور ہو یا بغیرقربانی کا ، اس کے گلے میں گھنٹی اور پاؤں میں گھنگرو باندھنا اگر بغیر کسی ضرورت کے ہو تو مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے ۔

                                                جانور کے گلے میں گھنٹی یا پاؤں میں گھنگرو باندھنے سے متعلق دار الافتا اہلِ سنَّت کا بڑا پیارا اور تحقیقی فتویٰ یہ ہے کہ “ جانوروں کی گردن میں گھنٹی یا پاؤں میں گھنگرو باندھنے سے اگر کوئی مَنْفَعَت یعنی فائدہ ہے تو دَارُ الْاِسْلَام میں بلاکراہت جائز اور اگر کوئی مَنْفَعَت نہیں تو  مکروہ ِتنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے مگر جائز اب بھی ہے ۔ “ یاد رہے! قربانیوں کی رونقیں دَارُ الْاِسْلَام میں ہوتی ہیں تو یہ مسئلہ بھی دَارُ الْاِسْلَام کے متعلق ہے جبکہ دَارُ الْحَرْب کی الگ صورتیں ہیں ۔ اَلحمدُلِلّٰہ! پاکستان دَارُ الْاِسْلَام ہے اور اس کے علاوہ بھی بے شمار مَمالک دَارُ الْاِسْلَام ہیں اگر چہ اُن میں بھاری تعداد کفار کی ہوتی ہے مگر وہ دَارُ الْاِسْلَام کی تعریف میں آتے ہیں ۔ بہرحال ہمارے یہاں جانوروں کے گلے میں جو گھنٹی باندھی جاتی ہے و ہ جائز ہے



Total Pages: 6

Go To