Book Name:Qurbani Kiyon Kartay Hain

ملتی ہے ۔ نیز دارُ الافتا اہلسنَّت کی طرف سے “ اِجتماعى قربانى کے مَدَنی پھول “ کے نام سے ایک رِسالہ بھی شائع کیا جا چکا ہے ۔

اُدھار لے کر قربانی کرنا کیسا؟

سُوال : اگرکسی کے پاس پىسے نہ ہوں توکیا وہ اُدھار لے کر قربانى کرسکتا ہے ؟

جواب : اگر قربانى واجب ہے اور پىسے چُھٹّے نہىں ہىں کاروبار مىں لگے ہوئے ہىں ىا کوئى مال خریدا ہوا ہے جسے بىچنا نہیں چاہتے تو اب اگر کسی سے پیسے اُدھار لے کر قربانى کر لى تو حرج نہىں ہے ۔ البتہ اگر قربانى واجب نہىں ہے تو ظاہر ہے اُدھار لے کر قربانى کرنا ضرورى نہىں ہے لیکن اگر قربانى کى تو ثواب ملے گا مگر اىسا کرنا بڑا رسک ہے کہ پھر قرضہ اُترے گا نہىں اور یوں لڑائى جھگڑوں کے مسائل بھی ہو سکتے ہىں لہٰذا میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر قربانی واجب نہ ہو تو صرف قربانى کرنے کے لىے قرضہ نہ لىا جائے ۔

مُحَرَّمُ الحَرام میں قربانی کا گوشت کھا سکتے ہیں؟

سُوال : کیا قربانی کا گوشت عیدُ الْاَضحیٰ گزرنے کے بعد بھی کھایا جا سکتا ہے ؟ نیز بعض لوگ کہتے ہیں کہ مُحَرَّمُ الحَرام کا چاند نظر آجائے تو گھر میں گوشت نہیں پکانا چاہیے اور قربانی کا گوشت بھی یکم مُحَرَّمُ الحَرام سے پہلے پہلے ختم کر لینا چاہیے ۔ آپ اس حوالے سے ہماری راہنمائی فرما دیجیے ۔

جواب : قربانی کا گوشت اگر کوئی سال بھر تک کھانا چاہے تو کھا سکتا ہے یہ جائز ہے ۔ مُحَرَّمُ الحَرام میں بھی قربانی کا گوشت اور اس کے علاوہ جانور ذَبح کر کے اس کا گوشت بھی کھایا  جا سکتا ہے ۔

قربانی کے جانور کے گوشت کے تین حصّے کرنا

سُوال : قربانی کے جانور کے گوشت کے تین حصّے کیے جاتے ہیں ، کیا شریعت میں اِس کی کوئی دَلیل ہے ؟

جواب : بہارِ شریعت کے پندرھویں حِصّے میں قربانی کے مَسائل لکھے ہوئے ہیں ، اس میں قربانی کے جانور کے گوشت کے تین حصّے کرنے کو مُسْتَحَب لکھا ہے مثلاً بکرا ہے تو اس کے تین حصّے کر لیے جائیں ، ایک حصّہ قربانی کرنے والا اپنے اِستعمال میں رکھے ، ایک حصّہ رِشتہ داروں میں تقسیم کر دے اور ایک حصّہ غریبوں میں بانٹ دے تو یہ مُسْتَحَب ہے۔ (بہارشریعت ،  3 / 344 ، حصہ : 15۔ فتاویٰ ہندیہ ، 5 / 300) اگر پورابکرا خود رکھ لیا یا پورا بکرا بانٹ دیا یا پورا بکرا ایک ساتھ کسی کو اُٹھا کر دے دیا تو یہ سب صورتیں بھی جائز ہیں ۔

قربانی کس پر واجب ہے ؟

سُوال : گھر میں دو کمانے والے ہیں جو تقریباً 20ہزار تک کماتے ہیں کیا ان پر قربانی واجب ہوگی؟

جواب : 20 ، 30 ہزار کمانے کا مسئلہ نہیں ہے اِس طر ح تو لوگ ایک لاکھ بھی کماتے ہوں گے اور پوری کی پوری رقم خرچ ہو جاتی ہو گی ۔ کوئی 10 ہزار میں گزارہ کرلیتا ہوگا اور کسی کا دس لاکھ میں بھی گزارہ مشکل  سے ہوتا ہوگا ، کسی کے پاس آج کا کھانا ہوگا تو کل کا نہیں ہو گا ، کل کا ہوگا تو پرسوں کا نہیں ہوگا لہٰذاکتنا کماتا ہے یہ بنیاد نہیں ہے بلکہ بنیاد یہ ہے کہ  10ذُو الْحِجَّۃِ  الْحَرام کی صبحِ صادق (سے لے کر 12 ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرام کے غروبِ آفتاب تک)کے وقت میں جو غنی ہو یعنی ضَروریات کے علاوہ اس کے پاس نصاب([1])کے برابر رقم وغیرہ موجود ہو اور قرض میں گِھرا ہوا بھی نہ ہو تو قربانی واجب ہو گی۔ ([2])

قربانی کے جانور کی قیمت بتانا مناسِب ہے یا خاموشی اِختیار کرنا؟

سُوال : جب ہم قربانی کے لیے کوئی جانور مثلاً گائے ىا بکرا خرید کر لاتے ہیں تو اکثر لوگ بار بار یہ سُوال پوچھتے ہىں کہ کتنے کا لائے ہو ؟ ایسی صورت میں قیمت بتانا مناسِب ہے یا خاموشی اِختیار کرنا کیونکہ قیمت بتانے میں اپنی بڑائی کا پہلو بھی نکلتا ہے کہ میں تو پچھتر ہزار (75000) کا  لایا  یا میں تو دو لاکھ(200000) کا لایا وغیرہ ؟

جواب : ظاہر ہے کہ اگر کوئى جانور کی قیمت پوچھے گا اور آپ اسے کہیں گے کہ مىں نہىں بتاتا تو اس کا دِل ٹوٹے گا اور اُسے بُرا لگے گا اس لیےکوئی پوچھے تو قیمت بتا دیجیے ۔ آپ کو بھی تو جانور لے کر گھومنے کا شوق ہے ، جب آپ اپنا شوق پورا کر رہے ہىں ، جانور کو لا کر اپنے دَروازے کے آگے باندھ رہے ہیں ، اسے پھولوں کے گجرے اور ہار ڈال رہے ہىں اور اُسے سجا کر رکھ رہے ہیں تو جب اتنى نمائش آپ خود کروا ہى رہے ہىں تو پھر لوگ پوچھىں گے ہی کہ کتنے کا لىا ہے؟اگر آپ جانور کی نمائش نہ کرىں اور اسے چھپا کر رکھىں تو اتنے لوگوں کو پتا نہىں چلے گا اور پھر کم لوگ پوچھىں گے یا پھر ىہ پوچھىں گے کہ آپ نے قربانى کے لىے جانور لىا ہے ىا نہىں ؟ اگر آپ ہاں بولیں گے تو پوچھیں گے : کتنے مىں آىا؟ اور اگر بولیں گے : ابھى تک نہىں لىا ، تو پوچھىں گے : کتنے تک لىنے کا اِرادہ ہے؟ بہرحال عوام نے پوچھنا ہی ہے ۔ اب یہ پوچھنا بعض اوقات فضول ہوتا ہے اور بعض اوقات فضول نہىں



[1]قربانی کا نصاب ىہ ہے کہ ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے 52تولہ چاندى ہو ىا ساڑھے 52 تولہ چاندى کے برابر رقم ہو ىا بىچنے کا اتنا سامان ہو جو ساڑھے 52 تولہ چاندى کى رقم کو پہنچ جائے ىا گھر مىں ضرورت کے علاوہ اتنا سامان رکھا ہے جو ساڑھے 52 تولہ چاندى کى رقم کو پہنچ جاتا ہے ىا ىہ سب ملا کر ساڑھے 52 تولہ چاند ى کى رقم کو پہنچ جائیں تو اس صورت میں قربانى واجب ہو جائے گى ۔ ( فتاویٰ ہندیہ ، 5 / 292- بہارِ شریعت ، 3 / 333 ، حصہ : 15)  

[2]یہ ضَرورنہیں کہ دَسویں ہی کو قربانی کر ڈالے ، اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وَقت میں جب چاہے کرے لہٰذا اگر اِبتدائے وَقت میں (10 ذُوالْحِجَّہ کی صبح )اس کا اَہل نہ تھا وُجُوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے اور آخر وَقت میں (یعنی12 ذُوالْحِجَّہ کو غروبِ آفتاب سے پہلے ) اَہل ہوگیا یعنی وُجُوب کے شرائط پائے گئے تو اُس پر واجِب ہو گئی اور اگر اِبتدائے وَقت میں واجِب تھی اور ابھی(قربانی ) کی نہیں اور آخر وَقت میں شرائط جاتے رہے تو (قربانی )واجِب نہ رہی ۔ (بہارِ شریعت ، 3 / 334 ، حصہ : 15) 



Total Pages: 6

Go To