Book Name:Qurbani Kiyon Kartay Hain

نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے عِوض آخرت میں ملنے والے عظیم ثواب پر نظر رکھی جائے ۔ اگر کسی کے گھر میں دوسرے یا تیسرے دن دَعوت ہوتی ہے اس وجہ سے وہ پہلے دِن قربانی نہیں کرتا تو اُسے چاہیے کہ پہلے دِن قربانی کرکے اس کا گوشت فریج میں رکھ دے اور اگلے دن دَعوت میں اِستعمال کر لے کیونکہ ایک دو دِن میں گوشت کے ذائقے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔ فقط لذّتِ نفس کے لیے پہلے دِن قربانی کے عظیم ثواب سے محروم ہو جانا دانش مندی نہیں بلکہ محرومی ہے ۔ جس طرح تاجِر مال کے نفع پر نظر رکھتا ہے اِسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال کے نفع سے زیادہ نیکیوں کے نفع پر نظر رکھے اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا رہے ۔

شکنجے میں جکڑ کر جانور ذَبح کرنا کیسا؟

سُوال : یورپین (European ) ممالک میں چھوٹے جانور کو ذَبح کرنے کے لیے مخصوص شکنجے میں جکڑا جاتا ہے تاکہ رَسیوں سے باندھنے اور پکڑنے کی مشقت سے بچا جا سکے ، ایسا کرنا کیسا ہے ؟

جواب : بکرے اور دُنبے وغیرہ کو مخصوص شکنجے میں جکڑ کر ذَبح کرنے میں اور تو کوئی حَرج نہیں لیکن ایک سُنَّت تَرک ہو جاتی ہے وہ یہ کہ ذَبْح کرنے والا اپنا دایاں (یعنی سیدھا) پاؤں جانور کی گردن کے دائیں (یعنی سیدھے ) حصّے (یعنی گردن کے قریب پہلو) پر رکھے اور ذَبْح کرے ۔ اَلبتہ اس شکنجے کے ذَریعے جکڑنے میں ایک فائدہ بھی ہے کہ جانور کئی غیرضَروری تکالیف سے بچ جاتا ہے مثلاً بعض لوگ بکرے کو اُٹھا کر پٹختے ہیں یا پتھریلی زمین پر گراتے ہیں جو یقیناً بِلاوجہ کی اِیذا ہے لیکن اِس مخصوص شکنجے کے ذَریعے لٹانے میں یہ دونوں تکالیف نہیں ہوں گی ۔ نیز اِس شکنجے کی ہیئت ایسی ہے کہ جانور کو لٹا کر پیٹ سے جکڑ لیا جاتا ہے اور پاؤں آزاد ہوتے ہیں تو یہ طبی لحاظ سے بھی اچھا ہے اس لیے کہ جانور جتنا زیادہ ہاتھ پاؤں مارے گا اتنا ہی مُضِر صحت خون بہہ جائے گا ۔ بہرحال شکنجے میں کَس کر ذَبح کریں یا رَسیوں سے باندھ کر ، جانور کو بے جا تکلیف دینے کی ہرگز اِجازت نہیں ۔ جو لوگ بکرے کی گردن چٹخا دیتے ہیں یا بڑے جانور کی چھرا گھونپ کر دِل کی رَگیں کاٹ دیتے ہیں یا ذَبح کرتے ہوئے ہڈی پر چھری مارتے ہیں تو انہیں اس سے بچنا ضَروری ہے ۔ خُدا ناخواستہ مَرنے کے بعد یہی جانور مسلط کر دیا گیا تو پھر کیا بنے گا؟

قربانی کے جانور کے بال اور اُوْن وغیرہ کاٹنا کیسا؟

سُوال : قربانی کے بعض جانوروں کے جسم پر بہت بڑے بڑے بال ہوتے ہیں ، انہیں ذَبح کرتے وقت اگر دُشواری ہو رہی ہو تو کیا ان بالوں کو کاٹ سکتے ہیں؟ اگر کسی نے وہ بال کاٹ دیئے تو ان بالوں کا کیا حکم ہے ؟

جواب : قربانی کے جانور کے بال اور اُون وغیرہ کاٹنا مکروہ ہے ۔ اگر کسی نے بال یا اُون وغیرہ کاٹ دی تو ان چیزوں کونہ تو وہ اپنے اِستعمال مىں لا سکتا ہے اور نہ ہی کسى غنى کو دے سکتا ہے بلکہ ان بالوں اور اُون وغیرہ کو کسی شَرعی فقىر پر صَدَقہ کرنا ہو گا ۔ رہی بات ذَبح کے وقت دُشواری پیش آنے کی تو اس کے لیے پورے بَدن کے بال کاٹنا تو دُور کی بات گلے کے بال کاٹنے کی بھی ضَرورت نہیں بلکہ گلے پر پانی وغیرہ ڈال کر جگہ بنائی جا سکتی ہے ۔

بے وضو یا بے نمازی کا ذبیحہ

سُوال : قَصّاب عموماً بے وُضو ، بے نمازی اور داڑھی منڈے ہوتے ہیں تو کیا ان سے جانور ذَبح کروانا دُرُست ہے ؟ نیز جانور کو ذَبح کرنے کے چند مَدَنی پھول بھی بیان فرما دیجیے ۔

جواب : جانور ذَبح کرنے کے لیے باوُضو ، نمازی اور داڑھی والا ہونا شَرط نہیں لہٰذا اگر داڑھی مُنڈے ، بے وُضو اوربے نمازی شخص نے بھی جانور ذَبح کیا تب بھی جانور حَلال ہو جائے گا ۔ * ذابح (یعنی ذَبح کرنے والے ) کا مَرد ہونا بھی شَرط نہیں ، عورت یا سمجھ دار بچہ بھی ذَبح کر سکتے ہیں اَلبتہ جو بھی ذَبح کرے اُسے ذَبح کے وقت اللہ کا نام لینا ضَروری ہے ۔ ( درمختار مع ردالمحتار ، 9 / 496 ماخوذا)*  اگر کسی نے جان بوجھ کر اللہ کا نام چھوڑ دیا مثلاً دو آدمی مِل کر ذَبح کر رہے تھے ، ایک نے یہ سوچ کراللہ کا نام نہ لیا کہ دوسرے نے کہہ دیا ہے میرا کہنا ضَروری نہیں تو جانور مُردار ہو جائے گا ۔ (درمختار مع ردالمحتار ، 9 / 499) * ذَبح کے وقت “ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَر “ کے اَلفاظ کہنا بہتر ہے ، شَرط نہیں لہٰذا اگر کسی نے فقط لفظ “ اللہ “ کہہ کر چھری چلا دی تب بھی جانور حَلال ہو جائے گا۔ ( فتاویٰ ہندیہ ، 5 / 285) *  اگر بھولنے کے سبب اللہ کا نام نہ لیا تب بھی جانور حَلال ہو جائے گا ۔ (ہدايہ ، 2 / 347)

اِجتماعی قربانی کی اِحتیاطیں

سُوال : اِجتماعى قربانى کرنے والوں پر کىا کىا شَرعى ذِمَّہ دارىاں بنتی ہىں؟

جواب : اِجتماعى قربانى کے مَسائل بہت پىچىدہ اور مشکل ہىں لہٰذا اِجتماعی قربانی کرنےوالوں کے لیے لازِم ہے کہ وہ اِس سے متعلقہ ضَروری مَسائِل سیکھیں یا پھر عُلَمائے کِرام کی مکمل رہنمائی میں ہی قربانی کریں ۔ بَدقسمتی سے لوگوں نے اِجتماعی قربانی کو ایک کاروبار بنا لیا ہے ، بعض اِدارے بھی عُلَمائے کِرام کی راہ نُمائی لیے بغیر اِجتماعی قربانی کرتے ہیں اور کھلم کُھلا غَلَطیاں کرکے لوگوں کی قربانیاں ضائع کر بیٹھتے ہوں گے ۔ ہر ایک کو عذابِ آخرت سے ڈرنا چاہیے اور شَرعی تقاضے پورے ہونے کی صورت میں ہی اِجتماعی قربانی میں ہاتھ ڈالنا چاہیے ۔ عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامى مىں اِجتماعى قربانى دارُالافتا اہلسنَّت کى مکمل راہ نُمائى مىں ہی ہوتی ہے ۔ مُلک اور بیرونِ ملک اِجتماعی قربانی کا اِرادہ رکھنے والے ذِمَّہ داران کی پہلے تَربِیَت ہوتی ہے ۔ پھر تَربیتی نشست میں شِرکت کرنے والوں کا اِمتحان ہوتا ہے اور جو اِمتحان میں کامیابی حاصِل کرتے ہیں تو انہیں ہی مَدَنی مَرکز کی طرف سے اِجتماعی قربانی کی اِجازت



Total Pages: 6

Go To